وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کراچی میں سپرد خاک

وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کو گزری قبرستان ڈی ایچ اے میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کی نماز جنازہ کراچی میں ڈیفنس خیابان اتحاد کی مسجد عائشہ میں ادا کی گئی جس کے بعد گذری قبرستان میں تدفین کردی گئی، نعیم الحق کی نماز جنازہ میں وفاقی وزرا، اراکین اسمبلی اور سینیٹرز سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما نعیم الحق گزشتہ روز کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے تھے، ان کی عمر 70 برس تھی۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نعیم الحق کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے، طبیعت بہتر ہونے پر وہ اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوئے اور آغا خان اسپتال میں زیرعلاج تھے۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ نعیم الحق بلڈ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے اور طویل عرصے سے سیاسی سرگرمیوں سے دور تھے۔
عمران خان نے انھیں خرابی صحت کی بنا پر بنی گالہ سے کراچی ان کے بیٹے امان الحق کے پاس بھجوایا تھا تاکہ وہ اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ باپ کی تیمارداری کرسکے۔ 15 فروری کے روز وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کو طبیعت زیادہ ناسازہونے کے پرآغا خان اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔ جہاں وہ انتقال کر گئے. نعیم الحق بلڈ کینسرکے مرض میں مبتلاتھے ۔انھیں11 فروری کے روزاسلام آبادسےکراچی منتقل کیا گیا تھا.
نعیم الحق 11جولائی 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے جامعہ کراچی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز، ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کیا تھا۔ نعیم الحق پیشے کے اعتبار سے بینکر اور کاروباری شخصیت تھے اور وہ نیویارک کے یو این پلازہ میں نیشنل بینک کی شاخ قائم کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے، انہوں نے 1980 میں بطور مرچنٹ بینکر لندن میں رہائش اختیار کی۔نعیم الحق نے 1984 میں ائیرمارشل اصغرخان کی تحریک استقلال جوائن کی اور کراچی آگئے، انہوں نے 1988 میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی ٹاؤن سے الیکشن بھی لڑا تاہم بعدازاں 1996 میں عمران خان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ 2012 میں نعیم الحق تحریک انصاف چیئرمین کے چیف آف اسٹاف بن کر اسلام آباد منتقل ہوگئے، نعیم الحق پارٹی کی کور کمیٹی کا حصہ اور انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان نے معاون برائے سیاسی امور مقرر کیا اور آخری وقت تک پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔
وزیر اعظم کےمعاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کی زندگی کا سفر نیشنل بینک آف پاکستان کی ملازمت سے شروع ہوا ۔ آٹھ سال امریکہ میں نیشنل بینک کی شاخ میں کام کرتے رہے۔ پھریوکے میں نیشنل بینک کے منیجر بن کر شفٹ ہو گئے۔ وہیں ان کی عمران خان سے پہلی ملاقات ہوئی جو دوستی میں بدل گئی۔ وہ عمران خان کےفنانشل ایڈوائزر بن گئے اور مالی معاملات دیکھنے لگے۔ یوکے سےواپس کراچی آئے تو میدانِ سیاست میں قدم رکھا۔ تحریک استقلال میں شامل ہوئے۔
اِسی پارٹی کے ٹکٹ پر کراچی سے ایم این اے کا الیکشن لڑا۔ جب تحریک انصاف بنی تو نعیم الحق بھی اس میں شامل ہوگئے۔
وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کی وفات پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘دیرینہ دوست نعیم الحق کے انتقال پر غمزدہ ہوں، وہ تحریک انصاف کے 10 بانی اراکین میں سے تھے اور 23 سال کی جدوجہد میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔
Am devastated by one of my oldest friend Naeem's passing. He was one of the 10 founding mbrs of PTI & by far the most loyal. In 23 yrs of PTI's trials & tribulations, he stood by me. He was always there for support whenever we were at our lowest ebb.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 15, 2020
فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں لکھا کہ ’نعیم الحق نے کینسر کے خلاف جنگ ایک شیر کی طرح لڑی، ایک دوست، بزرگ اور ساتھی انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
Naeem Ul Haq fought like a lion aagainstt Cancer, a friend, elder and a colleague …. will always be missed… may Allah Rest his soul in peace #RIPNaeemUlHaq
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 15, 2020
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘نعیم الحق نے تحریک انصاف کی کامیابی کے لیے انتھک محنت کی اور پارٹی کے منشور اور وژن کے لیے کام کیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘نعیم الحق نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے بھی بہت کام کیا۔’
گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما نعیم الحق کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مرحوم نعیم الحق وزیر اعظم عمران خان کے دلیر ساتھی تھے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا ان سے 28 سال کا ساتھ تھا، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔’
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی نعیم الحق کی وفات پر اظہار افسوس کیا۔
انہوں نے نعیم الحق کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ‘اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔’
واضح رہے کہ نعیم الحق تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شامل تھے، وہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے تھے۔
