وزیراعظم عمران خان پرشوگر مافیا کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد

چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران پہلے معطل ہونے اور بعد میں نوکری سے برطرف ہونے والے ایک ایف آئی اے افسر نے وزیر اعظم سمیت چند اہم حکومتی شخصیات پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے شوگر مِل مالکان کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچایا۔ تھے۔ سجاد باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور مشیر مرزا شہزاد اکبر پر براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ شوگر مافیا میں چند طاقتور عناصر کو بچانا اور مالی فائدہ دینا چاہتے تھے اور اُن کے خلاف ہونے والی ’جعلی کارروائی‘ کے پیچھے بھی ان ہی کا ہاتھ تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے شوگر مافیا کو اب تک کم و بیش 400 ارب کا براہ راست فائدہ دیا جا چکا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو سے بڑھ کر 115 روپے تک پہنچی گئی ہے۔ سجاد باجوہ نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف بھی تمام کارروائی کابینہ کے مخصوص لوگوں کی خواہش پر ہوئی۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے انٹیلی جنس بیورو کی ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری کے نتیجے میں چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران شوگر مِل مالکان سے حساس معلومات کے تبادلے کے لیے مشکوک روابط رکھنے کے الزام پر ایف ائی اے کے اسی ڈپٹی ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ باجوہ کو نوکری سے برطرف کیا تھا۔ تاہم سجاد مصطفیٰ باجوہ کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات میں ذرا بھی صداقت نہیں اور انھیں نوکری سے ہٹانے کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا اور ان کے خلاف انکوائری تو محض کارروائی کا حصہ تھی۔ باجوہ نے کہا کہ چینی کمیشن کی انکوائری کے دوران جیسے ہی میں نے چینی کی افغانستان سمگلنگ، چینی کے کاروبار میں سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر جیسے اداروں کے کردار کے متعلق سوالات اٹھائے، اسی وقت حکومت میں شامل کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف ہو گئے جو نہیں چاہتے تھے کہ میں ان پہلوؤں پر تحقیقات کروں جن سے اس مافیا کو قابو کیا جا سکتا تھا۔
یاد رہے کہ روال سال کے اوائل میں وزیر اعظم عمران خان نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی تحقیقات کرنے کے لیے ایف آئی اے سمیت مختلف ایجنسیوں اور محکموں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کمیشن نے بعد میں نو مختلف ٹیمیں تشکیل دیں تھیں جن میں سے اول نمبر ٹیم کی قیادت سجاد باجوہ کر رہے تھے اور انھیں وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر مل کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔پھر 22 اپریل کو سجاد باجوہ کو چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران ہی معطل کر دیا گیا اور مئی میں انھیں چارج شیٹ جاری کی گئی۔ اس میں کُل آٹھ الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں سے پہلے تین ان کی کارکردگی کے حوالے سے تھے کہ ان کا کام ’غیر معیاری اور غیر تسلی بخش‘ تھا۔ اگلے تین الزامات آئی بی کی ایک خفیہ رپورٹ پر مبنی تھے جن میں سجاد باجوہ کے مِل انتظامیہ سے مبینہ روابط، حساس معلومات کا تبادلہ اور مِل انتظامیہ کو کمیشن کے ریکارڈ تک رسائی دینے کے الزامات شامل تھے۔ ساتواں الزام غیر متعلقہ لوگوں سے رپورٹ لکھوانے اور آٹھواں الزام بغیر اجازت میڈیا پر بیان دینے سے متعلق تھا۔
وفاقی سیکریٹری داخلہ نے سجاد باجوہ کو ذاتی حیثیت میں شنوائی کے لیے طلب کر کے اور ان کا مؤقف جاننے کے بعد انھیں نوکری سے نکالنے کی سفارش پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کی برطرفی کے احکامات جاری کیے تھے۔ سجاد باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور مشیر مرزا شہزاد اکبر پر براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ شوگر مافیا میں چند طاقتور عناصر کو بچانا اور مالی فائدہ دینا چاہتے تھے اور اُن کے خلاف ہونے والی ’جعلی کارروائی‘ کے پیچھے بھی ان ہی کا ہاتھ تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے شوگر مافیا کو اب تک کم و بیش 400 ارب کا براہ راست فائدہ دیا جا چکا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو سے بڑھ کر 115 روپے تک پہنچی گئی ہے۔ سجاد باجوہ نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف یہ تمام کارروائی کابینہ میں بیٹھے کچھ مخصوص لوگوں کی خواہش پر ہوئی کیونکہ وہ چینی کمیشن سے پہلے بھی آئی پی پیز کے خلاف بنی جی آئی ٹی میں ایف آئی اے کی نمائندگی کر چکے ہیں جس کے بہت سے ایسے متاثرین ہیں جو وفاقی کابینہ میں موجود ہیں۔
انھوں نے چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران سٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایس ای سی پی سمیت دیگر سرکاری محکموں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے تھے جو، بقول ان کے، بہت سے لوگوں کو بُرے لگے۔ ’چینی کی افغانستان مشکوک ایکسپورٹ کا نقطہ بھی میں نے اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے میں نے ہی تحریری طور پر بتایا کہ جو 70 فیصد چینی افغانستان بھیجی گئی جو وہاں استعمال ہو ہی نہیں سکتی تھی اوریہ نقطہ بھی میں نے ہی اٹھا یا تھا کہ چینی فیزیکلی افغانستان جا ہی نہیں رہی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر، ایس ای سی پی، سٹیٹ بنک کے خلاف خطوط ان کے سوائے کسی اور نے نہیں لکھے کہ یہ ادارے چینی ایکسپورٹ کے متعلق اپنا کردار صحیح طور پر نہیں نبھا رہے۔ انھوں نے کہا کہ نو ٹیموں میں سے کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ ان محکموں کے خلاف لکھیں اور ان کا کردار سامنے لائے کیونکہ چینی کمیشن میں شامل ہر ٹیم میں تین ممبرز تو ان محکموں میں سے ہی تھے۔
باجوہ کے بقول شوگر کمیشن کا سارا ڈرامہ ہوا تھا جس کا مقصد چینی کی قیمت کو نیچے لانے کے بجائے کچھ اور تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران شوگر مل ایسوسی ایشن کیسے تبدیل ہوئی ہے، کون سا عہدیدار تبدیل ہوا ہے، ایسوسی ایشن پہلے کیا تھی بعد میں کیا تبدیلیاں آئیں، ایسوسی ایشن کو کون سا بندہ کس کس آفس میں اور کب کب آتا رہا ہے، کس کس سے ملتا رہا ہے، ان کی سی ڈی آرز بس نکال لیں سب واضح ہو جائے گا۔
اس سوال پر کہ اپنے خلاف کی جانے والی انکوائری کے خلاف وہ عدالت کیوں نہیں گئے سجاد باجوہ کا کہنا تھا کہ وہ جان بوجھ کو عدالت نہیں گئے۔’میں نہ صرف انھیں بلکہ پورے سسٹم کو ایکسپوز کرنا چاہتا تھا اس لیے عدالت نہیں گیا لیکن اب نہ صرف اپنے ساتھ ہوئی نا انصافی کے خلاف عدالت جاؤں گا بلکہ ان تمام لوگوں کے خلاف بھی عدالت جاؤں گا جنھوں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران عوام کی جیبوں پر 400 ارب روپے سے زائد کا ڈاکہ ڈالا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اب وہ تمام کرداروں کو بے نقاب کیے بغیر نہیں بیٹھیں گے۔‘
