وزیراعظم آزاد کشمیر کا غیر اخلاقی سکینڈل سامنے آگیا

https://youtu.be/fjTnQbuzPIY
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی جانب سے رات گئے اپنے بیڈ روم میں ایک نامعلوم شخص کے گھسنے اور فرار کے دعوے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی سکیورٹی پر تو سوالات اٹھ ہی رہے ہیں لیکن کچھ ایسے سوالات سردار تنویر الیاس کی ذات کے حوالے سے بھی اٹھ رہے ہیں جن کا جواب فی الحال نہیں مل سکا۔ آزاد کشمیر کے کچھ صحافیوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ دراصل سردار تنویر الیاس کے بیڈروم میں اس رات ان کے ترجمان عرفان اشرف موجود تھے اور وہاں کے ایک سکیورٹی گارڈ نے ان کی قابل اعتراض خفیہ ویڈیو بنا لی تھی چنانچہ اس واقعے پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ کہانی گھڑی گئی کہ وزیر اعظم پر حملے کی غرض سے کوئی نامعلوم شخص رات گئے ان کے بیڈ روم میں گھس گیا تھا۔ اے آر وائی ٹی وی چینل نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو ان کے ایک سکیورٹی گارڈ نے اپنے ترجمان عرفان اشرف کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جس وقت نامعلوم شخص وزیر اعظم ہاؤس میں گھسا تب وہاں کے تمام سکیورٹی کیمروں کو آف کر دیا گیا تھا۔ اگلے روز جب چند مقامی صحافیوں نے یہ خبر دی تو وزیر اعظم کے ترجمان عرفان اشرف نے انکے خلاف ’جھوٹی خبریں‘ پھیلانے کے الزام میں پولیس کو کیس اندراج کی درخواست بھی دے دی۔ تاہم ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔
بتایا جا رہا ہے کہ نامعلوم شخص کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس کا سکیورٹی حصار توڑ کر وزیر اعظم کے بیڈ روم تک پہنچنے اور پھر بھاگ جانے کا واقعہ گذشتہ ہفتے اور اتوار کی رات گئے پیش آیا جس کی تصدیق وزیر اعظم کے ترجمان عرفان اشرف نے بھی کر دی ہے۔
تاہم اس مبہم دعوے کے بعد کئی ایسے سوال جنم لے رہے ہیں اور سوشل میڈیا صارفین اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔ سردار تنویر الیاس کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ انہیں زیادہ غصہ یہ ہے کہ سکیورٹی اہلکار کسی طرح ان کے کمرے تک پہنچ گیا اور پھر چھپ کر ان کی ویڈیو بھی بنالی لہذا ملا اعلی پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اس معاملے میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور دو ڈی آئی جیز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزیر اعظم کے ترجمان عرفان اشرف نے وضاحت کی کہ پرنسپل سیکرٹری کا تبادلہ ہوا ہے اور ان کا اس معاملے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں البتہ ڈی آئی جی لیول کے دو افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔ لیکن معطلی کا ابھی تک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
وزیراعظم کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی حصار توڑ کر سردار تنویر کےبیڈ روم تک پہنچنے والا شخص ممکنہ طور پر انہیں قتل کرنا چاہتا تھا، تاہم سردار تنویر الیاس کے بروقت جاگ جانے پر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نامعلوم شخص تنویر الیاس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا تاہم اس نے وزیر اعظم کے ڈرائنگ روم اور ریٹائرنگ روم کی تلاشی لینے کی کوشش کی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس دوران وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی کا پورا سسٹم اچانک بند ہو گیا اور ایک درجن سے زائد اہلکار سکیورٹی پر مامور ہونے کے باوجود اس نامعلوم شخص کو پکڑا جا سکا اور نہ ہی شناخت ہو سکی۔ تاہم پولیس نے سکیورٹی کے نظام میں کسی قسم کی خرابی کی تصدیق نہیں کہ اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی وضاحت جاری کی ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اس معاملے کی مختلف پہلوئوں سے تحقیقات ہو رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اتنا سخت سکیورٹی حصار توڑ کر وزیر اعظم کے بیڈ روم تک پہنچ جائے اور پھر بچ کر نکل بھی جائے۔ تاہم اس کے ابھی تک کوئی شواہد نہیں ملے۔ وزیر اعظم کے ترجمان عرفان اشرف کو خدشہ ہے کہ اس واقعے میں وزیر اعظم ہاؤس کا کوئی اندرونی فرد ملوث ہے جسے باہر سے کسی نے استعمال کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کے تانے بانے ممکنہ طور پر بھارت سے ملتے ہیں۔
