نون لیگ کے مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں کی جنگ تیز


مسلم لیگ نوازکے مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں کے مابین جاری اندرونی کشمکش نواز شریف کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافے پر دیے جانے والے سخت ترین ردعمل سے ابھرکرسامنے آ گئی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے غیر منتخب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے آئی ایم ایف کو مزید خوش کرنے کے لیے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے سے زائد اضافے کا فیصلہ سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دیا ہے۔ کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار مریم نواز نے بھی کیا ہے جنہوں نے پچھلے دنوں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اب پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ مسلسل کمی ہوگی۔ اس تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے جس کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ شہباز حکومت پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں کم از کم 18 روپے کمی کا اعلان کرے گی۔ لیکن پھر اچانک مفتاح اسماعیل کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا گیا۔ ان کا اصرار ہے کہ موجودہ اضافہ ناگزیر تھا تاکہ آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ لیکن اس فیصلے کے بعد ن لیگ کے قائد نے ایک طرح سے اپنے چھوٹے بھائی کی حکومت اور ان کے وزیر خزانہ پر کھلم کھلا اظہار عدم اعتماد کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرول کی قیمت کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں نون لیگ لندن اور نون لیگ اسلام آباد کی قیادت کے درمیان ایک غیر معمولی تنازع پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے نواز شریف ناراض ہو کر اٹھ کر چلے گئے۔ وہ اس اجلاس میں لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت کے معاملے پر مباحثہ جاری تھا، اور نواز شریف اور اسحاق ڈار قیمتیں بڑھانے کی مخالفت کر رہے تھے۔ دوسری جانب مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کی رائے تھی کہ ملک کی معاشی صورتحال بہت ہی نازک ہے اور اآئی ایم ایف کے معاملات بہت احتیاط سے چلانے کی ضرورت ہے۔ ن لیگ اسلام آباد کے ایک مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ معاشی فیصلوں بارے حکومت پر نون لیگ لندن کا پریشر نہیں ہونا چاہئے تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ خراب نہ ہو۔ دوسری جانب ن لیگ لندن کا موقف تھا کہ شہباز حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر معاہدہ کرسکتی تھی لیکن تب مشورہ دیا گیا کہ یا آپ پاکستان آجائیں اور ذمہ داری سنبھالیں یا پھر ن لیگ اسلام آباد کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ اسلام آباد میں موجود لیگی رہنماؤں نے لندن میں موجود قیادت کو بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک واضح میکنزم موجود ہے اور حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس میکنزم سے چھیڑ چھاڑ کا مطلب سنگین مسائل میں مبتلا ہونا ہو گا۔ اس مباحثے کے دوران نواز شریف اپنی بات نہ مانے جانے پر شدید غصے میں آ گئے اور یہ کہہ کر اجلاس سے واک آئوٹ کر گئے کہ وہ شہباز حکومت کے کسی عوام دشمن فیصلے کا حصہ نہیں بن سکتے۔

ایک لیگی ذریعے کے مطابق، نون لیگ لندن کے ساتھ بات چیت میں نون لیگ اسلام آباد کے رہنماؤں کی جانب سے جو زبان استعمال کی گئی وہ نا مناسب تھی اور یہی وجہ تھی کہ نواز شریف ناراض ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز نے اپنی ایک ٹویٹ میں کھل کر کہا کہ میاں نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ ایک پیسہ اضافے کی بھی حمایت نہیں کریں گے اور اگر شہباز حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو وہ اس فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مریم نے مزید کہا کہ نواز شریف اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ اگرچہ مریم نے اس مباحثے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ ن لیگ کے اندر مفاہمتی اور مزاحمتی دھڑوں میں پائے جانے والے اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے قبل کی گئی ایک ٹویٹ میں مریم نے پٹرول کی قیمت میں اضافے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کریں گی۔

نون لیگ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ در اصل یہ نوازلیگ کے دو دھڑوں کے درمیان لڑائی کا مظہر ہے جن میں سے ایک حلقہ اسحاق ڈار کا تو دوسرا مفتاح اسماعیل کا حامی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنانے کی تجویز فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آئی تھی جو کہ نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحاق ڈار کو اس عہدے پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور اس لیے انہیں پاکستان واپس آنے کی اجازت بھی نہیں ملی۔ خیال رہے کہ معیشت کے حوالے سے نواز شریف عموماً اسحاق ڈار کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں جبکہ شہباز شریف مفتاح اسماعیل اور ان کے معیشت سے نمٹنے کے طریقوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں شاہد خاقان عباسی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا اور اس کی وجہ وہ قیمت ہے جس پر تیل انٹرنیشنل مارکیٹ سے خریدا گیا ہے۔یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے اضافہ نہ کیا ہوتا تو جن معاملات پر حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق ہوا ہے وہ سب برباد ہو جاتا۔ انکا کہنا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچائے گی۔ تاہم نواز شریف تب شدید غصے میں آگئے جب انہیں مفتاح اسماعیل کی جانب سے بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی کی مد میں اپریل 2023 تک 50 روپے لیٹر اضافے کا معاہدہ ہو چکا ہے چنانچہ اب اگلے اپریل تک ہر مہینے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کرنا ہو گا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے تاکہ پاکستان کیلئے بیل آئوٹ پیکیج بحال ہو سکے، آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کے تحت تیل کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی یا پٹرولیم لیوی پر کسی قسم کا انحراف ملک کو سنگین معاشی مسائل میں مبتلا کر سکتا ہے۔ لیکن نواز شریف اس حکومتی موقف کو رد کرتے ہوئے اجلاس کا واک آؤٹ کرگئے۔

Back to top button