ڈاکٹر عامر لیاقت کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اورمعرف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی نمازجنازہ ادا کر دی گئی۔
عبداللہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں ڈاکٹرعامر لیاقت کے بیٹے نےاحمد عامر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
نماز جنازہ میں سابق گورنر سندھ عمران اسمعیل، رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان سمیت محتلف سیاسی سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
دریں اثنا کراچی پولیس کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پولیس سرجن کی طرف سے رکن قومی اسمبلی و ٹی وی اینکر عامر لیاقت حسین کی میت کا معائنہ کرکے رپورٹ دینے کے بعد ان کا میت خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یادر ہے کہ ایسی پیش رفت گزشتہ روزعامر لیاقت حسین کی موت کے بعد ان کے پوسٹ مارٹم کے معاملے پر پولیس اور خاندان کے درمیان ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد ہوئی ہے۔جبکہ پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کی کوشش کی تھی جو اس کی موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ضروری تھا لیکن عامر لیاقت کے خاندان نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا تھا۔
کراچی پولیس کے مطابق عامر لیاقت حسین کے خاندان کی طرف سے عدالت کے سامنے پیشی کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے چھیپا مردہ خانہ کا دورہ کیا جہاں عامر حسین لیاقت کی میت رکھی ہوئی تھی اور لاش ورثا کے حوالے کرنے کی اجازت دی تھی۔
چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سربراہ رمضان چھیپا نے بھی میڈیا سے گفتگو میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عامر لیاقت حسین کی نماز جنازہ عصر کی نماز کے بعد ادا کی جائے گی اور انہیں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر واقع قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے پولیس سرجن کوعامر لیاقت حسین کی میت کا معائنہ کرنے کی ہدایت کردی، پولیس کی جانب سے عامر لیاقت کی میت کا معائنہ کرنے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی میں سے ضابطہ فوجداری کی سیکشن 174 کے تحت درخواست دائر کی گئی، ضابط فوجداری کی سیکشن 176 کے تحت مجسٹریٹ مرنے والے کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے انکوئری کا حکم دے سکتا ہے۔
اہلخانہ کے ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی میت کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کرنے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے پولیس سرجن کو ہدایات کی ہے کہ رکن قومی اسمبلی کی میت کا پوسٹ مارٹم کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ڈاکٹرعامر لیاقت کے خاندانی وکیل نے کہا کہ عدالتی ہدایت کے بعد پولیس سرجن عامر لیاقت کے میت کا بیرونی معائنہ کریں گے، کراچی پولیس ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پولیس کی جانب سے عامر لیاقت کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی میں سے ضابطہ فوجداری کی سیکشن 174 کے تحت درخواست دائر کی گئی، پولیس ترجمان کے بیان کے مطابق ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اہلخانہ اور پولیس نے پوسٹ مارٹم کے معاملے پر عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد پولیس عدالتی احکامات کی روشنی میں کارروائی کرے گی، عامر لیاقت حسین کے اہلخانہ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد ان کے وکیل ایڈوکیٹ خورشید خان نے کہا کہ پولیس سرجن نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے عامر لیاقت کی میت کا باہر سے معائنہ نہیں کیا، انہوں نے بتایا کہ پولیس سرجن اب اس (عامر لیاقت کی میت) کا معائنہ کریں گے۔
اس سے قبل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا تھا کہ عامر لیاقت حسین کو جمعرات کی سہ پہر 3 بجے کے قریب جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا لیکن انہیں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جب لاش کو طبی قانونی کارروائیوں کو پورا کرنے کے لیے مردہ خانے منتقل کیا گیا تو عامر لیاقت کے خاندان نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا۔عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ بشریٰ اقبال، جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، نے بھی تصدیق کی تھی کہ ان کے ورثاء احمد عامر اور دعا عامر نے ان کے پوسٹ مارٹم سے انکار کر دیا ہے۔انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی خواہشات کے مطابق مرحوم عامر لیاقت کو احترام کے ساتھ ان کے آخری آرام گاہ تک لے جایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ عامر لیاقت کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ آج دوپہر 2 بجے ادا کی جانی تھی۔تاہم، پوسٹ مارٹم کے معاملے پر پولیس اور اہلخانہ کے درمیان اختلافات کی وجہ سے عامر لیاقت کی میت مردہ خانہ میں ہونے کی وجہ سے تاحال ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی۔
ادھرسندھ پولیس نے چھیپا ویلفیئر کو رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی میت ورثاکےحوالے نہ کرنے سےمتعلق خط لکھا ہے۔خط چھیپا کے سرد خانے کے انچارج کے نام لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کہ عامرلیاقت کی میت کسی کےحوالے نہ کی جائے۔پولیس نے کہا کہ لاش امانت کےطور پر آپ (چھیپا) کےسردخانے کے سپردکی گئی ہے، لاش بریگیڈ تھانے کا عملہ وصول کرےگا،کسی اورکےحوالے نہ کی جائے میت کسی اور کو دی گئی توقانونی کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔عامر لیاقت کے انقتال کے بعد پولیس نے ڈان کو بتایا کہ کرائم سین یونٹ کے گھر کا معائنہ کرنے اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ کو مزید تفتیش کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔کراچی ایسٹ زون کے ڈی آئی جی مقدس حیدر نے ڈان کو بتایا تھا کہ بظاہر عامر لیاقت کے جسم پر زخم کے کوئی نشان نہیں تھے۔
جمعرات کوپی ٹی آئی کےرکن قومی اسمبلی و معروف اسکالر عامر لیاقت حسین 50 سال کی عمر میں کراچی کی خداداد کالونی میں واقع اپنے گھر میں اچانک انتقال کر گئے تھے لیکن ان کی موت کی وجہ کا تاحال پتہ نہیں چل سکا جس کے لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے مگر خاندان نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا تھا۔ڈی آئی جی شرقی مقدس حیدر نے عامر لیاقت کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کی گزشتہ رات میں طبیعت بگڑ گئی تھی اور کل صبح حالت زیادہ خراب ہونے پر ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ایک سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ رمضان ٹرانسمیشن کے مقبول ترین اینکر پرسن کی حیثیت سے مشہور ڈاکٹر عامر لیاقت کی زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے اور انہیں بے انتہا کامیابیوں کے ساتھ ساتھ چند مایوس کن لمحات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
