ن لیگ کا کپتان کو کرارہ جواب، مریم نواز میدان میں

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر کئی مہینوں بعد مریم نواز شریف اچانک دوبارہ سے سیاست میں متحرک ہوتے ہوئے منظر عام پر آ گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر مریم نے اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کی ہے جس کا مقصد پارٹی قیادت میں اختلافات کو ختم کرنا اور پنجاب اسمبلی میں نون لیگ کے فاورڈ بلاک کا سدباب کرنا ہے۔ کئی مہینوں بعد اپنی پہلی میڈیا ٹاک میں مریم نواز نے کہا کہ میری خاموشی کی بہت ساری وجوہات تھیں لیکن اب میں گرفتاری کی دھمکیوں کے باوجود سویلین بالادستی کے لیے میدان عمل میں آ گئی ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران لیگی ارکان میں گرما گرمی اور چھ لیگی ارکان پنجاب اسمبلی کی وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کی صورتحال پیدا ہوئی تو نواز شریف نے مریم نواز کو میدان سیاست میں دوبارہ سے متحرک ہونے کا کہہ دیا۔
معلوم ہوا یے لہ لندن میں زیر علاج نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاتی امرا فارم ہاؤس سے نکل کر ن لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کرکے پارٹی کو بحران سے نکالنے میں متحرک کردار ادا کریں۔ مریم نواز نے اپنی میڈیا ٹاک میں یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ قانون اور آئین کی حکمرانی کے لیے دوبارہ سے اپنی جدوجہد شروع کرنے والی ہیں۔ اس موقع پر مریم نے شاہد خاقان عباسی کے بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی قصور کے بہادری کے ساتھ جیل کاٹی اور وہ تمام نون لیگی ورکروں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے لندن میں غیر ضروری طور پر طویل قیام پر مسلم لیگ نون کے اراکین اسمبلی میں بے چینی پائی جا رہی تھی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی نون لیگ نے ایم پی ایز نے حال ہی میں وزیراعلی عثمان بزدار سے بھی ملاقاتیں کر ڈالی تھیں۔ لہذا پنجاب اسمبلی میں فارورڈ بلاک بننے کی افواہوں کے پیش نظر ن لیگ کی قیادت بھی اب مریم کی صورت میں متحرک ہو گئی ہے۔ نون لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم کو متحرک کرنے کی ایک اور بڑی وجہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کا یہ بیان ہے کہ نواز شریف بالکل صحت مند ہیں اور لندن میں علاج کروانے کی بجائے مزے کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو جب پاکستان میں میں پارٹی کی بحرانی کیفیت کا اندازہ ہوا تو انہوں نے فوری طور پرمریم نواز کو ہدایت کی کہ وہ باہر نکل کر پارٹی معاملات کو دیکھیں۔ مریم کے متحرک ہونے سے یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ شاید ابھی شہباز شریف پاکستان واپس نہیں آنا چاہتے اور لندن میں مزید قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔
لہذا اپنی جماعت کو دوبارہ سے متحرک کرنے کی غرض سے بارہ مارچ کو مریم نواز نے لاہور سے اسلام آباد کا سفر کیا جہاں انہوں نے حال ہی میں نیب کی حراست سے ضمانت پر رہا ہونے والے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال سے ملاقات کی۔
خیال رہے کہ پانچ ماہ قبل اپنے والد کی تیمارداری اور العزیز یہ فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ معطل ہونے کے بعد جیل سے باہر آنے والی مریم نواز نے لمبے عرصے سے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ سترہ ہفتوں سے شریف برادران بھی بیرون ملک میں ہیں، اس صورتحال میں شاہد خاقان عباسی پارٹی معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔
ان حالات میں ن لیگ کے رہنماؤں میں تشویش پائی جا رہی تھی،کچھ اراکین اسمبلی کے پی ٹی آئی کے ساتھ رابطوں کی بھی خبر آئی۔جس کے بعد ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے بھی شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کے لئے میاں نوازشریف نے مریم نواز کو خصوصی ٹاسک سونپا ہے۔ ویسے بھی نون لیگ میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ احسن اقبال شاہد خاقان عباسی رانا ثناءاللہ خان اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی پر حاوی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ خواجہ محمد آصف کا علیحدہ گروپ ہے۔ ان حالات میں پارٹی کو متحد رکھنے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شریف برادران کی غیر موجودگی میں مریم نواز پارٹی معاملات کا جائزہ لیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے اسی لئے مریم کو جاتی امرا سے باہر نکلنے کی ہدایت کی ہے تاکہ پہلے مرحلے میں وہ نون لیگ کا شیرازہ بکھرنے سے بچائیں اور اگر مستقبل قریب میں حکومت کے خلاف کوئی احتجاجی تحریک چلانے کی نوبت آئے تو مریم نواز تحریک کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔
