کیا خادم رضوی کا بیٹا باپ کی جماعت کو سنبھال پائے گا؟

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے سعد رضوی کو جانشین بنانے کے فیصلے پر ناقدین کی جانب سے یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ ٹی ایل پی میں درجنوں سینئر ترین علمائے دین کی موجودگی کے باوجود ایک نوجوان لڑکے کو جماعت کا سربراہ بنا دینا کیا کوئی دانشمندانہ فیصلہ ہے خصوصا جب یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ تحریک لبیک بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح موروثی سیاست کے راستے پر گامزن ہوگئی ہے۔
یاد رہے کی ٹی ایل پی کی مرکزی شوری نے علامہ خادم رضوی کے انتقال کے بعد ان کے 35 سالہ دھیمے مزاج بیٹے سعد رضوی کو قیادت سونپی ہے۔ علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ سے قبل ان کے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کی نامزدگی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ وہ اس سے قبل تحریک لبیک کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ علامہ خادم کے انتقال کے بعد پارٹی رہنماؤں کی ہنگامی مشاورت سے مرکزی شوریٰ نے حافظ سعد کو نیا امیر بنانے پر اتفاق کیا۔ تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سعد رضوی کو عبوری طور پر جماعت کا سربراہ بنایا گیا ہے جب کہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ تحریک لبیک کی اٹھارہ رکنی مرکزی شوریٰ جلد کرے گی۔
سعد دراصل خادم رضوی کے دو بیٹوں میں سے بڑے بیٹے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی فوری تقرری سے جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ تو مکمل ہوگیا لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کے دور میں جماعت کا سخت گیر موقف اہ ے والد کی طرح لیکر آگے بڑھنا ہے جن پر کہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ہمیشہ ایجنسیوں کے کہنے پر دھرنا دیتے ہیں۔ لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بعد ازاں بطور ٹی ایل پی امیر انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں اعلان کیا کہ اگر فیض آباد دھرنے کے موقع پر حکومت کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے فوری بیدخل کرے۔
یاد رہے کہ سعد رضوی اس وقت لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوزرغفاری میں درس نظامی کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔ سعد رضوی کے قریبی دوست اور علامہ خادم رضوی کے ایک پیروکار محمد سلمان نے سعد کو جماعت کا نیا امیر بنانے کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہتر انتخاب کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا خصوصا جب یہ فیصلہ مکمل اتفاق رائے سے ہوا۔ ان کے مطابق خادم رضوی ذیادہ تر علمی کام اور تقاریر کیا کرتے تھے جبکہ پالیسی سازی سعد دیگر رہنماوں کی مشاورت سے کرتے تھے۔ سلمان کے مطابق سعد رضوی شروع دن سے عملی طور پر تحریک لبیک کے تنظیمی امور چلا رہے تھے اس لیے ان کے لیے اس جماعت کو چلانا کوئی نئی بات نہیں ہوگی کیونکہ وہ اکثر معاملات کو پہلے سے خود جانتے اور نگرانی کرتے رہے ہیں۔
سلمان نے بتایا کہ علامہ خادم رضوی کچھ عرصہ سے سعد کی اپنے جانشین کے طور پر تربیت کر رہے تھے اور فیض آباد کا آخری دھرنا بھی سعد کی قیادت میں دیا گیا۔ علامہ صاحب خود طبعیت خراب ہونے کے باعث صرف اس وقت دھرنے میں آئے جب ھکومت سے معاہدے اور دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرنا تھا۔
