وزیراعظم کے معاون خصوصی تابش گوہرکس الزام پر فارغ ہوئے؟


وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے بجلی اور پٹرولیم تابش گوہر کو خود پر لگنے والے اس الزام کے بعد استعفیٰ دینا پڑ گیا کہ وہ اربوں ڈالر مالیت کے گیس پائپ لائن پراجیکٹس مکمل کروانے کی بجائے کراچی کی ایک نجی آئل ریفائنری کو غیر قانونی طور پر نوازنے کی کوشش میں ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تابش گوہر جس آئل ریفائنری کو نوازنے کو کوشش کر رہے تھے ماضی میں وہ اسی ریفائنری کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔
21 ستمبر کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی دینے تابش گوہر پر الزام تھا کہ وہ اربوں ڈالرز کے زیر تکمیل پاکستانی منصوبوں خصوصا پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن پی ایس جی پی اور ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرا اسٹرکچر یا اے ایم آئی ایس، کی تکمیل میں دلچسپی لینے کی بجائے مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کی آڑ میں کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع ایک نجی ریفائنری کو فائدہ پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ تابش گوہر متعلقہ آئل ریفائنری کے لئے حکومت سے مراعات حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے جسکی وجہ سے ملک میں توانائی کا بحران سنگین تر ہوتا چلا جا رہا تھا۔
وزارت توانائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 ستمبر 2021 کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے پانچ کابینہ اراکین نے مقامی ریفائنریز کو پیشگی مراعات دینے کے لیے معاون خصوصی برائے بجلی و پٹرولیم تابش گوہر کی تجاویز ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ کابینہ کے پانچ وزراء کا موقف تھا کہ اگر اسطرح کی مراعات دینے کی نظیر قائم کی جائے گی تو پھر معیشت کے دوسرے شعبے بھی مراعات کے اسی پیکج کی مانگ کریں گے جو حکومت کے لیے فراہم کرنا ممکن نہیں۔
وزرا کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ تابش گوہر کی پسندیدہ نجی ریفائنری نے 1920 کا ایک پرانا پلانٹ لگایا ہے جسے کہ ڈیمڈ (deemed) ڈیوٹی کی اس رقم سے دوبارہ بنایا گیا ہے جو کہ ماضی میں ادا کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تابش گوہر کی جانب سے مقامی نجی ریفائنری کے لئے پیشگی مراعات کی ڈیمانڈ ماننے سے وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی انکار کر دیا تھا۔ حماد اظہر کا 3 ارب ڈالر کی پی ایس جی پی پی کے بارے میں تابش گوہر سے مختلف نقطہ نظر تھا جو روس کی مدد سے تعمیر کیا جائے گا۔ حکومت اس منصوبے کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے اور چاہتی ہے کہ روس اس منصوبے میں اپنا حصہ ڈالے لیکن تابش گوہر اس کے مخالف تھے۔ تاہم حماد اظہر اسے پاکستان کے حق میں سمجھتے ہیں اور اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کے حق میں ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ طاقتور حلقوں نے بھی تابش گوہر کی جانب سے پی ایس جی پی کی مخالفت کو نہیں سراہا حتیٰ کہ وزیراعظم آفس نے بھی ان کے طرز عمل تنقید کی اور ان پر۔لگے الزامات کی تحقیقات کے بعد سے استعفی مانگ لیا۔تابش گوہر کی جانب سے استعفیٰ دینے کے بعد وزیر اعظم نے فوری اسے منظور کرتے ہوئے تابش گوہر کو ذمہ داریوں ست سبکدوش کر دیا ہے۔

Back to top button