سچے پیار کی تلاش میں تین شادیاں کرنے والی رونا لیلا کی کہانی


جنوبی ایشیا کے نامور گویوں میں شمار ہونے والی 68 سالہ رونا لیلیٰ 17 زبانوں میں گیت گا چکی ہیں اور ان کے گیت شادی بیاہ کے موقع پر بھی خوب چلتے ہیں لیکن رونا کی اپنی ازدواجی زندگی مسائل سے دوچار رہی اور سچے پیار کی تلاش میں انہوں نے تین شادیاں کر ڈالیں۔
رونا لیلیٰ نے پہلی شادی خاور جاوید قیصر سے کی۔ اس کے بعد ایک سوئس شہری رون ڈینیئل کو جیون ساتھی بنایا لیکن بات پھر بھی نہ بنی۔ رونا لیلیٰ نے تیسری شادی معروف بنگلہ دیشی ایکٹر عالمگیر سے کی اور انہی کے ساتھ ان دنوں ڈھاکہ میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ایک انٹرویو میں رونا لیلیٰ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ بھارتی سپر سٹار ششی کپور سے شادی کی خواہشمند تھیں لیکن انہوں نے تو 1958 میں ہی جینیفر کینڈل سے شادی کرکے لیلی کے ارمان توڑ دیئے تھے کیونکہ اس وقت رونا لیلیٰ محض چھ برس کی تھیں۔
یوں تو برصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں بہت سی گلوکارائوں نے اپنی فنی عظمت کا سکہ جمایا اور ابھی تک ان کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے، لیکن کچھ گلوکارائیں ایسی بھی ہیں، جنہوں نے اپنی انفرادیت سے وہ مقام حاصل کیا، جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ان میں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں، بلبل ہندوستان کہلانے والی لتا منگیشکر، بولی ووڈ کی ایک ہزار سے زائد فلموں کے لئے آواز کا جادو جگانے والی آشا بھوسلے، پاکستان کی مارنی نکسن کہلانے والی زبیدہ خانم، مالا کے نام سے شہرت پانے والی نسیم نازلی، ہندی فلموں کی پہلی پلے بیک سنگر قرار پانے والی شمشاد بیگم،تین دھائیوں تک اپنی آواز کی کشش سے سامعین کو مسحور کرنے والی گیتادت کے نام شامل ہیں۔ ان نابغہ روزگار گلوکارائوں میں سے ایک گلوکارہ ایسی بھی ہیں، جنہوں نے اُردو اور بنگالی زبان کے علاوہ ہندی، پنجابی، سندھی، گجراتی، پشتو، بلوچی،عربی، فارسی، نیپالی، ہسپانوی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں بھی نغمات گائے۔ آج انہیں جنوبی ایشیا کی مقبول ترین گلوکارہ قرار دیا جاتاہے۔
حیران کن صلاحیتوں کی مالک اس گلوکار ہ کا نام ہے، رونا لیلیٰ۔ ان کے گائے ہوئے گیت ۔۔۔میرا بابو چھیل چھبیلہ میں تو ناچون گی ، کاٹے نہ کاٹے رے رتیاں سئیاں انتظار میں ،دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں اور آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آگئے ،،، آج بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔
17 نومبر 1952ء کو سلہٹ موجودہ بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والی رونا لیلیٰ کے والدین انہیں ڈانسر بنانے کے متمنی تھے اور انہوں نے رونا لیلیٰ کو کتھک ڈانس بھی سکھایا۔ ان کی والدہ بھی گلوکارہ تھیں لہذا یہ فن اسے ورثہ میں ملا، ان کی بڑی بہن دینا لیلی بھی بے حد خوش گلو تھی اور رونا کے مقابلے اس کے خدوخال اور نقوش نسبتاً پرکشش بھی تھے۔ ان کے والد امداد حسین محکمہ کسٹم میں سنیئر آفیسر تعینات تھے۔ رونا کی والدہ پروفیشنل گلوکارہ نہیں تھیں وہ صرف خاندان، دوستوں اور عزیز واقارب کی نجی محفلوں میں ہی گایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ دینا لیلی نے کسی تقریب میں پرفارم کرنا تھا مگر طبعیت خراب ہونے پر رونا لیلی نے اس تقریب میں پرفارم کیا تو خوب واہ واہ ہوئی۔ بعد میں رونا لیلیٰ نے اپنی بڑی بہن سے کلاسیکی موسیقی کے بارے میں بھی بہت کچھ سیکھا۔ دینا لیلیٰ نے کچھ عرصہ پلے بیک سنگنگ کی، لیکن پھر ان کی پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم سے شادی ہوگئی، جس کے بعد انہوں نے گائیکی ترک کردی تھے۔
