کیا PTI این اے 33 کے معرکے سے ناک آؤٹ ہونے والی ہے؟

لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 سے تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور ان کی کورنگ امیدوار انکی اہلیہ مسرت جمشید کہ نااہل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کے تجویز اور تائید کنندہ اس حلقے کے رجسٹرڈ ووٹر نہیں ہیں۔ انکے مخالف نواز لیگ کے امیدوار نے اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن سے رجوع کر لیا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی کے جمشید چیمہ اور ان کی کورنگ امیدوار انکی اہلیہ مسرت چیمہ دونوں الیکشن کے لیے نا اہل قرار دے دیے جائیں۔ یوں پی ٹی آئی میچ کھیلے بغیر ہی حلقہ این اے 133 ناک آؤٹ ہوسکتی ہے کیوںکہ نواز لیگ کو یہاں سے کسی اور پارٹی کی جانب سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 133 سے الیکشن 2018 میں نواز لیگ کے پرویز ملک ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جن کا پچھلے دنوں انتقال ہو گیا۔ اب ان کی جگہ ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں جو کہ 5 دسمبر کو ہونے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور متبادل امیدوار ان کی اہلیہ مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی میں انجانے میں ہونے والی سنگین تکنیکی غلطی کے باعث ان دونوں کے تجویز کنندہ کا اندراج این اے 133 کی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے جس کی بنا پر ان کے کاغذات مسترد ہو سکتے ہیں۔حکمران جماعت کے ضمنی الیکشن میں امیدوار جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات پر ن لیگ کی جانب سے اعتراض عائد کیا گیا ہے کہ ان کے تجویز کنندہ بلال حسین کا تعلق این اے 133 سے نہیں جبکہ مسرت چیمہ کے تجویز کنندہ غلام مرتضیٰ بھی این اے 130 کے ووٹر ہیں۔ دونوں تجویز کنندہ آر بلاک جوہر ٹاؤن کے رہائشی ہیں جبکہ یہ ضروری ہے کہ وہ اسی حلقے کے رجسٹرڈ ووٹر ہوں۔ اس حوالے سے 30 اکتوبر کو ریٹرننگ آفیسر اپنا حتمی فیصلہ سنائے گا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور حلقہ این اے 133 سے منتخب رکن قومی اسمبلی پرویز ملک چند روز قبل علالت کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ پرویز ملک کی خالی نشست پر ان کی بیوہ شائستہ پرویز ملک الیکشن لڑیں گی جنہیں پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ کا چیلنج درپیش ہے تاہم مبصرین کے مطابق شائستہ پرویز کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حلقے سے پیپلزپارٹی نے لاہور پیپلزپارٹی کے صدر اسلم گل کو میدان میں اتارا ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس الیکشن میں بھی ماضی کی طرح چند سو ووٹ ہی حاصل کر پائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار سمیت پارٹی کی اہم شخصیات اپنے امیدوار کی انتخابی مہم چلانے والے تنظیمی عہدیداروں پر شدید برہم ہیں کہ انہوں نے اس قدر بڑا بلنڈر کے تحریک انصاف کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیق کروائی جائے گی کہ آیا یہ سب کچھبے احتیاطی اور نالائقی کا سبب ہوا یا پھر یہ کسی سازش اور تنظیمی مخالفت کی وجہ سے ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دوراں لاہور میں میں اس ضمنی الیکشن کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی تھیں جبکہ تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر سینیٹر اعجاز چوہدری سمیت متعدد اہم رہنماؤں کو انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ جب جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا وقت آیا تو صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ ملک اسد کھوکھر نے پیشکش کی تھی کہ وہ اپنے حلقے سے پارٹی کے بااعتماد کارکنوں اور ووٹرز کو تجویز کنندہ اور تائید کنندہ بنانے کے لیے بھیج سکتے ہیں مگر تنظیم کے سینئر عہدیدار نے ان کی تجویز ماننے کی بجائے سابق ٹکٹ ہولڈر فیاض بھٹی اور شبیر سیال کو ذمہ داری دی کہ وہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ نامزد کریں۔ جس پر دونوں رہنمائوں نے اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کو تجویز کنندہ اور تائید کنندہ فراہم کئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض بھٹی کے فراہم کردہ دونوں افراد کے نام این اے 133 کی ووٹر لسٹ میں موجود ہیں تاہم شبیر سیال کے فراہم کردہ دونوں افراد کا نام ہی حلقے کی ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں جس کی وجہ سے جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سے بھی اس تمام معاملے پر قانونی مشاورت کی گئی ہے تاہم انہوں نے الیکشن کمیشن کے قوانین کا ذکر کرتے ہوئے تحریک انصاف کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے دونوں امیدواران کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے شناختی کارڈ، رہائشی دستاویزات اور یوٹیلیٹی بلز وغیرہ حاصل کرلیے گئے ہیں جن کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ 2018 کے عام انتخابات کے انعقاد کے وقت ووٹر لسٹوں میں ان کا نام موجود تھا لیکن اب نہ جانے کیسے وہ سے نکل چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابقکے مطابق کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی صورت میں تحریک انصاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرے گی تاہم دوسری جانب الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن رولز اس حوالے سے بہت واضح ہیں۔ یہ ذمہ داری امیدوار کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت تجویز اور تائید کنندہ کے اسی حلقے میں بطور ووٹر رجسٹر ہونے کی تصدیق کریں۔ تحریک انصاف ذرائع کے مطابق پارٹی کا لاہور چیپٹر اس معاملے پر اختلاف رائے کا شکار ہو چکا ہے اور سب ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جبکہ سب یہ بھی کہتے ہیں کہ زیادہ بڑی غلطی جمشید کی بات چیمہ اور ان کی لیگل ٹیم کی ہے جنہوں نے تصدیق نہیں کروائی بہرحال کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کے پاس حلقہ این اے 123 میں ضمنی الیکشن کے لیے مزید کوئی امیدوار موجود نہیں ہے کیونکہ مسٹر اینڈ مسز صائمہ کے علاوہ کسی نے نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے تھے جبکہ دونوں نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی کا صرف ایک سیٹ جمع کروایا جبکہ تمام امیدوار احتیاطی طور پر تین سے چار کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار کی عدم موجودگی کی صورت میں مسلم لیگ نون کے لیے الیکشن یکطرفہ ہوگا اور اس کی کامیابی یقینی ہو گی۔

Back to top button