سپیکر پنجاب اسمبلی نے وارث میر پر غداری کا فتوی مسترد کر دیا


سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے قرار دیا ہے کہ معروف صحافی اور دانشور پروفیسروارث میر اپنی آخری سانس تک ایک محب وطن پاکستانی تھے اور انھیں ایک حکومتی وزیر کی جانب سے غدار قرار دینا تمام پاکستانیوں کی توہین ہے.
سپیکر پنجاب اسمبلی نے یہ ریمارکس سابق صوبائی وزیر اور مسلم لیگ نون کے ایم پی اے خلیل طاہر سندھو کی جانب سے ایک پوائنٹ آف آرڈر پر دئیے جس میں انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں نہایت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معروف پاکستانی دانشور پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قراردیا ہے۔ خلیل طاہر سندھو نے مطالبہ کیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان پر صوبائی وزیر کی سرزنش کی جانی چاہئے۔ اس موقع پر چوہدری پرویز الہی نے وزیر اطلاعات کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پروفیسر وارث میر کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ پروفیسر وارث میر ایک انتہائی قابل احترام اور بے باک صحافی تھے جنہوں نے ساری زندگی اپنی قلم سے پاکستان کی خدمت کی۔ پرویز الہی نے کہا کہ وارث میر ایک سچے اور کھرے پاکستانی تھے جو پہلے دن سے اپنی وفات تک پاکستان کے وفادار رہے اور اپنی تحریروں سے اس کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ وارث میر ایک محب وطن دانشور تھے اورانہیں غدار قرار دینا ہر پاکستانی کی توہین ہے۔ پرویز الہی نے پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کو ہدایت کی کہ وہ فیاض چوہان کے وارث میر مخالف بیان کے معاملے کو دیکھیں۔ انہوں نے راجہ بشارت کو مزید ہدایت کی کہ پروفیسر وارث میر مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کی جائے۔
یاد رہے کہ فیاض چوہان نے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پروفیسر وارث میر غدار وطن ہیں چونکہ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں اپنے ملک کے اعلی ترین سول اعزاز سے نوازا تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وارث میر کے علاوہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے انقلابی دانشوروں کو بھی بنگلہ دیشی حکومت نے مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف خونی فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر اسی اعزاز سے نوازا تھا۔ لیکن ان میں سے کسی کو وارث میر کی طرح غدار قرار نہیں دیا گیا۔
بدزبان فیاض چوہان کے ان الزامات کے جواب میں ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان، پاکستان بار کونسل، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے فیاض چوہان کی شدید مذمت کی تھی اور اسے مرحوم دانشور کے خاندان کے خلاف عوامی سطح پر نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا تھا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر پہلے ہی فیاض الحسن چوہان کو اپنے والد پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دینے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس دے چکے ہیں اور بیہودہ اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حامد میر کے وکیل جہانگیر خان جدون کا کہنا ہے کہ فیاض چوہان نے سرکاری طور پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں حامد میر اور ان کے والد معروف لکھاری اور صحافت کے استاد پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قرار دے دیا حالانکہ ان کی ملک اور قوم کے لیے گرانقدر خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال امتیاز عطا کیا تھا۔ حامد میر نے ہرجانے کے نوٹس میں مطالبہ کیا ہے کہ فیاض چوہان 14 روز میں اپنے بیہودہ اور بے بنیاد الزامات پر معافی مانگیں اور اس معافی کی اخبارات اور چینلز پر بھی اشاعت کی جائے۔اگر فیاض چوہان اپنی اس گری ہوئی حرکت پر معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف سول اور فوجداری مقدمات دائر کئے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button