کیا بزدار کو قوالی سے گورننس بہتر بنانے کا فارمولا بشری بی بی نے دیا؟

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب میں اپنی بدترین گورننس کو بہتر بنانے کے لیے اب ایک نرالا اور انقلابی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صوبے بھر کے تمام ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو اپنے علاقوں میں باقاعدگی سے قوالی کی محفلیں منعقد کروانے اور پھر کیبل آپریٹرز کے ذریعے انکی ٹی وی چینلز پر مکمل کوریج کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے ساتھ ایک فارم بھی منسلک ہے جسے پابندی کے ساتھ محافل قوالی کے انعقاد کے بعد بھر کر متعلقہ حکام کو بھجوانا ہو گا۔ تاہم قوالی کی محفلوں کے انعقاد سے متعلق اس حکم نامے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سرگرمی سے صوبے کی گورننس میں کیسے بہتری آئے گی۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر باضابطہ طور پر ایک مانیٹرنگ نظام بھی تشکیل دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قوالی کی محفلوں کے انعقاد کا یہ انقلابی منصوبہ کامیاب ہو اور اس پر عملدرآمد بھی ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ہفتے رپورٹ جمع کروائیں اور وزیراعلیٰ آفس کو بتایئں کہ انہوں نے ہر ہفتے اپنے ضلع میں کن کن شہروں میں اور کتنی قوالیوں کی محفلوں کا انعقاد کروایا اور وہ ٹی وی چینلز پر بھی چلیں یا نہیں۔ تاہم سینئر افسران اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قوالیوں کی محفلوں کے انعقاد سے وزیراعلی قطرے اپنی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنا پائیں گے۔
یاد رہے کہ عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلی مقرر کرتے وقت عمران خان نے انہیں وسیم اکرم پلس قرسر دیا تھا لیکن اپنی ڈھائی سالہ گورننس کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں وسیم اکرم کے نام پر ایک دھبہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بزدار کی حکومت کو پہلے دن سے اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران کم از کم پانچ چیف سیکریٹری اور 6 آئی جی پولیس تبدیل کیے جا چکے ہیں جبکہ مختلف صوبائی محکموں میں تبدیل کیے جانے والے اہم افسران کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔ سرکاری ملازمین کے عہدے کی معیاد کا بزدار دور میں کوئی تحفظ نہیں اور سرکاری فائلوں میں وجہ بتائے بغیر افسران کا تبادلہ معمول کی بات بن چکی ہے۔ لیکن پھر بھی وزیراعظم عمران خان نے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ عہدے کی معیاد مکمل ہونے پر عثمان بزدار پاکستان کے بہترین وزیراعلیٰ قرار پائیں گے۔ شاید وزیراعظم کی اس امید پر پورا اترنے کے لیے بزدار نے قوالی کی محفلیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری طرف بزدار کے قریبی ذرائع کا کہنا کہ پنجاب میں قوالی کے ذریعے طرز حکمرانی بہتر بنانے کا منفرد خیال بنی گالا کی روحانی شخصیت کی طرف سے آیا ہے جن کے کہنے پر عمران خان نے عثمان بزدار کو صوبے کا وزیر اعلی مقرر کیا تھا اور گورننس میں ناکامی اور اسٹیبلشمنٹ کے بار بار کے اصرار کے باوجود ان کو وزارت اعلی سے ہٹانے پر تیار نہیں۔ یاد رہے کہ عثمان بزدار خاتون اول بشری بی بی عرف پنکی پیرنی کی بہترین سہیلی فرح عرف گوگی کے شوہر احسن جمیل گجر کے ذاتی دوست ہیں اور انہی کے ذریعے وہ عمران خان تک پہنچے تھے۔ بعد ازاں بشریٰ بی بی نے عمران خان کو بتایا تھا کہ ان کے نام کا حرف عین اور عثمان کے نام کا حرف عین دونوں انکے لیے مبارک ہیں اور انہیں عثمان بزدار کو ہی وزیر اعلی پنجاب بنانا چاہیے۔
کہا جاتا ہے کہ ملک کی سیاسی قسمت کے فیصلے پنکی پیرنی، احسن جمیل گجر اور فرح خان کی خواہش کے عین مطابق ہو رہے ہیں حالانکہ عقل کی بجائے عقیدے اور ذاتی مفاد کی بنیاد پر لیے گئے ایسے فیصلے کپتان کے سیاسی مستقبل کے لیے تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی احسن جمیل گجر یے جس پر اکتوبر 2018 میں پاکپتن کے ڈی پی او کو ٹرانسفر کروانے کا الزام عائد ہوا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں احسن جمیل گجر کو طلب کیا تھا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ وہ احسن جمیل کو کار سرکار میں مداخلت پر جیل بھیجیں گے۔ خیال رہے کہ ڈی پی او پاکپتن کو بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر احسن جمیل گجر نے آئی جی پنجاب سے ٹرانسفر کروا دیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ احسن جمیل گجر ہے کون؟ یہ کس کا خاندانی دوست ہے؟ جواب میں احسن جمیل کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ احسن جمیل اس معاملے میں غیرمشروط معافی مانگتے ہیں۔ وہ مانیکا خاندان کے دوست ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ خاور مانیکا نامی شخص اتنا طاقتور کیسے ہو گیا کہ وہ ایک ڈی پی او کا تبادلہ کروادے اور یہ احسن جمیل پولیس کے بارے میں گندی زبان کیسے استعمال کرسکتا ہے؟ ،ہم قانون کی حکمرانی قائم کریں گے۔
یاد رہے کہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کو یہ بتایا گیا تھا کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ پنجاب کے وزیرِاعلی کے دفتر سے جاری ہوا۔ اس معاملے کی انکوائری رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی دوست احسن جمیل گجر نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیر اعلی ہاؤس میں بلا کر اُنھیں خاور مانیکا کے پاکپتن ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے اور معاملے کو سلجھانے کے بارے میں کہا تھا لیکن اُنھوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احسن جمیل گجر نے پولیس حکام کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ بھی اختیار کیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی ہوں گے حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے دفتر میں بیٹھ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کیا ایسا ہوتا ہے نیا پاکستان جس کا دعویٰ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کرتی رہی ہے۔
تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس میں وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے بچوں کے گارڈین احسن جمیل گجر اور پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کلیم امام کی معافی کو قبول کرلیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دوبارہ مداخلت یا سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرنے کا واقعہ پیش آیا تو اس از خود نوٹس کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر عظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح میں احسن جمیل گجر نے بطور گواہ دستخط کیے تھے اور اس شادی میں بھی اسکی بیوی فرح کابنیادی کردار تھا۔ فرح خان کو اکثر بشریٰ بی بی کے ساتھ مختلف مزاروں پر حاضری دیتے اور لاہور میں شیلٹر ہومز کا دورہ کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار احسن جمیل گجر اور فرح کے ذریعے خاتون اول سے مشورے اور ہدایات لیتے رہتے ہیں اور ان کا صوبہ بھر میں قوالی کی محفلیں منعقد کروانے کا تازہ ترین فیصلہ بھی بنی گالہ کی طرف سے ہی آیا ہے۔
