واشنگٹن میں نئے سفیر کی تعیناتی تنازعے کا شکار کیوں؟

کپتان حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر کے 71 سالہ سابق صدر سردار مسعود احمد خان کو امریکہ میں نیا پاکستانی سفیر مقرر کرنے کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں ہے اور اسے فارن سروس کے موجودہ افسران کا حق مارنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک انتہائی اعلیٰ آئینی عہدے، یعنی صدارت پر تعینات شخص نے تعیناتی کی مدت پوری ہونے کے بعد ایک نسبتاً نچلے درجے کی تعیناتی لینے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم مسعود احمد خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر صدر آزاد کشمیر کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے کے بعد اس قدرے نچلے درجے کی تعیناتی کو قبول کیا ہے۔
یاد رہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اپنی طے شدہ مدت ملازمت مکمل کر چکے ہیں اور ان کی جگہ ایک ریٹائرڈ 71 سالہ سفارت کار سردارواشنگٹن میں نئے سفیر کی تعیناتی تنازعے کا شکار کیوں؟ مسعود خان کو تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مسعود خان کی واشنگٹن میں تعیناتی کا جواز دینے والوں کا کہنا ہے کہ سابق ماہر سفارت کار اقوام متحدہ کے جینیوا اور نیویارک دفاتر میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ اپنے طویل سفارتی کیریئر میں وہ بیجنگ جیسے اہم دارالحکومت میں بھی بطور سفیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ مسعود خان کی قابلیت دیکھتے ہوئے ہی انہیں وزارت خارجہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مدت ملازمت میں کئی سالوں تک توسیع دی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خصوصی تعلقات کی وجہ سے قسمت کی دیوی ان پر ہمیشہ مہربان رہی ہے اور اسی لیے ان اہم سفارتی ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد انہیں آزاد کشمیر کے صدر جیسے اہم اور حساس عہدے کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔ حال ہی میں انہوں نے اس عہدے کی پانچ سالہ معیاد مکمل کی ہے۔
تاہم مسعود خان کی تعیناتی فارن سروس آف پاکستان سے منسلک افسران کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ باہر سے لاکر لوگوں کو سفیر لگانے کے عمل سے ان کا حق مارا جارہا ہے۔ انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ میں اس تعیناتی کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کیا گیا ہے کہ اس سے پاکستان کو سفارتی میدان میں کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ دراصل ہر ادارے میں کچھ تقرریوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ وزارت خارجہ کے چند ہی سفارت خانوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ لہذا وزارت خارجہ کے افسروں کو بھی امید ہوتی ہے کہ انہیں بھی 30 سال کی محنت کے بعد ان اہم سفارتخانوں میں خدمات انجام دینے کا موقع مل پائے گا، لیکن سردار صاحب کے واشنگٹن میں سفیر کے عہدے پر تعیناتی پر رضامندی کے بعد کم از کم تین سال تک تو وزارت خارجہ کے کسی حاضر سروس افسر کی وہاں پر تعیناتی ممکن نہیں ہوگی۔ اس عرصے میں یقیناً بہت سارے قابل اور واشنگٹن میں تعیناتی کے اہل افسران کی ریٹائرمنٹ قریب آن پہنچی ہوگی۔
سردار مسعود خان کی تعیناتی پر یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ایک ریٹائرڈ سفارت کار جس نے پہلے ہی بہت ساری اہم سفارتی ذمہ داریاں نبھا لی ہیں وہ اس نئی تعیناتی سے پاکستان اور امریکہ کے موجودہ گھمبیر تعلقات میں ایسی کیا بنیادی تبدیلی لاسکیں گے، جس سے پاکستان کو سیاسی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ مسعود خان پاکستان اور امریکہ کے درمیان وہ فاصلے ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جن کی بنا پر صدر جو بائیڈن وزیراعظم عمران خان کو فون تک کرنے کے روادار نہیں؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں باہمی مفادات کے ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے یہ امید بے جا دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سو ممالک کے تعلقات میں اشخاص کی ذہانت اور سفارت کاری ایک حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی ہے مگر تعلقات کی ساری جہتوں کا نہ تو ایک شخص احاطہ کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں حل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد کے سفارتی حلقوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ تعلقات کی بنیاد ریاستوں کے قومی مفادات پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ریاستوں کے مفادات آپس میں ٹکرا رہے ہوں تو سردار صاحب جیسے کئی ماہر سفارت کار بھی صرف اپنی شخصیت، تجربے یا ذہانت کے بل بوتے پر ان میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں لا سکتے۔
انکا کہنا ہے کہ اگر فیصلہ ساز یہ سمجھتے ہیں کہ سردار صاحب کے کشمیری پس منظر کی وجہ سے امریکہ کشمیر کے معاملے میں ہماری بات سنے گا اور ہمارے موقف کو بہتر سمجھتے ہوئے اس کے حل میں ہماری مدد کرے گا تو اس سے بڑی خام خیالی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ ناقدین سوال کرتے ہیں کہ کیا جنوبی تیمور اور جنوبی سوڈان نے کوئی ماہر سفارت کار بھیج کر امریکی ہمدردی اور مدد حاصل کی جس نے ان کی آزادی کی راہ ہموار کی؟ اگر صرف ماہر سفارت کاری ان تنازعات کو حل کرسکتی ہے تو فلسطین اب تک ایک آزاد مملکت ہوتی۔ اس لیے اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا امریکی مفاد میں ہوا تو یہ قضیہ کسی ریٹائرڈ سفارت کار کی مہارت کے بغیر بھی حل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے اداروں کی مضبوطی کی باتیں کرتی رہی اور وزیر اعظم عمران خان اپنے خطابات میں آج بھی اداروں کو مضبوط کرنے کا ذکر کرتے ہیں مگر سوال یہ یے کہ کیا ایسی تعیناتیوں سے ادارے مضبوط ہوں گے یا کمزور؟ واشنگٹن میں سفیر کی تعیناتی اسٹیبلشمنٹ کی منشا کے بغیر نہیں ہوتی لہذا یہ یقینی بات ہے کہ حکومت کے علاوہ اس تعیناتی میں اسٹیبلشمنٹ کا بھی کردار ہے۔ لیکن سوال یہ یے کہ کیا اس طرح کی تعیناتیاں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ادارے میں قبول ہوں گی؟ یقیناً نہیں۔ اس طرح کی بےجا تعیناتیاں وزارت خارجہ کو بحیثیت ادارہ کمزور کریں گی اور اس کے افسروں کے حوصلے پست ہوں گے۔ لہذا ناقدین کا کہنا یے کہ وزارت خارجہ جیسے اہم ادارے کے تحفظ کے لیے ایسی غیر ضروری تعیناتیوں کا راستہ روکنے کی ضرورت ہے۔
