واٹس ایپ کا اہم سکیورٹی مسئلے کو ٹھیک کرنے کا دعویٰ

واٹس ایپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سیکیورٹی مسئلے پر قابو پالیا ہے جس کی وجہ سے صارفین کے فون نمبر گوگل سرچ رزلٹس میں نظر آرہے تھے۔
واٹس ایپ کی جانب سے ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ایک انٹرنیٹ سکیورٹی محقق اتول جے رام نے انکشاف کیا تھا کہ واٹس صارفین کی جانب سے جو فون نمبر کلک ٹو چیٹ فیچر کےلیے استعمال کیے جارہے ہیں وہ گوگل سرچ میں نظر آرہے ہیں۔ جے رام نے بتایا تھا کہ کلک ٹو چیٹ کے نتیجے میں ایک لنک بنتا ہے جس میں صارفین کے فون سادہ ٹیکسٹ میں نظر آتے ہیں۔ چوں کہ ان لنکس کےلیے سرور روٹ میں robot.txt فائل نہیں ہوتی تو یہ گوگل یا دیگر سرچ انجنز کے انڈیکس میں انہیں شو ہوجاتے ہیں۔
محقق نے 3 لاکھ فون نمبروں کو گوگل سرچ رزلٹس میں دیکھا اور ان کا کہنا تھا کہ ‘ site:wa.me ‘ سرچ کرکے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق یہ پہلی بار نہیں جب اس مسئلے کو رپورٹ کیا گیا، اس سے قبل فروری میں WaBetaInfo نے بھی اس کی نشاندہی کی تھی۔ اب ایسا تو لگتا ہے کہ واٹس ایپ نے مسئلے پر قابو پالیا ہے مگر یہ بہت بڑا سکیورٹی مسئلہ تھا جو کئی ماہ تک برقرار رہا۔
فیس بک نے 2018 میں فون نمبروں کی مدد سے صارفین کو لوگوں کو تلاش کرنے سے روک دیا تھا۔ واٹس ایپ کی جانب سے بھی چیٹ سیکیورٹی کو بہتر بناتے ہوئے اجنبی افراد کی جانب سے گروپ چیٹ انوائٹ یا سلیکٹ کانٹیکٹس بلاک کرنے کا فیچر دیا گیا تھا۔
اس نئے سکیورٹی مسئلے پر واٹس ایپ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کلک ٹو چیٹ فیچر صارفین کو مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا خصوصاً چھوٹے اور مائیکرو کاروباری اداروں کےلیے تاکہ وہ اپنے صارفین سے رابطے میں رہ سکیں۔
