وزیراعظم کا بچی اور خاتون سے ‘زیادتی’ کے واقعات کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے 2 بڑے شہروں کراچی اور لاہور میں بچی اور خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کردی۔
خیال رہے کہ گزشتہ شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔اس کے علاوہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں ایک کمسن بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور بچی کی مسخ شدہ لاش پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک خالی پلاٹ سے ملی تھی۔انہیں دونوں واقعات پر اب وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ چوہدری شہزاد اکبر نے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ شب لاہور موٹروے کے قریب پیش آئے ہولناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزمان کو پکڑیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں سخت سے سخت سزا ملے۔
Prime Minister @ImranKhanPTI has taken notice of horrific incident near Lahore motorway last night and has instructed @IGPpunjab to apprehend the culprits and ensure they get strictest possible punishment.
— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) September 10, 2020
بعد ازاں وزیراعظم آفس نے ٹوئٹ میں بتایا کہ عمران خان نے معصوم بچی اور خاتون سے زیادتی کے مختلف واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا معصوم بچی اور خاتون سے زیادتی کے مختلف واقعات کا سخت نوٹس
خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔
— Prime Minister's Office (@PakPMO) September 10, 2020
دفتر وزیراعظم کے مطابق عمران خان نے کہا کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے، کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔انہوں نے متعلقہ آئی جیز سے ان واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو جلد قانون کی گرفت میں لانے اور قرار واقعی سزا دلوانے کا حکم دیا۔ساتھ ہی وزیراعظم نے معصوم بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات کے تدارک کے حوالے سے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی لاہور موٹروے ‘گینگ ریپ’ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان مسرت چیمہ نے واقعے سے متعلق بتایا کہ پولیس نے مبینہ گینگ ریپ میں ملوث ہونے کے شبہ میں 12 افراد کو گرفتار کرلیا۔مسرت چیمہ نے کہا تھا کہ پنجاب پولیس اور متعلقہ محکمے ‘موٹروے کے دردناک واقعے میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے معاونت کے ساتھ کام کر رہے ہیں’۔
Punjab Police and allied departments are working in close coordination to capture those involved in Painful motorway incident. So far 12 suspects have been arrested and search is going on.
— Musarrat Cheema (@MusarratCheema) September 10, 2020
واضح رہے کہ گزشتہ شب گجرپورہ کے علاقے میں 2 ‘ڈاکوؤں’ نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا تھا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔متاثرہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ کا سفر کر رہی تھیں۔اس حوالے سے ایک پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ خاتون نے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ٹول پلازہ عبور کیا کہ ان کی گاڑی یا تو پیٹرول کی قلت یا کچھ اور خرابی کی وجہ سے رک گئی۔ اسی دوران انہیں گوجرانوالہ سے ایک رشتے دار کی کال آئی، جنہوں نے انہیں پولیس ہیلپ لائن پر مدد کے لیے کال کرنے کا کہا جبکہ وہ خاتون تک پہنچنے کے لیے گھر سے نکل گیا، جب مذکورہ رشتے دار جائے وقوع پر پہنچا تو وہاں خاتون موجود تھی جو گھبرا رہی تھیں اور ان کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا۔
ادھر متاثرہ خاتون کے رشتے دار کی جانب سے تھانہ گجر پورہ میں درج کروائی جانے والے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں بتایا گیا کہ خاتون نے انہیں اطلاع دی کہ ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے اور گاڑی بند ہوگئی ہے، جس پر انہوں نے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرنے کا کہا جبکہ وہ خود بھی موقع پر پہنچنے کے لیے ایک دوست کے ہمراہ نکل گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق جب وہ جائے وقوع پر پہنچے تو گاڑی کا ڈارئیونگ سائڈ والا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازے پر خون بھی تھا جبکہ خاتون اور بچے وہاں موجود نہیں تھے، جب انہوں نے ان کی تلاش شروع کی تو قریب ہی جنگل کے درمیان کچے راستے سے خاتون آتی دکھائی دیں، جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ پٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ 2 نامعلوم افراد جن کی عمر 30 سے 35 سال کے درمیان تھی وہ وہاں پہنچ گئے۔مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ دونوں افراد مسلح تھے اور ان کے پاس ڈنڈا بھی تھا جس کے بعد انہوں نے ڈرائیونگ سائڈ کا شیشہ توڑا اور انہیں بچوں سمیت گاڑی سے نکال کر موٹروے کے ساتھ نیچے جنگل میں لے گئے جہاں خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
