ڈینئل پرل کے قاتلوں کا امریکہ میں ٹرائل کیوں اور کیسے؟

امریکی حکومت کی جانب سے کراچی میں شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافی ڈینیئل پرل مرڈر کیس کے بری ہونے والے ملزمان کو امریکہ لیجا کر ٹرائل کرنے کا اعلان پاکستانی حکام کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ ایک تو وہ برٹش پاسپورٹ ہولڈر ہے اور دوسرا اس پر الزام ہے کہ وہ ماضی میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے بھی کام کرتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ڈینئل پرل کے قتل کے بعد مفرور ہو جانے والے شیخ احمد عمر سعید کو آئی ایس آئی پنجاب کے سابق سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے پولیس حکام کے حوالے کیا تھا کیونکہ وہ ماضی میں اس کے ہینڈلر رہے تھے۔ خیال رہے کہ دسمبر 1999 میں ایک بھارتی طیارے کی ہائی جیکنگ کے بعد شیخ احمد عمر اور مولانا مسعود اظہر کو بھارت کی قید سے رہا کروایا گیا تھا جسکے دو برس بعد ڈینیل پرل کو کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ شیخ احمد عمر سعید کو اس قتل کیس میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور سزائے موت سنائی گئی تھی جسے اب سندھ ہائی کورٹ نے معطل کر دیا ہے۔
اب ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمان کی بریت اور نظر بندی ختم کرنے کے فیصلے کے بعد امریکی حکومت نے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو اپنی تحویل میں لے کر اس پر امریکہ میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل جیفری روزن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں ان کے کردار پر انصاف سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ امریکہ صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں سزا پانے والے احمد عمر سعید شیخ پر امریکہ میں مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل جیفری روزن نے مذید کہا کہ ہم ڈینیئل قتل کیس کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے پر پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں کیونکہ احمد عمر سعید شیخ اور ان کے ساتھیوں کو انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل نے ملزم کی بریت کو دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کی صورت میں امریکہ احمد عمر شیخ کو اپنی تحویل میں لے کر ان پر امریکہ مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے ملزم عمر شیخ کو انصاف سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ دوسری جانب جانب مقتول امریکی صحافی کے والد جوڈیا پرل نے حکومت پاکستان کی جانب سے ملزمان کی بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہم یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور عوام انصاف کے نام پر اسے بدنام ہونے دیں گے اور بالآخر انصاف غالب ہو کر رہے گا۔
تاہم حکومت پاکستان نے امریکی اٹارنی جنرل کی جانب سے شیخ احمد عمر سعید پر امریکہ میں مقدمہ چلانے کے اعلان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ حکومت سندھ کی طرف سے شیخ احمد عمر کی بریت کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان تو ہو چکا ہے لیکن پاکستان کے لیے پریشانی یہ ہے کہ اگر امریکہ میں جو بائیڈن کی نئی حکومت شیخ احمد عمر سعید کی باقاعدہ حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے تو حکومت کسی بھی صورت اسے ماننے کی پوزیشن میں نہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں شیخ عمر سعید پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے کا الزام ہے۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ شیخ عمر برطانیہ اور پاکستان دونوں کا ڈبل ایجنٹ تھا۔ پاکستانی حکام کا کہنا کا امریکہ کے ساتھ مجرمان کی حوالگی کا کوئی باہمی معاہدہ موجود نہیں ہے اس لیے پاکستان اگر امریکہ کو حوالگی سے انکار کرنا چاہیے تو اس کی جائز وجہ موجود ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کشیدگی کا شکار ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ ڈینیئل پرل جنوبی ایشیا میں وال سٹریٹ جرنل کے بیورو چیف تھے۔ انہیں جنوری 2002 میں اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اسلامی عسکریت پسندوں کے بارے میں اپنی ایک سٹوری پر کام کر رہے تھے۔ تقریباً ایک ماہ بعد امریکی قونصل خانے کو ایک ویڈیو بھیجی گئی تھی، جس میں ان کا سر قلم ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بعد ازاں ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری شیخ عمر سعید کو اس قتل میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ شیخ عمر نے لندن سکول آف اکنامکس میں تعلیم حاصل کی۔ اسے ڈینیئل پرل کے اغوا کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا تھا اور مقدمہ چلنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی تھی جبکہ دیگر تین ملزمان فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔دو اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے عمر شیخ کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرتے ہوئے اس کیس میں سزا پانے والے دیگر ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر ان ملزمان کو نقضِ امن کے خدشے کے باعث نظر بند کر دیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد محکمہِ داخلہ سندھ نے 28 ستمبر کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11 کے تحت ملزمان کی نظر بندی کا حکم جاری کیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ملزمان کی ضمانت کے فیصلے کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے تمام ملزمان کو دی گئی سزائیں بحال کی جائیں۔رواں برس دو مئی کو ڈینیئل پرل کے والدین نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کر کے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی رہائی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا دو اپریل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
تاہم سندھ ہائی کورٹ نے 24 دسمبر کو ڈینیئل پرل کے قتل کے الزام میں 18 سالوں سے قید عمر شیخ اور دیگر تین ملزمان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ ڈینیئل پرل کی موت کی تحقیقات کے بعد جنوری 2011 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں پرل پروجیکٹ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں خوفناک انکشافات کیے گئے اور بتایا گیا کہ پرل کے قتل میں غلط لوگوں کو سزا سنائی گئی۔ڈینیئل پرل کی دوست اور وال سٹریٹ جرنل میں کام کرنے والی ان کی سابق ساتھی اسرا نعمانی اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر کی قیادت میں ہونے والی تحققیات میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈینیئل پرل کو خالد عمر شیخ نے قتل کیا، جو نائن الیون 2001 کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ ڈینئل پرل کے اغوا میں شیخ احمد سعید نے مرکزی کردار ادا کیا۔