ساٹھ کی دھائی میں گلوکاری کے میدان میں احمد رشدی کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں ہپ ہوپ، روک این رول اور ڈسکو کے علاوہ موسیقی کی دوسری اصناف بھی متعارف کرائی تھیں۔ رونا لیلیٰ نے احمد رشدی کے ساتھ متعدد دوگانے گائے۔ تین روز میں تیس گانے ریکارڈ کروانے پر رونا لیلیٰ کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل ہے۔رونا لیلیٰ احمد رشدی کی بہت بڑی مداح تھیں اور انہیں اپنا گرو مانتی تھیں۔ رونا لیلیٰ نے 1965ء میں بطور پلے بیک سنگر اپنا کیریئر شروع کیا۔ انہوں نے پاکستانی فلم جگنو میں پہلا گیت گایا، جس کے بول تھے گڑیا سی منی میری بھیا کی پیاری جبکہ ان کے دوسرے گانے کے بول تھے مرنا بھی نہیں آسان۔ اس وقت ان کی عمر 13 سال تھی۔ 1966ء میں رونا لیلیٰ نے فلم ہم دونوں کیلئے ایک نغمہ گایا، جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس گانے کے بول تھے۔ ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا۔ اس کے بعد رونا لیلیٰ 1972-74ء میں وہ ضیا محی الدین شو میں شرکت کرتی رہیں۔ 1970ء کے عشرے میں انہوں نے جن پاکستانی فلموں کے لیے گیت گائے، وہ بہت مقبول ہوئے۔ ان فلموں میں کمانڈر، انجمن، تہذیب، امرائو جان ادا، احساس اور من کی جیت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ موسیقار نثار بزمی نے ان سے نہایت خوبصورت گانے گوائے۔ نثار بزمی کے علاوہ انہوں نے ماسٹر عبداللہ، ایم اشرف اور روبن گھوش کی موسیقی میں بھی دلکش گیت گائے۔
1971 میں سقط ڈھاکہ کے نتیجے میں بنگالیوں کے آزاد ملک بنگلہ دیش کے معرض وجود میں آنے کے بعد رونا لیلیٰ بھی پاکستان سے چلی گئیں جس کے بعد انھوں نے بنگلہ دیشی فلموں کے ساتھ بالی وڈ انڈسٹری میں اینٹری دی اور اگنی پتھ سمیت پھر صبح ہوگی، گھروندا، ایک سے بڑھ کر ایک، جان بہار، یاد گار، اگنی پت اور سپنوں کا مندر کے لئے گیت گائے۔ رونا لیلیٰ بھارت کے میوزک پروگراموں میں جج کے فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔بھارت میں ان کے گیت میرا بابو چھیل چھبیلا اور دمادم مست قلندر بہت ہٹ ہوئے۔ 2009ء میں ان کی شادی کے گانوں کی البم ریلیز ہوئی۔ یہ گانے پنجابی زبان میں گائے گئے تھے۔ انہوں نے بے شمار بنگالی فلموں کیلئے گایا، جن میں ستواراپی، دوئی چین، انتورے انتورے اور دی رین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 1976ء میں رونا لیلیٰ کی بڑی بہن دینا لیلیٰ کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ اپنی بہن کی وفات کے بعد رونا لیلیٰ نے ڈھاکہ میں دس خیراتی شوز کا انعقاد کیا ۔ان شوز سے حاصل ہونے والے پیسوں سے انہوں نے ڈھاکہ میں کینسر ہسپتال تعمیر کروایا۔ کچھ عرصے بعد انہیں سارک کا خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا۔ وہ پہلی بنگلہ دیشی ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا۔ اس کے علاوہ رونا لیلیٰ کو بے شمار ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے بلاشبہ جنوبی ایشیا میں وہ اس عہد کی مقبول ترین گلوکارہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button