والدین نے اپنے بچوں کا نام کورنٹائن اور سینیٹائیزر رکھ دیا

جہاں اب دنیا بھر میں کورونا کے باعث پھیلا خوف کچھ کم ہونے لگا ہے اور اب لوگ کورونا کی وباء سے متعلق بہت ساری باتیں جان چکے ہیں، وہیں کچھ افراد کورونا سے متعلق شعور اجاگر کرنے کےلیے انوکھے قدم بھی اٹھا رہے ہیں۔
اور ایسا ہی ایک انوکھا قدم کورونا سے متاثرہ ملک بھارت کے والدین نے بھی اٹھایا، جنہوں نے اپنے ہاں پیدا ہونے والے 2 نوزائیدہ بچوں کے نام ’کورنٹائن‘ اور ’سینیٹائیزر‘ رکھ دیے۔ بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ کے ایک گاؤں میں والدین نے اپنے ہاں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کے نام ’کورنٹائن‘ اور ’سینیٹائیزر‘ رکھ دیے۔
اتر پردیش کے شہر میرٹھ کے گاؤں مودی پورم کے ایک جوڑے کے ہاں پہلی بار دو جڑواں بیٹوں کی پیدائش ہوئی تو جوڑے نے بیٹوں کے نام ’کورنٹائن‘ اور ’سینیٹائیزر‘ پر رکھ دیے۔
اس حوالے سے بچوں کی ماں کا کہنا تھا کہ جب وہ حمل سے تھیں تو انہیں اندازاہ ہوا کہ کورونا سے بچنے کے صرف دو ہی طریقے ہیں اور وہ ہیں ’کورنٹائن‘ ہوجانا اور حفاظفت کےلیے ’سینیٹائیزر‘ سے بار بار ہاتھ دھونا، اس لیے انہوں نے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بچوں کے نام ہی ’کورنٹائن‘ اور ’سینیٹائیزر‘ رکھ دیے۔ بچوں کے والد نے بتایا کہ انہوں نے بچوں کے نام سے قبل ڈاکٹرز سے بھی مشورہ کیا اور انہوں نے بھی انہیں بچوں کےلیے ’کورنٹائن‘ اور ’سینیٹائیزر‘ نام ہی تجویز کیے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور کے ایک جوڑے نے رواں برس اپریل میں اپنے ہاں پیدا ہونے والے 2 جڑواں بچوں کے نام بھی ’کورونا‘ اور ’کووڈ‘ رکھے تھے۔
جوڑے کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور جوڑے نے موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک بچے کا نام ’کورونا‘ جب کہ دوسرے کا نام ’کووڈ‘ رکھا تھا۔جوڑے نے بیٹے کا نام ’کووڈ‘ اور بیٹی کا نام ’کورونا‘ رکھا۔
