ٹی ایل پی مارچ روکنے کے لیے کنٹینرز کا جرمانہ 34 کروڑ روپے

پنجاب حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کا اسلام آباد کی جانب مارچ روکنے کے لئے انتظامیہ نے 1200 سے زیادہ کنٹینرز زبردستی روک کر مختلف سڑکوں پر بطور رکاوٹ رکھے ہوئے ہیں جن میں کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی سامان کے علاوہ پھل اور سبزیاں بھی موجود ہیں جو خراب ہو رہی ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاہور سے راولپنڈی تک 12 سو سے زیادہ کنٹینر پکڑ کر راستے بلاک کیے ہیں جن میں سے ایک ہزار کنٹینرز شپنگ لائنز کے ہیں جن کا کرایہ 200 ڈالرز یومیہ ادا کرنا پڑتا ہے لہذا اس وقت جرمانے کی رقم 34 کروڑ روپے سے زائد ہو چکی ہے جس کی ادائیگی انکے لئے ممکن نہیں۔
نیازی ٹرانسپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے مارچ کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی پنجاب بھر میں متاثر ہورہی ہے۔ سینکڑوں بسیں اور ٹرک بھی راستے بند کرنے کے لیے پکڑے گئے ہیں جو بغیر کرائے کے سڑکوں پر کھڑے ہیں۔ اسی طرح مسافروں کے لیے لاہور سے کئی شہروں کو بذریعہ جی ٹی روڑ جانے والی گاڑیاں بند ہیں جو موٹروے سے دوسرے شہروں کو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی بندش سے وسطی پنجاب کے بیشتر شہروں میں اشیا خوردونوش کی ترسیل بھی متاثر ہورہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں جب بھی احتجاج اور لانگ مارچ ہوتے ہیں تو انتظامیہ سڑکوں سے کنٹینر پکڑ کر روکاوٹیں کھڑی کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو اور احتجاج کرنے والوں کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو لیکن راستے بند کرنے کا طریقہ ہر بار ایک ہی دکھائی دیتا ہے۔حالیہ دنوں میں جب سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے ’ناموس رسالت مارچ‘ کا اعلان کیا گیا تو اس بار بھی انتظامیہ نے انہیں روکنے کا یہی طریقہ اپنایا۔
اس بار بھی 10 روز سے کنٹینرز پکڑ کر پنجاب کے مختلف شہروں میں راستے بلاک کیے جا رہے ہیں۔ اب تک غیر قانونی قبضے میں لیے گئے کنٹینرز کی تعداد 12 سو سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ تاہم گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری طارق نبیل کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب دو فقرے کا بیان دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوں گے لیکن ٹرانسپورٹرز کا کروڑوں کا نقصان کون پورا کرے گا۔ انکا۔کہنا ہے کہ جب بھی کوئی احتجاج یا لانگ مارچ ہوتا ہے حکومت کنٹینرز پکڑ کر زبردستی کھڑے کرا دیتی ہے۔ ان کے مطابق اس بار بھی ٹی ایل پی کے احتجاج سے قبل ہی راستے بند کرنے کے لیے کنٹینرز اور ٹرک پکڑ کر سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں اور کنٹینرز میں سامان بھی موجود ہے جو خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
طارق نبیل کے مطابق پنجاب میں لاہور سے راولپنڈی تک ہمارے 12 سو سے زیادہ کنٹینرز پکڑ لیے گے ہیں جن میں ایک ہزار کنٹینرز شپنگ لائنز کمپنیز کے ہیں جن کا کرایہ 200 ڈالر یومیہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ انکا۔کہنا ہے کہ گذشتہ 10 روز سے پکڑے گئے ایک ہزار کنٹینرز کا کرایہ ہی پاکستانی روپے میں 34 کروڑ روپے سے زیادہ بنتا ہے جو گڈز ٹرانسپورٹرز کو ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ انکے ڈرائیورز اور گاڑیوں کے ساتھ عملہ بھی خوار ہورہا ہے۔ کئی مقامات پر پولیس اور لبیک مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہمارے ملازمین زخمی ہوگئے ہیں۔ طارق نبیل نے کہا کہ سامان بھی شہروں میں نہیں پہنچ پا رہا ہے وہ نقصان الگ ہے۔ ایسا پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ انتظامیہ کسی کے نجی کنٹینرز یا گاڑیاں پکڑ کر کھڑی کر دے اور نقصان بھی پورا نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کنٹینرز لگا کر راستے تو بلاک کر رکھے ہیں لیکن ان کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کا بھی کسی کو خیال نہیں۔ احتجاج کرنے والا کوئی، روکنے والی حکومت، ہمارا کیا لینا دینا ہے سب سے زیادہ نقصان ہمیں اٹھانا پڑ رہا ہے۔
طارق نبیل نے سوال کیا کہ حکومتی ادارے اپنے طور پر رکاوٹوں کا انتظام کیوں نہیں کرتے؟ حکومت کے پاس اتنے فنڈز ہیں، ان سے مستقل طور پر ایسی صورتحال سے نمنٹنے کا بندو بست کرے۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک نے جمعے کے روز مارچ کا آغاز کیا تھا اس دن سے ہی لاہور تا راولپنڈی جی ٹی روڑ پر پبلک ٹرانسپورٹ متاثر ہے تاہم حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لائن دینے کے بعد اتوار سے منگل تک مارچ کے شرکا نے مرید کے میں قیام کیے رکھا تھا۔
مظاہرین نے مذاکرات کے بعد جی ٹی روڑ کھولنے کا اعلان کیا تھا مگر انتظامیہ نے کنٹینرز نہیں ہٹائے تھے۔ اس کے علاوہ گجرات کے قریب انتظامیہ نے مارچ روکنے کے لیے سڑکوں پر خندقیں کھود کر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں جس کی وجہ سے جی ٹی روڑ پر نقل وحمل میں اس دوران بھی مشکلات پیش آتی رہیں جن دنوں میں مارچ کے شرکا نے مرید کے میں پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔ اب تحریک لبیک کے مظاہرین گوجرانوالہ سے جہلم کی طرف گامزن ہیں جہاں پل پر حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔
نیازی ٹرانسپورٹ کے چیف ایگزیکٹیو اعظم خان نیازی نے اس معاملے پر کہا کہ کہا کہ صرف ان کے اڈے سے روزانہ 50 بسیں گجرانوالہ، جہلم، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی اور دیگر شہروں کو نکلتی ہیں جو گذشتہ 7 دن سے مکمل بند ہیں اور کئی گاڑیاں راستے بلاک ہونے پر مختلف شہروں میں پھنسی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’احتجاج کے باعث جہاں راستے بند تھے سواریاں وہیں اتارنی پڑیں اور مسافر خوار ہوئے ہمارے ڈرائیورز کنڈیکٹر بھی جان بچاتے رہے کیونکہ گاڑیوں کے ساتھ وہ بھی کئی مقامات پر رکے ہوئے ہیں۔‘
اعظم نیازی کے بقول اس کے علاوہ پورے پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ متاثر ہے کیونکہ پشاور، اسلام آباد، بزریعہ موٹر وے جانیوالی گاڑیوں کو بھی راولپنڈی میں روکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کے خوف سے 50 فیصد گاڑیاں کم نکل رہی ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑرہاہے۔‘ انہوں نے کہاکہ درجنوں گاڑیاں مرید کے، کالا شاہ کاکو اور سادھوکی میں ہونے والے مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں سواریاں اور عملہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔
رواں ہفتے لاہور سے راولپنڈی تک جی ٹی روڑ پر کالعدم ٹی ایل پی مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے باعث دوکانوں اور کاروباری مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی راہ گیر اور دوکاندار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
