والدہ کے جانے سے نواز شریف کا ایک بڑا جذباتی سہارا چلا گیا


لندن میں انتقال کر جانے والی میاں محمد شریف کی بیوہ اور نواز شریف کی والدہ ماجدہ شمیم اختر اگرچہ ایک سادہ اور گھریلو خاتون تھیں لیکن اپنے بیٹوں کے سیاست کی پرخار وادی میں اترنے کے بعد جب بھی مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے اورانہیں جیل کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ان کے لئے کسی کمزوری کا باعث بننے کی بجائے انکے شانہ بشانہ ایک چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑی ہوئیں اور ہمیشہ ان کا حوصلہ بڑھایا۔ چنانچہ بیگم شمیم شریف اپنی اولاد کے لیے ایک بڑا نفسیاتی اور جذباتی سہارا بھی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اگر کسی نے اولاد کے ہاتھوں والدین کا مثالی احترام دیکھنا ہے تو وہ شریف خاندان کو دیکھے جہاں بزرگوں کو صحیح معنوں میں گھر کا بڑا بنا کر رکھا جاتا ہے اور جہاں صبح کا آغاز اور دن کا اختتام والدین کی دعائیں لیے بغیر نہیں ہو سکتا۔ میاں شریف کی اولاد میں سے اپنے والدین کی سب سے زیادہ عزت اور خدمت کرنے کا اعزاز بھی شریف خاندان میں نواز شریف کو ہی حاصل ہے۔ نواز شریف کی شخصیت اور کردار سازی میں انکے والد میاں محمد شریف کے علاوہ ان کی والدہ کا بھی نمایاں حصہ تھا۔ بیگم شمیم شریف ایک سیدھی سادی، عبادت گزار گھریلو خاتون تھیں جن کا کسی سیاسی سرگرمی یا دنیا داری کے کسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا، سوائے اس کے کہ جو کوئی بھی ان کے سامنے آتا اور احترام سے جھک کر انھیں سلام کرتا، وہ اپنے نرم مہربان لہجے میں انھیں دیر تک دعائیں دیا کرتیں۔
1999 میں جنرل مشرف کے فوجی انقلاب کے وقت سب سے پہلے سڑکوں پر نکل کر صدائے احتجاج بلند کرنے والے مشاہد اللہ خان کہتے ہیں، ‘مجھے وہ بالکل نہیں جانتی تھیں، ذاتی حیثیت میں نہ سیاسی حیثیت میں لیکن پہلی بار جب ان سے میرا سامنا ہوا اور میں نے انھیں سلام کیا تو ماں کی گرم آغوش کی یاد تازہ ہو گئی، اپنے پوپلے منہ سے وہ تادیر مجھے دعائیں دیتی رہیں، بالکل مشرقی ماؤں کی طرح جو اپنے اور ہمسائی کے بچوں میں کبھی فرق نہیں کر پاتیں۔‘
محترمہ شمیم اختر کے بارے میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے بیشتر رہنماؤں کے خیالات کی نوعیت کچھ ایسی ہی ہے لیکن شریف خاندان سے گہرا تعلق اور اس کے مزاج سے آگاہی رکھنے والے مرحوم صحافی مجید نظامی کی معلومات اس بارے میں مختلف تھیں۔ مجید نظامی سے لاہور کے ایک اخبار کے ایڈیٹر عطا الرحمن کی قربت بہت گہری رہی ہے۔ ان کے بقول نظامی صاحب کہا کرتے تھے کہ محترمہ شمیم اختر کوئی معمولی خاتون نہ تھیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ شریف برادران کی پرورش اور تربیت میں ان کے والد میاں محمد شریف کی آہنی شخصیت اور مزاج کا حصہ بہت زیادہ ہے، یہ تاثر کچھ ایسا غلط بھی نہیں لیکن نظامی صاحب کے خیال میں ان کی والدہ کا حصہ کہیں زیادہ ہے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ شمیم اختر کی شخصیت کا ایک پہلو تو وفادار اور پروقار خاتون خانہ کا تھا لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ وہ ایک روحانی خاتون بھی تھیں۔
یہی وجہ تھی کہ میاں صاحبان، خصوصاً نواز شریف اپنے ہر فیصلے سے قبل ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اپنے منصوبوں، فیصلوں اور سیاسی مہم جوئی کے ارادوں سے انھیں سب سے پہلے آگاہ کرتے اور ان کی اجازت کے بعد ہی کوئی قدم اٹھاتے۔ مجید نظامی اکثر کہا کرتے کہ ‘میاں نواز شریف کی کامیابی میں ان کی والدہ کی سرپرستی اور رہنمائی کا کردار سب سے زیادہ ہے۔‘ سیاسی حریف اور شریف خاندان کی سیاست کے نقاد یہ کہتے اکثر پائے جاتے ہیں کہ یہ کاروباری لوگ سیاست کو کیا جانیں؟ لیکن روزنامہ ‘پاکستان’ کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی مختلف کہانی سناتے ہیں۔ یہ 1999 کی بات ہے جب جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، نواز شریف اور خاندان کے دیگر افراد ابھی تک مختلف جیلوں میں بند تھے جب کہ ان کے والد میاں محمد شریف کی نظر بندی چند روز پہلے ہی ختم کی گئی تھی۔مسلم لیگ کے سینیئر نائب صدر کی حیثیت سے اعجاز الحق ان دنوں فوجی حکومت اور شریف خاندان میں بیچ بچاؤ کرانے کے لیے متحرک ہوئے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے شامی صاحب سے رابطہ کر کے میاں محمد شریف تک رسائی کی کوشش کی۔ مجیب الرحمن شامی نے یہ درخواست ان تک پہنچائی تو انھوں نے اگلے روز ناشتے پر انھیں اس شرط پر مدعو کر لیا کہ ملاقات میں اعجاز الحق کے علاوہ خود مجیب الرحمن شامی اور لاہور کے ایک مؤثر دینی مدرسے کے مہتمم مولانا عبدالرحمن اشرفی بھی موجود ہوں۔