تاہم اس معاملے کے بارے میں آزاد کشمیر کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ایک سکیورٹی اہلکار کی جانب سے وزیراعظم کے بیڈ روم کی کھڑکی سے ان کی خفیہ ویڈیو بنانے کا ہے جس کا تعلق کسی خفیہ ایجنسی سے تو ہو سکتا ہے لیکن بھارت کے ساتھ بالکل بھی نہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے سٹاف کا حصہ رہنے والے ایک شخص کے مطابق وزیر اعظم کے بیڈ روم تک پہنچنے کے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ جو عام طور پر زیادہ استعمال ہوتا ہے اس کے ذریعے مرکزی دروازے سے بیڈ روم تک پہنچنے کے لیے کم از کم سات دروازوں سے گزرنا پڑتا ہے اور ان میں سے پہلے تین دروازوں پر کوئی نہ کوئی دربان یا سنتری ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ دوسرا راستہ اوربھی پیچیدہ اور اس راستے سے بیڈ روم تک پہنچنے کے لیے سات کے بجائے نو دروازوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگر چہ مرکزی دروازے کے اندر کوئی سکیورٹی کیمرا نہیں تاہم مرکزی اور عقبی دروازے کے علاوہ کم از کم تین اندرونی دروازوں پر ہمہ وقت کسی نہ کسی پہرے دار کی موجودگی میں کوئی شخص بیڈر روم تک پہنچ سکتا ہے اور نہ واپس نکل سکتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی وزیر اعظم ہائوس کا سکیورٹی سسٹم ناکارہ ہو گیا تھا یا اس رات سی سی ٹی وی کیمرے خود آف کئے گئے تھے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے اندر کوئی کیمرا نہیں۔ البتہ داخلی دروازوں پر کیمروں سے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ اس احاطے میں داخل ہونے یا نکلنے والا کوئی بھی شخص کیمروں سے بچ کر نہیں جا سکتا۔ لیکن اس رات کمرے آف تھے جس کی وجہ معلوم نہیں ہو پائی۔
دوسری جانب آزادکشمیر کے کچھ مقامی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ پچھلے ہفتے سردار تنویر الیاس کے بیڈروم میں گھسنے والا شخص ان کا ترجمان عرفان اشرف تھا اور سکیورٹی کیمرے بھی اسی نے آف کروائے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے بیڈ روم تک باہر سے کسی شخص کی رسائی ناممکن ہے کیونکہ وہاں بھاری سکیورٹی موجود ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کی سکیورٹی کے معاملات کی دیکھ بھال چیف سکیورٹی آفیسر کی ذمہ داری ہے جو عموماً سپرٹینڈنٹ پولیس کے رینک کا آفیسر ہوتا ہے۔ اس کے ماتحت 110 کے لگ بھگ پولیس اہلکاروں پر مشتمل عملہ ہے اور اس میں ڈی ایس پی، انسپکٹر، سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت پولیس کے کمانڈوز شامل ہیں۔ یہ عملہ وزیر اعظم ہاؤس، وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے علاوہ اسلام آباد میں واقع کشمیر ہاؤس میں وزیر اعظم کے دفتر اور رہائش گاہ اور دوران سفر سکیورٹی فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ وزیر اعظم کے چیف سکیورٹی آفیسر کا کچھ ہی عرصہ قبل تبادلہ ہوا ہے اور ان کی جگہ نئے آفیسر کو چارج سنبھالے ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ یہ واقعہ رونما ہو گیا۔ وزیر اعظم ہاؤس کے داخلی اور خارجی راستوں پر ہر وقت پولیس گارڈ کی موجودگی کے علاوہ ان راستوں کی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی ہوتی ہے۔
وزیراعظم ہائوس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دن کے وقت پولیس اہلکار پی ایم ہائوس کے اندرونی دروازوں پر بھی تعینات ہوتے ہیں اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتے ہیں۔ تاہم رات کو انہیں مرکزی دروازے سے باہر تعینات کر دیا جاتا ہے۔ دروازے اندر سے مقفل ہونے کے بعد اندرونی سکیورٹی کی ذمہ داری سول سٹاف پر ہوتی ہے جن میں بٹلرز، ویٹرز، خانساماں وغیرہ شامل ہیں۔ جب تک اندر سے دروازہ نہ کھولا جائے، باہر سے کسی شخص کا داخل ہونا ممکن نہیں۔ لہٰذا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سردار تنویر الیاس کے بیڈروم میں گھسنے والا شخص ان کی مرضی سے آیا تھا؟ اس سوال کے جواب میں وزیر اعظم کے ترجمان عرفان اشرف کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ضرور کوئی اندرونی اہلکار ملوث ہے کیونکہ اس کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ لیکن آزاد کشمیر کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ شخص خود عرفان اشرف ہیں، جس نے اس ایشو پر ’جھوٹی خبریں‘ پھیلانے کے الزام میں دو صحافیوں سمیت چھ افراد کے خلاف کیس درج کرنے کی درخواست پولیس کو دے دی ہے۔
