وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہیں یا مریم؟

شاہد خاقان عباسی کی جانب سے شہباز شریف کو وزارت عظمی کا اگلا امیدوار قرار دیے جانے اور نون لیگی ترجمان محمد زبیر کی جانب سے اس فیصلے بارے اظہار لاعلمی کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ مستقبل میں میں دونوں میں سے بالآخر امیدوار کون ہو گا۔ نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اگر عمران خان الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل قرار دیے جاتے ہیں یا پھر ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں گھر چلے جاتے ہیں تو نواز لیگ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہی ہوں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہو گی کہ مریم نواز اسمبلی سے باہر ہیں اور الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دی جاچکی ہیں۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی اگر کوئی لندن پلان تیار ہو رہا ہے تو اس کے مطابق تبدیلی کی صورت میں نواز شریف عبوری سیٹ کے لیے شہباز شریف کے علاوہ اور کسی کو وزیراعظم بنانے پر اتفاق نہیں کریں گے۔ لیکن نون لیگی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ چھٹی کے بعد کے منظر نامے میں نواز شریف اور مریم نواز کو انصاف ملنے کا امکان موجود ہے اور یوں ان دونوں کی نااہلی بھی ختم ہو سکتی ہے لہذا وہ اگلے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے کے لئے اہل ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں میں اگلے وزیر اعظم یا تو نواز شریف خود ہوں گے یا ان کی صاحبزادی مریم نواز۔ یعنی اگر کوئی فوری سیاسی تبدیلی آتی ہے تو شہباز شریف وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے جبکہ نئے الیکشن کے بعد کے منظرنامے میں یا تو نواز شریف خود یا مریم نواز وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔
دراصل اس بحث کا آغاز شاہد خاقان عباسی کے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو سے ہوا جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ مستقبل میں نواز لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے کیونکہ مریم نواز الیکشن لڑنے کیلئے نااہل ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’الیکشنز جب بھی ہوں گے ہماری جماعت کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ جو پارٹی کا صدر ہوتا ہے وہ وزیراعظم بنتا ہے۔ شہباز شریف پارٹی صدر ہیں اور وہی ہمارے امیدوار ہوں گے۔ یعنی شاہد خاقان عباسی کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ الیکشنز کے بعد وزارت اعلیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ الیکشن سے پہلے سیاسی تبدیلی کی صورت میں ان کے وزیر اعظم بننے کی بات نہیں کر رہے۔
تاہم یہ معاملہ تب گندی صورت اختیار کرگیا جب نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر نے ایک ٹی وی پروگرام میں شاہد خاقان عباسی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں پارٹی قیادت کی جانب سے کیا جانے والا ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہے۔ انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ مریم نواز مستقبل میں وزیراعظم بننے کی خواہشمند ہیں۔ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں، لیکن وہ پارٹی ڈسپلن کی پابند ہیں۔ پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ منظور کریں گی۔
زبیر نے کہا کہ ’آئندہ انتخابات میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار کون ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے، مجھے سو فیصد یقین ہے کہ مریم نواز کو اپنی سزا اور نا اہلی کے خلاف عدالت سے ریلیف ملے گا۔ زبیر کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس چوائسز موجود ہیں۔ مریم نواز کا پلس پوائینٹ یہ یے کہ وہ۔پاپولر لیڈر ہیں اور ہجوم اکٹھا کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ اب چاہے شہباز شریف لیڈ کریں، مریم ان کے ساتھ ہہ کھڑی ہوں گی۔ زبیر نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب میں وزیراعلی ہوتے ہوئے خود کو منوایا۔ اس بارے کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اس کے اہل ہیں۔ یعنی محمد زبیر نے بڑے طریقے سے یہ کہا کہ انہیں شہباز شریف مستقبل میں وزیر اعلی کے عہدے پر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس کو آگے آنا چاہیے، لیکن مریم نواز کو بہتر پتا ہے لیکن فیصلہ انیوں نے نہیں کرنا۔ لیکن زبیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگلے الیکشن میں نواز لیگ تب ہی سویپ کرے گی جب مریم نواز انتخابی مہم کی قیادت کریں گی۔
شاہد خاقان عباسی اور محمد زبیر کے متضاد بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دراصل یہ نواز لیگ میں موجود مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کے اختلاف کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ماضی میں شاہد خاقان عباسی مزاحمتی بیانیے کے نقیب تھے اور انہیں شہباز شریف سے زیادہ مریم اور نواز شریف کے قریب خیال کیا جاتا تھا۔