قید و بند کی کیفیت سے گزرنے والے خاندان میں بے ترتیبی، ذہنی دباؤ اور جھنجھلاہٹ ایک معمول کی بات ہے، میاں محمد شریف سے ملنے کے لیے جانے والے اس وفد کے سامنے اگر اس کے کچھ مظاہر آجاتے تو ان کے لیے حیرت کی کوئی بات نہ ہوتی۔ مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ میاں شریف اپنے ملنے والوں سے عام طور پر ناشتے کی میز پر ملاقات کیا کرتے تھے جو ان کی اہلیہ شمیم اختر کے حسن انتظام اور سیلقہ شعاری کی تصویر پیش کیا کرتا۔ اس میز پر نان کلچے، چکڑ چھولے اور حلوہ پوری سمیت وہ تمام اجزا موجود ہوتے جو لاہوری ناشتے کی پہچان ہیں۔ میاں شریف کے مہمانوں نے نظر بندی کے خاتمے سے اگلے روز بھی اس انتظام میں کوئی کمی نہ پائی۔ اس خاندان کے مضوط اعصاب کی ایک گواہی تو اس منظر سے سامنے آتی ہے لیکن ناشتے کی اس میز پر ہونے والے گفتگو ایک اور ہی منظر سامنے آیا۔
اعجاز الحق نے مفاہمت کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کیں جب کہ مولانا عبدالرحمن اشرفی نے ان تجاویز کے حق میں دینی دلائل کے ساتھ حکمت اور مصلحت کی اہمیت واضح کی۔شامی صاحب کے مطابق میاں شریف اطمینان کے ساتھ یہ باتیں سنتے رہے جب یہ لوگ خاموش ہوئے تو انھوں نے بڑے مضبوط لہجے میں ایک ہی بات کہی:’انعام جتنا بڑا ہوتا ہے، اللہ کی طرف سے آزمائش بھی اتنی ہی بڑی آتی ہے جو کوئی آزمائش پر پورا نہیں اتر سکتا، وہ شکر گزاری کا حق ادا نہیں کرسکتا۔‘
مجید نظامی تک جب یہ مکالمہ پہنچا تو انھوں نے کہا کہ بے شک یہ جملہ میاں شریف کی زبان سے ادا ہوا ہے لیکن یہ مزاج ان کی اہلیہ کا ہے، انھوں نے ہی ابتدا کے ان دنوں میں یہ بات اپنے خاندان کے لوگوں میں راسخ کی ہو گی۔مجیب الرحمن شامی اس کی تائید اس طرح کرتے ہیں کہ آسائشوں کے عادی اس خاندان پر 1999 کے بعد پے درپے مصیبتیں آئیں، یہ لوگ صرف اقتدار سے محروم نہیں ہوئے، جیلوں میں نہیں بھیجے گئے بلکہ ان موقع پر میاں شریف، عباس شریف اور کلثوم نواز کی وفات جیسی آزمائشیں بھی آئیں لیکن ان تمام مراحل پر کسی روایتی عورت کی طرح وہ اپنے شوہر اور بیٹوں کے لیے کمزوری کا باعث نہیں بنیں بلکہ چٹان کی طرح ان کی پشت پر کھڑی ہو گئیں۔ اپنے اس کردار کے لیے وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تادیر یاد رکھی جائیں گی۔
کچھ عرصہ قبل جب جیل میں میاں نواز شریف علیل ہو گئے اور انھیں ملک سے باہر بھیجنے کے لیے کوششیں شروع ہوئیں تو عطا الرحمن کے مطابق اس موقع پر انھوں نے کہا کہ وہ باہر نہیں جائیں گے بلکہ اپنی سرزمین پر جیل میں ہی مرنا پسند کریں گے۔ وہ شریف خاندان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس مرحلے پر بعض فوجی حکام نے ان کی والدہ سے ہی رابطہ کر کے درخواست کی تھی کہ ان کی بیٹے کی صحت خراب ہے، اگر مزید بگڑ گئی تو اس سے بہت پیچیدگی پیدا ہو جائے گی، اس سے لیے آپ انھیں بیرون ملک بھیجنے کے لیے قائل کریں۔ یہ بحران بھی شمیم اختر مرحومہ کے متحرک ہونے سے ٹلا تھا، اس طرح اس دنیا سے جاتے جاتے بھی خالص گھریلو خاتون ہوتے ہوئے بھی قومی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کر گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں بیگم شمیم شریف کی یاداشت کافی خراب ہوگئی تھی اور انہیں اپنے آس پاس کے لوگوں کو پہچاننے میں مشکل پیش آتی تھی۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ ان کی وفات نمونیا کے باعث ہوئی جس نے ان کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ لیکن نواز شریف کے لیے سب سے زیادہ دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنے والد کو لحد میں اتار سکے اور نہ ہی اپنی والدہ کو کیونکہ جن مسائل کا ان کو مشرف دور میں سامنا تھا وہ مسائل آج بھی باقی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button