کیا حکومت ٹی ایل پی کو جہلم پل پر روک پائے گی؟

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کے بعد اسکا اسلام آباد کی طرف مارچ جہلم پل پر روکنے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت بزور طاقت ایسا کر پائے گی یا نہیں کیونکہ مظاہرین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے؟
کالعدم جماعت تحریک لبیک کا لانگ مارچ اسوقت گوجرانوالہ سے نکلا چکا ہے اور جہلم کی جانب گامزن ہے۔ دوسری جانب وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے مارچ کے شرکا کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے جہلم پل پر ہی روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ جہلم پل کے اوپر موجود سیمنٹ کے جنگلے توڑ کر اس کے اندر بڑے بڑے جہازی سائز کے کنٹینرز پھنسا دئیے گئے ہیں اور کنٹینرز کے اوپر بھی کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ ان کے نیچے سے بھی گزرنے کا راستہ بند کرنے کے لیے سیمنٹ کے بلاکس لگا دیے گئے ہیں۔ تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے جتنے حفاظتی اقدامات تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے کیے گئے ہیں اتنے اس جماعت کے ماضی میں کیے گئے دھرنوں کے دوران نطر نہیں آئے۔ عمران حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ تحریک لبیک کا تیسرا بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔ پہلا مظاہرہ توہین مذہب کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے رہائی پانے والی آسیہ بی بی کے خلاف تھا جبکہ دوسرا مظاہرہ رواں برس اپریل میں پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کے خلاف تھا۔ حکومت نے لبیک کے ساتھ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے معاملے پر معاہدہ کیا تھا تاہم معاہدے کے کچھ روز بعد ہی حکومت نے تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔ اس دوران تحریک کے سربراہ سعد رضوی کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا جو ابھی تک قید میں ہیں لیکن اب مظاہرین کی قیادت کرنے والی لیڈرشپ سعد رضوی کی رہائی سے زیادہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے پر زور دے رہی ہے۔
دریائے جہلم کے پل پر تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نےخالی کنٹینرز میں نہ صرف مٹی بھری دی ہے بلکہ ان کے اردگرد لوہے کے سریے لگا کر انھیں پل کے سریوں کے ساتھ ویلڈ کر دیا ہے تا کہ انھیں اپنی جگہ سے آسانی سے ہٹایا نہ جا سکے۔
اسلام آباد اور لاہور کے درمیان جی روڈ پر سب سے بڑا پل دریائے جہلم کا ہی پل ہے جس کے دونوں اطراف یہی عمل دہرایا گیا۔ اس کے علاوہ پل کے اوپر ہر بیس فٹ کے فاصلے پر بلاک رکھ کر ان کنٹینرز کو اس میں فکس کر کے اس پر پلستر بھی کیا جا رہا ہے۔ مندرہ سے جہلم تک متعدد پلوں کی دیواروں کو توڑ کر وہاں پر کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر لانگ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے سڑکوں کو توڑ کر وہاں پندرہ سے بیس فٹ تک گہری خندقیں کھودی گئی ہیں جن میں اب پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ خندقیں لاہور سے اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے دریائے چناب کے پل سے پہلے وزیرآباد بائی پاس کے قریب کھودی گئی ہیں۔
اس لانگ مارچ کے شرکا کے پاس کنٹینرز ہٹانے کے لیے کرین تو موجود ہے لیکن خندقیں بھرنے کے حوالے سے یہ شرکا کیا حکمت عملی اپناتے ہیں اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔
مندرہ سے جہلم کے درمیان سینکڑوں کی تعداد میں کنٹینرز کو روکا گیا ہے اور ان میں درجنوں کنٹینرز ایسے ہیں جس میں آلو اور پیاز کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا ہیں۔ ان کنٹینرز کے ڈرائیورز اور سٹاف کے دیگر عملہ جو کہ گذشتہ چار روز سے ان پلوں پر موجود ہے کو ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں ایک ہفتہ اور یہاں پر رکنا پڑے گا جس سے ان کنٹینرز میں موجود کھانے پینے کی اشیا خراب ہو جائیں گی۔‘
ان کنٹینرز کے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ انھیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی ادائیگی نہیں کی جا رہی تاہم انھیں دو وقت کا وہ کھانا مل جاتا ہے جو پولیس اہلکاروں کو ملتا ہے۔ مندرہ سے لے کر جہلم تک سکیورٹی کی ذمہ داری دوسرے شہروں سے طلب کی گئی پولیس کی نفری کے ذمے ہے۔ مندرہ سے جہلم شہر تک زیادہ تر پنجاب پولیس کے اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ پنجاب کانسٹیبلری کی ایک قابل ذکر تعداد بھی ان علاقوں میں موجود ہے، تاہم جہلم کینٹ اور جہلم کے پل پر پولیس کے علاوہ پنجاب رینجرز کے اہلکاروں کی بھی ایک بڑی تعداد بھی تعینات ہے جنہیں پنجاب حکومت نے 60 روز کے لیے طلب کیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جن جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں وہاں پر پیدل جانے والوں کے لیے بھی کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا۔ راستوں کی بندش اور گاڑیوں کے نہ چلنے کی وجہ سے ان علاقوں میں جی ٹی روڈ کے اطراف میں موجود متعدد ہوٹلز اور ریسٹورینٹس بھی بند تھے جبکہ پیٹرول پمپس پر موجود عملہ بھی گاڑیوں کا منتظر دکھائی دے رہا ہے۔ ان حالات میں کپتان حکومت کو یقین ہے کہ تحریک لبیک کا لانگ مارچ اسلام آباد نہیں پہنچ پائے گا، تاہم اگر ماضی کو یاد کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ایسی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود بھی جب کسی مذہبی تنظیم نے اسلام آباد پہنچنے کا منصوبہ بنایا، وہ اس میں کامیاب رہی۔