قریبی عزیز کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ افراد جاتے ہوئے ان کے پرس سے ایک لاکھ روپے نقدی، 2 طلائی کڑے، ایک بریسلیٹ، گاڑی کارجسٹریش کارڈ اور 3 اے ٹی ایم ساتھ لے گئے۔مذکورہ ایف آئی آر میں مطالبہ کیا گیا کہ اس تمام واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ادھر نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بتایا کہ واقعے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (انویسٹی گیشن) کی سربراہی میں لاہور پولیس اور سی آئی اے کی 20 ٹیمیں قائم کردی گئی ہیں جو اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیس تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور خاتون اور ان کے گھر والوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس ٹیمز ‘دن اور رات’ کام کر رہی ہیں اور ملزمان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ثبوت، جیوفینسگ، نادرا ریکارڈز اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔آئی جی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مشتبہ افراد میں نصف سے زائد سے تفیش جارہی ہے جبکہ اس طرح کے واقعات میں پرانا ریکارڈ رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کرنے کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمانڈ افسران کو اسے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لینا چاہیے اور جلد از جلد اس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ساتھ ہی آئی جی نے واضح کیا کہ ‘جنسی استحصال اور ظلم میں ملوث سماجی مجرموں کی گرفتار میں کوئی غیرذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی’۔
قبل ازیں انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ملزمان تک پہنچے اور ابھی تک ہم اس جگہ (گاؤں) تک پہنچ پائے ہیں جہاں سے ملزمان نکلے تھے۔آئی جی پنجاب کے مطابق ہم نے اب تک 70 کے قریب ملزمان کی پروفائلنگ کرلی ہے اور سی آئی اے اور لاہور پولیس کی 20 ٹیمیں اس پر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں ملزمان جلد گرفتار ہوں۔انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں ایک بہت اہم ثوبت ملا ہے لیکن میں اس کو ٹی وی پر نہیں بتانا چاہوں گا کیونکہ یہ قصورواروں کو مدد فراہم کرسکتا ہے، تاہم یہ ثبوت ہمیں سیدھا ملزمان تک پہنچائے گا۔
علاوہ ازیں اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سیاسی و سماجی شخصیات، سیاست دانوں اور عوام کی بڑی تعداد نے غم و غصے کا اظہار کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔یہی نہیں بلکہ ٹوئٹر پر ‘موٹروے انسی ڈینٹ’ (موٹروے واقعہ) اور ‘پبلک ہینگنگ آف ریپیسٹ (زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی) دینے جیسے ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ رہے۔اسی واقعے پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزارت کے علاقائی دفتر کو فوری طور پر پولیس سے واقعے کی ایکشن رپورٹ لینے کا کہا گیا۔انہوں نے لکھا کہ وزارت کو رپورٹ کے ساتھ ایف آئی آر کی نقل بھی موصول ہوئی ہے۔
On the horrific Lahore Motorway entry point gang rape case, MOHR regional office immed asked for action report from police. FIR copy and progress report is with us at MOHR. I have removed the same from post to avoid sharing details of the victim.
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) September 10, 2020
وہیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے واقعے کو ‘افسوس ناک، شرم ناک اور قابل مذمت’ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون کے نفاذ کے پورے نظام کے مفلوج ہونے اور قومی شرمندگی کا ثبوت ہے، ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ زینب کیس کی طرح اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں تاکہ ملزمان قانونی چارہ جوئی کے دوران سزا سے نہ بچ سکیں۔انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ساتھ کام کریں اور ملزمان کو پکڑ کر متاثرہ خاندان کو انصاف دلائیں۔
موٹروے جو محفوظ سفر کی علامتسمجھی جاتی تھی، وہ اتنی غیرمحفوظ کس کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی؟ قانون نافذ کرنے والےادارے مل کرمجرموں کو پکڑیں اورمتاثرہ خاندان کوانصاف دلائیں تاکہ نظام پر عوام کا کچھ تو اعتماد بحال ہو۔متاثرہ خاندان کوانصاف کی فراہمی تک ساتھ کھڑے رہنے کا یقین دلاتے ہیں https://t.co/3tIe7PrgDF
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 10, 2020
دریں اثنا پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے مذکورہ واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔انہوں نے معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے، واقعے کی فوری تحقیقات کرکے ملوث درندوں کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اہم شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات حکومت کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب اور متعلقہ وزیر اس واقعے کے بعد اپنی نااہلی قبول کر کے فوری مستعفی ہوجائیں۔
وہیں پیپلزپارٹی نے خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کے واقعے پر سینیٹ سیکریٹریٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔سینیٹر شیری رحمٰن کی جانب سے یہ نوٹس جمع کروایا گیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔نوٹس میں کہا گیا کہ مسلح افراد خاتون اور اسکے بچوں کو ہتھیاروں کے زور پر قریبی زمینوں میں لے گئے گئے اور خاتون سے ‘اجتماعی زیادتی’ کی، متعلقہ وزیر اس معاملے پر ایوان کو آگاہ کریں۔