سعد حسین رضوی کے قریبی دوستوں کے مطابق ان کا کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ سے گہرا رابطہ ہے۔ وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹویٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ علامہ خادم رضوی نے ملک کے اکثریتی سنی العقیدہ بریلوی مکتبہ فکر کی سیاسی بیداری، سٹریٹ پاور اور ووٹ بینک کو نئی طاقت اور سمت دی۔ یہ بات بھی اب واضح طور پر نظرآرہی ہے کہ دنیا میں مسلح تحریکوں کے خلاف حالیہ چند سالوں میں پیدا ہونے والے واضح اور ایک حد تک اجتماعی مؤقف کے بعد ریاست پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے شدت پسند دیوبندی عقیدہ کی حامل جہادی یا دہشتگرد تنظیموں سے قدرے پرے نظر آرہے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں پیدا ہونے والے اس خلا کو، بعض مبصرین کے مطابق سنی بریلوی عقیدہ کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے بہت تیزی سے پر کیا تھا۔ جس کی قیادت اب عملی طور پر نوجوان سعد رضوی کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق علامہ خادم رضوی کا جنازہ بتاتا ہے کہ یہ جماعت مستقبل میں اپنی سٹریٹ پاور کے ساتھ پاکستان کے فیصلہ سازوں پر اثرانداز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے خصوصا اگر اس نے خادم رضوی کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھا۔
تاہم کچھ تجزیہ نگار اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ان کا اصرار ہے کہ ماضی کی روایات کو مدنظر رکھیں تو ایسی مثال نہیں ملتی کی کوئی مذہبی جماعت اہ ے مقبول سربراہ کی وفات کے بعد متحد یا موثر رہ پائے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سلیم قادری کی سربراہی میں سنی تحریک بنی تھی، جسے اپنے سخت گیر بیانیے کی وجہ سے شہرت ملی لیکن کراچی میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں ان سمیت دیگر پارٹی قیادت کے قتل کے بعد سنی تحریک غیر متحرک ہو گئی۔ اسی طرح شاہ احمد نورانی کی جے یو آئی، سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم کی مثالیں موجود ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی طرح تحریک لبیک کو بھی گذشتہ چند سالوں میں جو غیر معمولی شہرت ملی اس میں سب سے بڑا کردار علامہ خادم حسین رضوی کی شعلہ بیانی، انکی نت نئی گالیوں اور سخت گیر موقف کا تھا۔ پھر ان کے خطابات اور ناموس رسالت پر سخت موقف کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد اس جماعت سے منسلک ہوگئی اور یوں تحریک لبیک پنجاب سے نکل کر سندھ میں بھی پھیل گئی۔ سعد رضوی کی بطور ٹی ایل پی سربراہ تقریری پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں جس طرح خادم رضوی نے آسیہ مسیح کی رہائی اور فرانس صدر کے بیان کے خلاف احتجاج کیا گیا ویسا شاید سعد اس لیے نہ کر پائے کیوں کہ اسکے پاس وہ کرشمہ اور شخصیت نہیں ہے جو ان کے والد کے پاس تھی۔ انکا کہنا ہے کہ اس سطح کے لیڈر کے انتقال کے بعد موروثی قیادت کے معاملے اور حکمت عملی میں اختلاف پر دھڑے بندیاں بھی سامنے آسکتی ہیں۔
لیکن دوسری طرف تحریک لبیک کے رہنما حسن بٹ کا کہنا ہے کہ علامہ خادم کی وفات جماعت کے لیے بڑا نقصان ہے لیکن یہ ایک تنظیم ہے جس کا مکمل انتظامی ڈھانچہ اور مجلس شوری موجود ہے۔ ’ہمارے ملک بھر میں لاکھوں کارکن ہیں جو قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہیں لہٰذا نئے امیر کے ساتھ ٹی ایل پی اپنے موقف اور منشور پر پہلے کی طرح ہی قائم رہے گی۔‘ حسن بٹ کے مطابق حافظ سعد پڑھے لکھے اور تجربہ کار ہیں۔ انہوں نے انٹر کے بعد مذہبی تعلیم حاصل کی، قرآن پاک حفظ کیا اور عالم کا کورس مکمل کر رکھا ہے۔ ’وہ پہلے بھی تحریک لبیک کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل جیسے اہم عہدے پر کام کرتے رہے ہیں اور امید ہے وہ جماعت کو بہتر انداز میں چلائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ 35 سالہ حافظ سعد ’سمجھ دار ہیں لیکن وہ اپنے والد کی طرح شعلہ بیان اور سخت لب و لہجہ نہیں رکھتے بلکہ دھیمے مزاج کی شخصیت ہیں، ان کا جوش خطابت بھی سابق امیر جیسا نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر قائم مقام امیر نامزد کردیا گیا ہے مگر حتمی فیصلہ مجلس شوری کرے گی۔ ’جلد ہی مجلس شوری کا اجلاس ہوگا جس میں ملک بھر سے قیادت شریک ہوگی، وہاں ہر پہلو سے حالات کا جائزہ لیا جائے گا پھر فیصلہ ہوگا کہ حافظ سعد رضوی کو مستقل امیر تحریک لبیک کام کرنے دیا جائے یا کوئی ان سے بہتر ہے جو موثر انداز میں تنظیم اور جماعت کو چلا سکے۔‘
