وارث میر کو غدار کہنے پر حامد میر کا فیاض چوہان کو لیگل نوٹس

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے پنجاب کے منہ پھٹ وزیراطلاعات فیاض چوہان کو ان کے والد اور معروف دانشور پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دینے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس دیا ہے اور بیہودہ اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حامد میر کے وکیل جہانگیر خان جدون کا کہنا ہے کہ فیاض چوہان نے سرکاری طور پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں حامد میر اور ان کے والد معروف لکھاری اور صحافت کے استاد پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قرار دے دیا حالانکہ ان کی ملک اور قوم کے لیے گرانقدر خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال امتیاز عطا کیا تھا۔ حامد میر نے ہرجانے کے نوٹس میں مطالبہ کیا ہے کہ فیاض چوہان 14 روز میں اپنے بیہودہ اور بے بنیاد الزامات پر معافی مانگیں اور اس معافی کی اخبارات اور چینلز پر بھی اشاعت کی جائے۔اگر فیاض چوہان اپنی اس گری ہوئی حرکت پر معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف سول اور فوجداری مقدمات دائر کئے جائیں گے۔
یاد رہے کہ فیاض چوہان نے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پروفیسر وارث میر غدار وطن ہیں چونکہ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں اپنے ملک کے اعلی ترین سول اعزاز سے نوازا تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وارث میر کے علاوہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے انقلابی دانشوروں کو بھی بنگلہ دیشی حکومت نے مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف خونی فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر اسی اعزاز سے نوازا تھا۔ لیکن ان میں سے کسی کو وارث میر کی طرح غدار قرار نہیں دیا گیا۔
بدزبان فیاض چوہان کے ان الزامات کے جواب میں ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان، پاکستان بار کونسل، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے فیاض چوہان کی شدید مذمت کی تھی اور اسے مرحوم دانشور کے خاندان کے خلاف عوامی سطح پر نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا تھا. ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری حارث خلیق پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین عابد ساقی، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے صدر عارف نظامی سمیت صحافیوں ، ادیبوں اور شاعروں کی بڑی تعداد نے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف حکومتی سطح پر سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پنجاب کے بونگے وزیر اطلاعات کا یہ بیان دراصل جیو ٹی وی سے وابستہ صحافی حامد میر کی طرف سے ایک ٹی وی پروگرام میں شوگر کمیشن انکوائری رپورٹ کے تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب پر کی جانے والی تنقید کے ردعمل میں تھا لیکن وزیر بے تدبیر اپنے باس پر حامد میر کی جانب سے کی جانے والی تنقید سے اتنے آگ بگولا ہوئے کہ انہوں نے 33 سال قبل ضیا آمریت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان دینے والے پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قرار دے ڈالا جن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان انہیں 2013 میں ملک کے اعلی ترین سول اعزاز ہلال امتیاز سے نواز چکی ہے۔
فیاض الحسن چوہان کی بے خبری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ پروفیسر وارث میر نے 1971 میں مکتی باہنی کی حمایت کی اور بنگلہ دیش جا کے حسینہ واجد سے ایوارڈ وصول کیا۔ یعنی وزیر اطلاعات کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وارث میر 1971 میں پنجاب یونیورسٹی میں استاد تھے اور حکومت کی منظوری سے طلبہ کا ایک وفد لیکر ڈھاکہ گئے تھے تا کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کر کے پاکستان کی تقسیم کے عمل کو روکا جا سکے۔ وارث میر کی ان کوششوں کی تحریری گواہی 1971 میں ان کیساتھ مشرقی پاکستان جانے والے طلبہ کے وفد میں شامل حفیظ خان اور جاوید ہاشمی پہلے ہی دے چکے ہیں اور بنگلہ دیش حکومت نے بھی انکو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز دیتے ہوئے وارث میر کی انہیں کوششوں کا اعتراف کیا تھا۔
فیاض الحسن چوہان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پروفیسر وارث میر جولائی 1987 میں انتقال کر گئے تھے اور انہوں نے کبھی بنگلہ دیش جا کر کوئی ایوارڈ وصول نہیں کیا۔ نہ ہی کبھی انہوں نے مکتی باہنی کی حمایت کی۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے وارث میر، فیض احمد فیض، حبیب جالب، ملک غلام جیلانی، غوث بخش بزنجو اور دیگر پاکستانی دانشوروں کو اپنے ملک کا اعلی ترین سول اعزاز دینے کا اعلان 2013 میں کیا تھا جبکہ فیاض الحسن چوہان کا یہ دعویٰ ہے کہ وارث میر نے یہ ایوارڈ بنگلہ دیش جاکر حسینہ واجد سے وصول کیا۔ بے خبر چوہان کی لا علمی اور جہالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے حسینہ واجد 1996 میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بنیں جبکہ وارث میر کا انتقال انکے حلف اٹھانے سے سے نو برس پہلے ہو چکا تھا۔
جہاں تک وارث میر کی جانب سے مشرقی پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن پر تنقید کا تعلق ہے تو حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت پاک فوج کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان نے بھی اس آپریشن کی مخالفت کی تھی جو بعدازاں پاکستان کے وزیر خارجہ بنے۔ ویسے بھی سویلینز کے خلاف کسی فوجی آپریشن پر تنقید سے کوئی غدار نہیں بن جاتا۔ 1971 کے فوجی آپریشن کے بارے میں ایسی تنقید موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے ٹی وی انٹرویوز میں کر چکے ہیں۔
صوبائی وزیر چوہان نے اپنے وارث میر مخالف ویڈیو بیان میں یہ بھی تسلیم کر لیا کہ گذشتہ سال صوبائی حکومت نے پنجاب یونیورسٹی کے قریب واقع وارث میر انڈر پاس کا نام اس لئے تبدیل کیا کہ بزدار حکومت حامد میر سے خوش نہیں تھی۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر حامد میر پر تنقید ضرور کریں لیکن تنقید اور دھمکی میں فرق روا رکھنا چاہئیے۔ ملک کے آزاد صحافی انکےاس بیان کو آزادی اظہار پر حملہ سمجھتے ہیں اور وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پنجاب کے وزیر اطلاعات کی طرف سے وارث میر پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا نوٹس لیں۔
ویسے بھی بنگلہ دیش کی حکومت نے 2012 میں صرف وارث میر نہیں بلکہ فیض احمد فیض، حبیب جالب اور دیگر پاکستانی دانشوروں کے لئے بھی فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پنجاب حکومت نے ان میں سے کسی کو غدار وطن قرار نہیں دیا اور ان میں سے کسی کے نام پر رکھے گے انڈر پاس یا سڑک کا نام تبدیل نہیں کیا۔ صرف وارث میر انڈر پاس کا نام ہی بدلا گیا ہے اور صرف انہی پر غدار ہونے کا الزام لگایا گی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ پنجاب حکومت کا اصل مسلئہ وارث میر نہیں حامد میر کی آزاد صحافت ہے۔
