کالعدم ٹی ایل پی کے 350 سے زائد کارکنان رہا

حکومت نے کالعدم ٹی ایل پی کے 350 سے زائد کارکنان کو رہا کر دیا ہے جبکہ ٹی ایل پی کو یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ حکومت 27 اکتوبر تک ان کے خلاف تمام کیسز واپس لے گی۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ زیر حراست سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے کالعدم ٹی ایل پی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ پر نظرِ ثانی کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔
شیخ رشید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ ہم نے ٹی ایل پی کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا کر دیئے ہیں اور مریدکے کی سڑک دونوں اطراف سے کھولے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے۔
ٹی ایل پی شوریٰ کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نومبر 2020 میں تحریک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرے گی۔ رہائی کے بعد ان کی قیادت اور کارکن مریدکے میں مارچ کرنے والوں میں شمولیت اختیار کریں گے۔
شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے زیر حراست سربراہ 8 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والے مذاکرات کا حصہ رہے ، حکومت کی جانب سے ’ٹی ایل پی پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے ۔وہ اپنے نشانات پر انتخابات بھی لڑ رہے ہیں ، واضح رہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور وزارت داخلہ (اسلام آباد) میں پیر (آج) کی صبح ہوگا۔
