نگران سیٹ اپ کی مدت کا تعین کون کرے گا؟

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے قبل از وقت اقتدار چھوڑنے کے اعلان کے باوجود انتخابات کے انعقاد بارے شکوک و شبہات برقرار ہیں تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق عام انتخابات اور ملک کے اگلے نگران سیٹ اپ کی مدت کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل کے 25 جولائی کو ہونے والے حتمی اجلاس میں کیا جائے گا، ایجنڈے کے مطابق، اجلاس میں ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج اور رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ صوبائی حکومتیں ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج پر موقف پیش کریں گی۔ سی سی آئی اجلاس میں ڈیجیٹل مردم شماری کی رپورٹ کی منظوری کا امکان ہے۔سینئر سیاستدانوں کے ساتھ گفتگو میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ منظوری کے حوالے سے متفق ہوگئے تو یہ یقینی طور پر عام انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے گا اگرچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سابقہ حلقہ بندیوں پر آئندہ عام انتخابات کرانے کے لیے پرعزم ہے تاہم مردم شماری رپورٹ کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں میں 4 ماہ کا وقت درکار ہوگا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اگلے ماہ میں اقتدار نگران سیٹ اپ کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم آئندہ عام انتخابات کے شیڈول کے حوالے سے اب بھی ابہام برقرار ہے۔ ڈیجیٹل آبادی کی مردم شماری کی منظوری کے بعد انتخابات میں تاخیر کے پیچھے کچھ اور ممکنہ وجوہات ہیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی واپسی اور ان کے خلاف مقدمات میں ان کی بریت تک پارٹی قیادت انتخابات میں تاخیر کی بنیاد بنا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق انتخابات میں تاخیر کی ایک اور وجہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال ہو سکتی ہے کیونکہ وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کلیئرنس کے بغیر انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
انتخابات میں تاخیر کی ممکنہ وجہ معاشی صورتحال بھی ہو سکتی ہے کیونکہ گزشتہ سال پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فنڈز کی کمی کے باعث انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔ بعض اہم اتحادی جماعتوں اور سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ عام انتخابات کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے انہیں سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات میں عدالتوں کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات میں تاخیر کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے جہاں اب بھی ابہام ہے وہیں حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے نئی حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے حوالے سے تحفظات برقرار ہیں۔ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہوں جبکہ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہی ہوں گے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اسپیشل سیکریٹری ظفر اقبال نے واضح کیا ہے کہ آنے والے انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہی ہوں گے اور اگر قومی اسمبلی کی تحلیل 12 اگست کو مدت مکمل ہونے پر ہی کی گئی تو الیکشن کمیشن 11 اکتوبر سے پہلے ہی الیکشن کرا دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس سے قبل قومی اسمبلی کی تحلیل ہوتی تو پھر قوانین کے تحت تین ماہ یعنی 90 روز میں الیکشن کرا دیے جائیں گے جو نومبر تک ممکن ہوسکیں گے۔
دوسری جانب سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کا بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اگر نئی مردم شماری کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل سے ہو جاتی ہے تو نئی حلقہ بندیوں کے لیے چار سے ساڑھے چار ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔ لیکن اس کا فیصلہ نئی مردم شماری کا نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔لیکن اس پر اتحادی جماعتوں بالخصوص ایم کیو ایم کی جانب سے کافی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی الیکشن کی خواہاں ہے۔ایم کیو ایم کے ایک وفد نے پارٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی اور اس میں اس معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔ترجمان ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں ایم کیو ایم کے وفد کو بتایا کہ انتخابات پرانی مردم شماری پر کرانے کا اب تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ مردم شماری کا عمل مئی میں ختم ہو چکا ہے اور دو ماہ بعد بھی اس کے نتائج جاری نہ کرنے سے اس کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اُن کے بقول مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے تحت ملک میں دسمبر 2022 تک مردم شماری کا عمل مکمل کیا جانا تھا۔ لیکن یہ عمل شروع ہی مارچ 2023 میں ہوا اور مئی کے وسط میں جا کر مکمل ہوا۔دوسری صورت میں اگر مردم شماری کے نتائج جاری کر دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں الیکشن شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔کنور دلشاد کے بقول نئی حلقہ بندیوں میں الیکشن کمیشن کو کم از کم چار ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور اگر ان پر کوئی قانونی اعتراض آ جائے تو اس صورت میں مزید وقت بھی لگ سکتا ہے۔
