نیب نے جھاڑو پھیرا تو کون کونسا سیاستدان اندر ہوگا؟

اسٹیبلشمنٹ کا ماؤتھ پیس سمجھے جانے والے شیخ رشید احمد کے دعوے کے عین مطابق نیب نے آنے والے دنوں میں آصف زرداری، فریال تالپور، مراد علی شاہ، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور بلیغ الرحمن کے علاوہ دو حکومتی وزرا غلام سرور خان اور نور الحق قادری کے علاوہ آٹا اور چینی سکینڈل میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے اہم افراد کو بھی گرفتار کرنے کا منصوبہ فائنل کرلیا ہے۔
گذشتہ دنوں شیخ رشید نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عید کے بعد نیب جھاڑو پھیر دے گا اور اب کی بار صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومتی لوگ بھی نیب کی گرفت میں آئیں گے، اب چونکہ عید گزر چکی تو سوال کیا جا رہا ہے کہ کون کون سا سیاستدان اب نیب کا مہمان بننے والا ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق رمضان کے آخری ایام میں قومی احتساب بیورو یا نیب کی طرف سے سامنے آنے والی خبروں اور نوٹسز سے بھی کسی حد تک شیخ رشید کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ ایک طرف تو اپوزیشن کے چوٹی کے سیاستدانوں کو نیب کی طرف سے بلاوے آئے ہیں تو دوسری طرف دو وفاقی وزرا کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز ہوا ہے اور آٹے اور چینی کے بحران پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی ذمہ داروں کے خلاف نیب کو ہی کیسز بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے چئیرمین آصف زرداری ان کی بہن فریال تالپور، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں کے حوالے سے جعلی اکاؤنٹ کیسز کی تحقیقات میں خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس پر آئندہ چند روز میں ریفرنسز فائل کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیسز میں آصف زرداری اور فریال ٹالپر نیب کی حراست میں بھی رہ چکے ہیں۔ دوسری طرف سابق مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور دیگر کے خلاف ایل این جی درآمد کیس میں نیب نے احتساب عدالت کی ہدایت پر ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس کیس میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو آئندہ چند روز میں دوبارہ طلب کیا جا رہا ہے اور ان دونوں کی گرفتاری کے بھی امکانات ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف پنجاب میں نیب آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کیسز میں تحقیقات جاری ہی تھیں کہ نیب ملتان کی جانب سے انہیں چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کیس میں شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ نیب کے حال ہی میں جاری اعلامیے کے مطابق چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی 14 ہزار400 کینال زمین کو لال سوہانرا نیشنل پارک کے 144 متاثرین کو خلاف ضابطہ الاٹ کرنے کے الزام میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق رکن قومی اسمبلی بلیغ الرحمٰن، چوہدری عمر محمود ایڈووکیٹ سمیت چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران، عہدیداران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی جا رہی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف کو بھی میر شکیل الرحمان اراضی اسکینڈل میں نیب نے طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔
اگرچہ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ فیس نہیں بلکہ کیس دیکھتے ہیں۔ تاہم نکے اس دعوے پر زیادہ عمل ہوتا حال ہی میں دیکھنے میں آیا جب نیب نے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے بعد وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کے خلاف آنے والی کرپشن کی شکایت پر تحقیقات کا عمل شروع کیا۔ نیب ذرائع کے مطابق حکمران پی ٹی آئی کے سابق وزیر صحت عامر کیانی کے خلاف ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے کیس پر بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اسے شکایت کی تصدیق کے عمل سے آگے بڑھا کر باقاعدہ انکوائری کی شکل دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جس طرح سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف پانامہ کیسز سپریم کورٹ کی طرف سے نیب کو ریفر کیے گئے تھے اسی طرح نیب حکام کو توقع ہے کہ حکومت آٹے چینی سکینڈل کیس میں ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف کیسز بھی نیب کو ریفر کرے گی۔
یاد رہے کہ اس کیس میں نیب چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پہلے ہی اپریل میں نوٹس لے کر تحقیقات کی منظوری دے چکے ہیں۔گذشتہ دنوں حکومت کی طرف سے جاری شوگر فرانزک رپورٹ میں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین سمیت حکومت اور اپوزیشن کے متعدد سیاستدانوں کو حکومتی خزانے سےناجائز سبسڈی لینے اور قیمتیں ناجائز طور پر بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ دوسری طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے گذشتہ سال نیب ترمیمی آرڈنینس کے اجرا کی منظوری کے بعد نیب کے اختیارات میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے۔ گو کہ آرڈنینس اپنی مقررہ 120 دن مدت پوری کرنے کے بعد غیر فعال ہو چکا ہے اور اب پالیمنٹ کی منظوری کا محتاج ہے مگر اس ترمیم کی وجہ سے نیب اس شدو مد سے سیاسی رہنماوں اور کاروباری شخصیات کے خلاف تحقیقات کو آگے نہیں بڑھا سکے گا جو ماضی میں اس کا خاصہ رہا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت کو اس ترمیمی قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے لیے اپوزیشن کی حمایت درکار ہو گی کیونکہ سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا پلڑا بھاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اب چاہتی ہے کہ قانون میں مزید ترمیم کر کے نیب کے گرفتاری، ریمانڈ اور جائیداد کی ضبطی کے اختیارات کو بھی کم کر دیا جائے۔ جھاڑو پھرنے کی پیشگوئی کرنے والے وفاقی وزیر شیخ رشید کہہ چکے ہیں کہ وہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے جسے بعض لوگ این آر او بھی قرار دیتے ہیں تاہم آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کا فیصلہ کیا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button