وزیراعظم کا شہباز شریف کو خط، چیف الیکشن کمشنر کیلئے تین نام تجویز

وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط لکھ کرچیف الیکشن کمشنر کے لیے تین نام تجویز کر دئیے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے 3 سابق وفاقی سیکرٹریوں کے نام تجویز کیے ہیں جن میں جمیل احمد، فضل عباس میکن اور سکندر سلطان راجہ شامل ہیں۔ اپنے خط میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’بامعنی مذاکرات کے لیے آپ کو خط لکھ رہا ہوں، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا زیر التوا معاملہ حل کرنا چاہتا ہوں‘۔خط میں وزیراعظم نے مزید لکھا کہ ’آپ کو ازسر نو تشکیل کیا گیا پینل بھیج رہا ہوں‘۔
وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو یہ خط15جنوری کو لکھا، وزیر اعظم عمران خان کا خط مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو لندن بھجوا دیا ہے۔
اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا۔
شیریں مزاری کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے نئے نام پیش کرنا تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اجلاس میں پنجاب اور سندھ سے الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کے لیے ناموں پر بھی کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ میڈیا سے گفتگو میں حکومتی رکن اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی نام آج شام تک اپوزیشن کو بجھوا دئیے جائیں، بلوچستان یا سندھ میں سے ایک نام حکومت اور ایک اپوزیشن سے ہو نے پر اتفاق رائے پیدا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر نون لیگی رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ امید ہے ہائیکورٹ کی جانب سے دیا گیا وقت ختم ہونے سے پہلے اتفاق رائے ہو جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کا آئندہ اجلاس اب پیر کو ہوگا جس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ چیف الیکشن کمیشن سردار رضا خان 6 دسمبر 2019کو ریٹائر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ جسٹس (ر) الطاف قریشی قائم مقام الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری 45 روز کے اندر کرنا ضروری ہے اور چیف الیکشن کمشنر کے نام پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق ضروری ہے تاہم دونوں میں ڈیڈ لاک کے باعث یہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔
