ن لیگ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہے،پیچھے نہیں ہٹی

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت انتقام کی پالیسی پر گامزن ہے، مخالفین کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ن لیگ ووٹ کو عزت دو کے بیانیےپر قائم ہے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹی.
اہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سکون قبر میں ملتا ہے تو پھر کیا وہ پوری قوم کوقبر میں لٹانا چاہتے ہیں؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت، مخالفین اور اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہے لیکن اس میں انہیں جو مشکلات درپیش ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف اپوزیشن کی استقامت ہے. انہوں نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی بہت آسان ہے، ہم کہتے تھے ووٹ کو عزت دو، آج ووٹ کہہ رہا ہے اسے عزت دو۔ اپنی پارٹی کے تاحیات قائد کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ نواز شریف واپس بھی آئیں گے اور اپنے بیانیے کو آگے بڑھائیں گے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پورے وثوق سے اور اپنی معلومات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ وہ واقعی بیمار ہیں انہیں صحت کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف عدالت سے ریلیف لے کر گئے ہیں، حالات اگر اچھے نہیں ہیں تو اتنے برے بھی نہیں کہ ہم ججز یا عدالتوں کے خلاف بات کریں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے تھے کہ نواز شریف نے 3 ہزار ارب لوٹ لیا ہے اور جب تک پیسے نہیں دیں گے ہم انہیں جانے نہیں دیں گے جبکہ شیخ رشید کہتے تھے کہ میں نے عمران خان کو کہا ہے 1500 ارب لے کر انہیں چھوڑدو تاکہ یہ جائیں۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد کیا ہوا کہ وفاقی کابینہ نے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز مانگے لیکن نواز شریف نے بیماری کی حالت میں بھی اس سے انکار کیا اور عدالت سے رجوع کیا جہاں وہ بیان حلفی پر یہ تحریر کرکے گئے ہیں کہ میں علاج کے لیے جارہا ہوں اور اس کے بعد واپس آؤں گا۔ مسلم لیگ(ن)کے رہنما نے کہا کہ نواز شریف نے ساڑھے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز نہیں دیے صرف 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر لکھا کہ واپس آؤں گا، میرا خیال ہے کہ ان کو چاہیے کہ اس کی مصدقہ کاپی کا تعویذ بنا کر گلے میں ڈال لیں تاکہ انہیں سکون رہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ہم اب بھی ووٹ کوعزت دو کے بیانیے پرکھڑے ہیں کیونکہ ووٹ کوعزت دو سے مراد عوامی رائے کا احترام کیا جائے لیکن آج ووٹ کہہ رہا ہے مجھے عزت دو۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ منشیات اسمگلنگ کیس میں میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، میرے خلاف الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے، حکومت کیا کر رہی ہے سب کو معلوم ہے۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جو سلوک میرے ساتھ ہوا وہ پی ٹی آئی والوں کے ساتھ ہوتا تو وہ سیاست چھوڑ چکے ہوتے جبکہ اس وقت سب سے زیادہ احتساب شریف فیملی کا ہو رہا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کسی کی جاگیر نہیں،آج یہ ہیں توکل کوئی اور ہوگا بلکہ آج ان ہاؤس تبدیلی سب سے زیادہ آسان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متفقہ وزیراعظم آنا چاہیے جس کے بعد الیکٹورل ریفارمز لائے جائیں، ان لوگوں کو فارغ کیا جائے اور نئے لوگ لائے جائیں۔
علاوہ ازیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ مدت ملازمت میں توسیع پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے حمایت کی ، بس طریقہ کار پر اعتراض ہے۔
