نیب کے بعد کرونا کے بھی اپوزیشن رہنماؤں پر حملے


قومی احتساب بیورو کے بعد اب کرونا وائرس نے بھی ان اپوزیشن سیاستدانوں کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے جن کے خلاف نیب کے کیسز چل رہے ہیں۔
پاکستانیوں پر کرونا وائرس کے تابر توڑ حملے جاری ہیں، دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے خاص وعام پاکستانیوں کی طرح سیاستدانوں کی بڑی تعداد بھی کرونا کے شکنجے میں آچکی ہے جن میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ان میں زیادہ تر سیاستدان وہ ہیں جن کے خلاف نیب کے کیسز ہیں اور وہ نیب کی قید بھگتنے کے بعد ضمانت پر ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے بعد اب اس فہرست میں تازہ اضافہ لیگی صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا ہے۔ اس سے پہلے نون لیگ کے طارق فضل چودھری اور پارٹی کی ترجمان مریم اورنگزیب اور ان کی والدہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہو چکی ہیں۔ یاد رہے کہ کرونا کے باعث بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ 5 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا انتقال بھی ہوچکا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا بھی کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے قوم سے دعاؤں کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز شریف کو ان حالات میں قومی احتساب بیورو میں طلب کر کے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا۔ نیب کو متعدد بار آگاہ کیا گیا کہ شہباز شریف کینسر کے مرض میں مبتلا رہے ہیں اور ان کی قوت مدافعت عام لوگوں کے مقابلے میں کم ہے لیکن نیب حکم نے ضد میں آکر شہباز شریف کو پیشی پر بلایا۔انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے 9 تاریخ کو نیب کی پیشی کے علاوہ نہ کسی سے ملاقات کی اور نہ ہی کہیں اور گئے، اگر شہباز شریف کو کچھ ہوا تو عمران خان اور نیب ذمہ دار ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پر خود کو قرنطینہ کرلیا اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی ملک کے پہلے سیاستدان تھے جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ آئیسولیشن میں رہنے کے بعد صحتیاب ہو گئے تھے۔اپریل میں ضلع مردان سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جبکہ وزیر صحت خیبرپختونخوا نے بتایا تھا کہ ان کے معاون خصوصی کامران خان بنگش میں بھی کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی کورونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی شاہین رضا، سندھ کے صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمشید الدین کاکاخیل اور مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی شوکت منظور چیمہ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ان کے دو بچوں کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ عمران اسمٰعیل بھی وائرس کا شکار ہو گئے تھے لیکن چند روز قبل یہ دونوں وائرس سے صحتیاب ہو گئے تھے۔مئی میں قومی اسمبلی کے دو اراکین محبوب شاہ اور گل ظفر خان سمیت ایوان زیریں کے متعدد ملازمین میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔اس کے علاوہ رکن قومی اسمبلی رہنما علی وزیر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر انجینئر امیر مقام 24 مئی کو کرونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے اور انہوں نے خود کو قرنطینہ منتقل کرلیا تھا۔بعدازاں 25 مئی کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی تھی۔ مئی کو وزیر مملکت برائے سیفران اور انسداد منشیات شہریار آفریدی نے عالمی وبا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔ 3 جون کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین فیصل زیب خان اور صلاح الدین کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ 8جون کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی میں کورونا وائرس یسٹ مثبت آیا تھا، اسی روز وفاقی وزیر ریلوے کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں طارق فضل چوہدری، مریم اورنگزیب اور ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب میں کورونا کی تصدیق ہوچکی ہے۔ 10 جون کو مسلم لیگ(ن) کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ تحریک انصاف کے ایم این اے فرخ حبیب اور جے پرکاش بھی کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن قومی اسمبلی عثمان قادری، شاہ زین بگٹی، عثمان خان تراکئی اور بلوچستان سے آزاد سینیٹر ثنا جمالی بھی وبا کا شکار ہوگئی ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق ن لیگ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کورونا سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بھی نصف درجن کے لگ بھگ لیگی ارکان کرونا کا شکار ہوئے ہیں جن میں میاں نوید علی، سیف الملوک کھوکھر، خواجہ سلمان رفیق اور دیگر شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button