حکومت کا سعد رضوی کی رہائی ،کسی سے رعایت برتنے سے انکار
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں وفاقی وزراء، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (ڈی جی آئی ایس آئی) نے شرکت کی۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کو ملک کی اندرونی صورتحال اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کسی گروہ یا عنصر کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی گروہ یا عنصر کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت عوام کی حفاظت کرنے والے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ہر قسم کی مدد اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج کے دوران جانی و مالی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ قانون کی حکمرانی میں خلل ڈالنے کے لیے مزید کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت اور تحمل کو خراج تحسین پیش کیا۔
اعلامیے کے مطابق مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تحمل کو ہر گز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم کالعدم ٹی ایل پی نے جان بوجھ کر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ ٹی ایل پی نے اہلکاروں پر تشدد کیا۔ یہ رویہ قابل قبول نہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریاست آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر مذاکرات کرے گی، ریاست کوئی غیر آئینی اور بلاجواز مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کونسل نے موقف اختیار کیا کہ ٹی ایل پی سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر مذاکرات کیے جائیں گے۔ کسی کو ریاست کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
این ایس سی نے ٹی ایل پی کی جانب سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس کے غلط استعمال اور عوام کو گمراہ کرنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایشو کے غلط استعمال سے فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور ملک دشمن عناصر ختم نبوت قانون کے غلط استعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست کی خودمختاری کو کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ کالعدم ٹی ایل پی نے 12 ربیع الاول سے اپنا احتجاج بڑھا دیا ہے۔ تنظیم نے ابتدائی طور پر ملتان اور لاہور میں دھرنے دیئے جس کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا گیا۔
راولپنڈی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی اہم شاہراہوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ صدر سے فیض آباد میٹرو سروس معطل ہے۔ متبادل راستوں پر شدید رش ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس سے مریضوں کو ہسپتال پہنچانا مشکل ہو گیا ہے۔
