پرویز الٰہی کی چودھری شجاعت کے دونوں بیٹوں پر تنقید


مسلم لیگ قاف کے سینیئر رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے شجاعت حسین کے چھوٹے بیٹے شافع حسین کو اپنا مشیر لگانے کی جھوٹی امید دلوائی ہوئی ہے اسی لیے یہ خاندان ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہاں سے انھیں کچھ نہیں ملنا۔ پرویز الٰہی نے بی بی سی سے گفتگو میں پارٹی صدر شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے چکوال سے قومی اسمبلی کی سیٹ میں نے نکلوا کر دی جبکہ اب ان کے حلقے والے انھیں ڈھونڈتے ہیں کہ وہ جیتنے کے بعد کہاں گئے؟

آصف علی زرداری اور شہباز شریف کو آخری لمحات میں دھوکا دے کر عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملا لینے والے پرویز الہی کا کہنا ہے کہ انکی پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، جو پارٹی فیصلہ کرے گی ویسا ہی ہو گا اور ہم آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کر لیں گے۔‘ مسلم لیگ قاف میں اختلافات کے سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کر رہے اور نہ ہی کوئی کہیں جا رہا ہے۔ میری شجاعت حسین سے بات ہوئی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو مناسب نہ ہو۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کا جو دل کرے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے۔‘

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر جوڑ توڑ کی سیاست میں اہم سمجھی جانے والی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق میں اندرونی اختلافات اور پارٹی میں تقسیم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان خبروں کو تقویت اس وقت ملی جب چند روز قبل مسلم لیگ ق کے سنیئر رہنما چوہدری پرویز الہی کے بیٹے حسین الٰہی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا جبکہ اس سے قبل مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری طارق بشیر چیمہ موجودہ اتحادی حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔

اب اس بارے میں چوہدری پرویز الہی نے یہ دعویٰ کیا کہ ’شہباز شریف نے شجاعت حسین کے چھوٹے بیٹے شافع کو مشیر برائے وزیر اعظم لگانے کی جھوٹی امید دلوائی ہوئی ہے اسی لیے یہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہاں سے انھیں کچھ نہیں ملنا۔‘ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے بی بی سی سے گفتگو میں پارٹی صدر شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اسے چکوال سے میں نے سیٹ نکلوا کر دی جبکہ اب ان کے حلقے والے انھیں ڈھونڈتے ہیں کہ وہ جیتنے کے بعد کہاں گئے۔‘

البتہ ان تمام تر باتوں کے باوجود بھی ان کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ ق متحد ہے اور ہم مل کر ہی تمام تر فیصلے کریں گے۔ پارٹی اختلافات کی خبروں چوہدری پرویز الہی نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیونکہ اس حکومت کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں تو اسی لیے ہماری پارٹی کے دو بندوں کو لے کر باتیں بناتے ہیں۔ پرویز الہی نے کہا کہ ’یہ جو بھی کر لیں ان کی سیاست ہمارے گرد ہی گھومتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کہا جاتا ہے کہ دس سیٹوں کی پارٹی بلیک میل کرتی ہے جبکہ پاکستان کی سیاست ہماری پارٹی کی سیاست کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’عزت دینے والی ذات اللہ کی ہے۔ جن کے پاس 170 سیٹیں تھیں وہ ادھر ادھر پھر رہے ہیں جبکہ چند سیٹیں ہونے کے باوجود لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کہتے تھا کہ میں زرداری کو گھسیٹوں گا جبکہ اب آصف زرداری نے ہی ان کو ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ یہ لاوارث ہو گئے ہیں۔‘ پنجاب کی حالیہ سیاسی بساط پر چوہدری پرویز الہی اب بھی اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی اتحادی جماعت پی ٹی آئی کے نہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب کے امید وار تھے بلکہ اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی بھی ہیں۔ پنجاب کی سیاست میں ان کی جماعت کے کردار پر بات کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے دعویٰ کیا کہ ’حمزہ شہباز کے پاس آج بھی نمبر پورے نہیں اور جس طرح انھوں نے الیکشن کروایا وہ سب نے دیکھا۔ اسمبلی کا تقدس پامال کیا گیا۔‘ پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ ’ابھی تو انھوں نے بجٹ بھی پیش کرنا ہے۔ جس کے لیے انھیں بندے پورے کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ جو ان کے پاس نہیں۔ اسلیے اخلاقی طور پر انھیں چاہیے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ضمنی الیکشن میں بھی ہم لوگ ہی جیتیں گے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ آصف زردای نے مسلم لیگ نون کو منا لیا ہے کہ آپ کو پنجاب میں بطور سپیکر پنجاب اسمبلی ہی کام کرنے دیا جائے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں کیونکہ یہ لوگ تو پہلے ہی میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لا چکے ہیں جو ناکام ہوئی۔ اس لیے اس سب کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ یاد رہے کہ سابق صدر اور فوجی آمر جنرل مشرف کے دور حکومت میں سیاست میں عروج پانے والی مسلم لیگ قاف کے پاس اس وقت مرکز اور پنجاب کی اسمبلیوں میں صرف چند نشستیں ہیں تاہم سنہ 2018 کے انتخابات میں یہ پارٹی، تحریک انصاف کے اتحادی کے طور پر سامنے آئی اور وقتاً فوقتاً یہ خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ دونوں جماعتوں نے راہ جدا کر لی ہیں لیکن سابق وزیر اعظم عمران خان ان کو اپنے دور حکومت میں اپنے ساتھ بطور اتحادی رکھنے میں کامیاب رہے۔

اسی بارے مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی نےکہا کہ کسی اور جماعت میں جانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ کے علاقے کے لوگ اس جماعت کو قبول بھی کریں جبکہ ہمارے حلقوں میں لوگ مسلم لیگ نون کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہمارے لوگوں میں اس جماعت کے لیے کچھ قبولیت نظر آتی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ‘جتنی دیر مسلم لیگ نون کی حکومت رہی ہمارے علاقے میں ایک بھی کام نہیں ہوا جبکہ ہمارے حکومت میں آتے ہی لوگوں نے واضع فرق دیکھا کہ ہم نے آتے ہی علاقے کے حالات درست کیے۔‘

جب چوہدری پرویز الہی سے پوچھا گیا کہ آپ نے بھینتو ماضی میں عمران خان کے خلاف باتیں کیں؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تو کھل کر کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اسے ٹھیک کر لو۔ ہم اتحادی ہیں ان کے کوئی غلام تو نہیں کہ غلط کو بھی صحیح کہہ دیں۔‘ انھوں نے کہا کہ 2018 سے پہلے تک تو عمران شوقیہ طور پر سیاست کر رہے تھے اور پھر تھوڑے سے مارجن سے اتحادیوں کی مدد سے انھوں نے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی۔‘ پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ’ملکی سیاست میں سٹیبلشمنٹ کے بغیر چیزیں آگے نہیں چل سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’سیاسی جماعیں کہتی تو ہیں کہ وہ دخل نہ دیں لیکن جب تک وہ سب کو مل کر بٹھائیں گے نہیں تو چیئرمین نیب یا الیکشن کمشنر کیسے اور کون لگائے گا۔‘

Back to top button