وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے استعفیٰ دے دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپنے خلاف بلوچستان اسمبلی میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے ایک روز قبل ہی استعفیٰ دے دیا ہے.جسے گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے منظور کر لیا ہے۔ پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے ایک دن پہلے ہی وزارت اعلیٰ سےمستعفی ہونے کی تصدیق کی ہے.
جام کمال کے مستعفی ہونے کی تصدیق صوبائی گورنر سید ظہور احمد آغا کے پرسنل سیکریٹری پائند خان خروٹی نے بھی کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گورنر بلوچستان نے استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ اتوار کی صبح سے جام کمال کے مستعفی ہونے کی خبریں چل رہی تھیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جام کمال نے کہا کہ ‘بہت سی سوچی سمجھی سیاسی رکاوٹوں کے باوجود میں نے بلوچستان کی مجموعی حکمرانی اور ترقی کے لیے اپنا وقت اور توانائی کو ایک سمت رکھا’۔انہوں نے کہا کہ ’انشااللہ احترام کے ساتھ چھوڑنا چاہوں گا اور خراب حکمرانی کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ان کے مالیاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بننا چا ہوں گا’۔


اپوزیشن سمیت حکومتی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ناراض اراکین کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد ان سے مسلسل استعفےکا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔جام کمال کے خلاف 20 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔65 اراکین پر مشتمل بلوچستان اسمبلی میں سے 33 ارکان نے تحریک پیش کرنے کی حمایت کی تھی۔گذشتہ روز صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کی کارروائی کا ایجنڈا جاری کر دیا تھا۔ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر رائے شماری کل 25 اکتوبر کو دن 11 بجے ہونا تھی جو ان کے استعفی دینے کے بعد نہیں ہو گی۔
مخلوط صوبائی حکومت میں شامل اتحادی جماعت بی این پی عوامی، تحریک انصاف کے ایک رکن اور حزب اختلاف نے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔اتوار کو اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں جام کمال کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنا اختیار اپنے گروپ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین اور اتحادیوں کو دیا۔ موجودہ منظر نامے کے لیے جو بھی بہتر ہوگا، وہ فیصلہ ہوگا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر پی ڈی ایم جیت جاتی ہے اور ناراض ممبران کے ساتھ حکومت بناتی ہے تو ہم اپوزیشن میں بھی بیٹھنے کو تیار ہیں۔‘تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے بلوچستان اسمبلی کے 65 میں سے 33 ارکان کی ضرورت تھی۔عدم اعتماد کے حامی ارکان کی تعداد 40 سے زائد تھی اس لیے جام کمال نے اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرارداد کا سامنا کرنے کی بجائے استعفیٰ دے دیا۔
جام کمال نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے ملاقات کے بعد منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل جام کمال نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ چاہے دو ووٹ بھی ملیں لیکن مقابلہ کیے بغیر عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔

Back to top button