نیب کی بدسلوکی سے تنگ ایک اور سینئر افسر کی خودکشی

آئے دن قومی احتساب بیورو کے تحقیقاتی افسران کی جانب سے اپنی عزت کا جنازہ نکالے جانے پر تنگ آ کر گریڈ 22 کے کنٹرولر جنرل اکائونٹس خرم ہمایوں نے 30 دسمبر کو اسلام آباد میں خود کشی کر لی۔ اپنے اس اقدام سے قبل خاندانی دوستوں کو بتایا تھا کی وہ اپنے خلاف نیب کے کرپشن ریفرنس دائر ہونے اور روز روز کی تحقیقات سے بے حد پریشان ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے مارچ 2019 میں آئی ایس آئی کے سابق افسر اور بعد میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک رہنے والے بریگیڈئیر اسد منیر نے بھی نیب افسران کے ناروا رویے سے تنگ آ کر اسلام آباد میں خودکشی کر لی تھی۔

خودکشی کرنے والے خرم ہمایوں کے اکلوتے بھائی بھی ایک خفیہ ایجنسی میں ملازم ہیں جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم نیب تحقیقات کی وجہ سے شدید پریشان تھے۔
موت سے پہلے مرحوم نے اپنے ایک دوست عزیز نشتر کے نام ٹیکسٹ مسیج میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی جانب سے نیب حکام کی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس پریشانی سے نکلنے کے لیے میرے خیال میں سیکرٹری فنانس کو اعتماد میں لیا جائے اور ان سے اپنی صفائی میں کیس کی تیاری کے لئے رخصت کی استدعا کی جائے۔ عزیز نشتر کا کہنا ہےکہ خرم ہمایوں نیب کی جانب سے تحقیقات کے باعث شدید ذہنی دبائو میں تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے خودکشی کا فیصلہ کیا۔

بتایا گیا ہے کہ گریڈ 22 کے سینئر افسر خرم کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام یعنی بی آئی ایس پی کرپشن ریفرنس میں نامزد کیا گیا تھا۔ نیب ان کے خلاف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ایک ارب 65 کروڑ روپے سے زائد کی خورد برد کی تحقیقات کر رہا تھا جبکہ مرحوم کا طرز زندگی بتاتا ہے کہ وہ مشکل حالات میں اپنی زندگی کا پہیہ چلا رہے تھے۔ موت سے پہلے انھوں نے نیب تحقیقات کے دوران مسلسل خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی تھی لیکن ان کو بار بار طلب کیاجاتا تھا اور بار بار پرانے سوالات دہرائے جاتے تھے جن کا جواب وہ پہلے دے چکے ہوتے تھے۔ خرم ہمایوں کے مطابق تحقیقات کے دوران نیب افسران انکے ساتھ انتہائی تضحیک آمیز رویہ اپناتے۔ اور شاید یہی رویہ ان کی خودکشی کی وجہ بن گیا۔

نیب کے ترجمان نے کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس خرم ہمایوں کی خودکشی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کے ملزمان پر کرپشن سے متعلق تحقیقات کا شدید دبائو ہوتا ہے جس وجہ سے وہ بعض اوقات انتہائی اقدام پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تاہم ترجمان نے کہا کہ خرم ہمایوں نیب کی حراست میں نہیں تھے اور انہیں چھ ماہ قبل دائر ہونے والے ریفرنس کے سلسلے میں تحقیقات کے لیے وقتا فوقتا طلب کیا جاتا تھا۔
نیب ترجمان نے الزامات کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون کے مطابق فرائض کی انجام دہی پر یقین رکھتے ہیں اور اگر کوئی کمزور دل ملزم خود کشی کر لیتا ہے تو یہ اس کا اپنا فعل ہے جس کی ذمہ داری نیب پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

اسلام آباد میں روات تھانہ کے ایس ایچ او انسپکٹر یاسر مطلوب کیانی نے بتایا کہ روات میں رہائش پذیر اکاؤنٹس گروپ کے گریڈ 22 کے افسر خرم ہمایوں نے 30 دسمبر کی صبح سوا سات بجے اپنے بیڈروم میں 30 بور کی پستول سے خود کو فائر مار کر خُود کشی کی۔ پولیس موقع پر پہنچی تو ان کی لاش بیڈ پر تھی ان کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔ انہوں نے خود کو گولی مارنے سے قبل ایک فائر اپنے بیڈروم کی کھڑکی پر کیا۔ پولیس نے موقع سے 30 بور پستول اور گولیوں کے خول قبضے میں لے لئے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال راولپنڈی میں پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی۔ پولیس کے مطابق خرم ہمایوں نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ پانچ سال اور گیارہ سال کے دو بیٹے محمد اور داؤد چھوڑے ہیں۔ مرحوم کی والدہ 84 سال کی ہیں اور انکی ایک 60 سالہ ہمشیرہ ابنارمل ہیں۔ پولیس کے مطابق خرم ہمایوں کے اخک بھائی حساس ادارے میں اعلیٰ افسر ہیں جنہوں نے بتایا کہ تین دن پہلے جب انکی فون پر بات ہوئی تو وہ نیب کیس کی وجہ سے کافی پریشان تھے۔ ان کے ہمراہ کام کرنے والے ملازمین نے پولیس کو بتایا کہ خرم ہمایوں نیب کیس کی وجہ سے بہت ذیادہ پریشان تھے۔ پولیس کے مطابق ان کے گھریلو ملازم فضل نے بتایا کہ وہ چارسال سے ان کے گھر میں بطور خانساماں کام کر رہا ہے۔ 39 دسمبر کی صبح ان کے صاحب نے اچانک خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سینئر افسر نے نیب افسران کے ناروا رویے سے تنگ آ کر خودکشی کی ہو۔ اس سے پہلے مارچ 2019 میں آئی ایس آئی کے سابق افسر اور بعد میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک رہنے والے بریگیڈئیر اسد منیر نے بھی اسی طرح نیب سے تنگ آ کر اسلام آباد میں خودکشی کر لی تھی۔ موت کے بعد اسد منیر کا ایک خط سوشل میڈیا پر شئیر کیا گیا جس میں انھوں نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے ان کے خلاف کی جانے والی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘میں اس لیے خودکشی کر رہا ہوں تاکہ میں ہتھکڑیاں لگانے اور میڈیا کے سامنے بےعزت ہونے سے بچ سکوں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نیب افسران کے ناروا رویے کا نوٹس لیں۔’

اسد منیر کے بھائی خالد منیر نے اس خط کے اصل ہونے کی تصدیق اپنی ٹویٹ میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ خط مصدقہ ہے اور اسد منیر نے خود لکھا ہے۔ خط کے اوپر انھوں نے اپنی لکھائی میں اس خط کو کس طرح پیش کیا جائے، اس بارے بھی ہدایات دی ہیں۔‘ اسد منیر کے اہلخانہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا تھا۔
اسد منیر ماضی میں آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس سے بھی منسلک تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹی وی پر بطور تجزیہ کار فرائض سر انجام دیتے تھے اور کالم نویس بھی تھے۔ تاہم ان کی خط میں لکھی گئی آخری خواہش کی تکمیل نہ ہو پائی اور انکی خود کشی رائیگاں گئی کیوں کہ چیف جسٹس آف پاکستان نیب حکام کے ناروا رویے کا نوٹس لے پائے جس نے ایک اور سینئر سرکاری افسر کو خودکشی پر مجبور کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button