وزیرِ اعظم کا اختلافات بھلا کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام جماعتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت دے دی ہے، سیاسی و عسکری قیادت نے سر جوڑ لیے، وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں تمام اختلافات بھلا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاق، تمام صوبوں، سیاسی و مذہبی قیادت کو بھی دعوت دی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اونر شپ لیں، ایک قلب دو جان ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف، وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیرِاعظم نے کسی کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ایک طرف ظلم کا بازار گرم کرنے والوں کو سیٹل کرنے کو تیار ہیں، مگر ملک کی تقدیر بدلنے کےلیے اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں، اس طرح کے دہرے معیار نہیں چلیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ایک پارٹی کے لیڈر کو بھی مدعو کیا ہے جو مجھ سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے، امید ہے کہ نفی میں جواب نہیں آئے گا، ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر، جدوجہد کرنی ہو گی۔وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ خیبر پختون خوا کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے ملنے والی 417 ارب روپے کی آدھی رقم بھی خرچ ہوئی ہوتی تو صوبے کے عوام سکون کی نیند سوتے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قوم سوچ رہی ہے کس طرح اس دہشت گردی کے ناسور کو قابو کیا جائے گا، ہم مل کر دہشت گردی پر قابو پائیں گے، پچھلے چند مہینوں میں خیبر پختون خوا میں دیگر حملے ہوئے، قوم سوال کرتی ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بعد واقعہ کس طرح ہوا؟وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ پشاور کی پولیس لائن کی مسجد پر ڈرون حملہ یا کچھ اور تھا، نامناسب ہے، قوم سوچ رہی ہے کس طرح اس ناسور کو قابو کیا جائے گا، دہشت گردی کی لہر کو کس طرح ختم کیا جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے مل کر تمام سیاسی و مذہبی قیادت اونر شپ لیں، ہر نوعیت کے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک قلب دو جان ہو کر مقابلہ کریں، اجلاس اس عزم کا اظہار ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، ضرب عضب میں قربانیاں دے کر دہشت گردی ختم کی گئی۔
انہوں نے زور دیا کہ تنقید برائے تنقید سے پرہیز کر کے حق بات کہنی ہو گی، اگر یہ سازش کا حصہ تھا تو ماضی قریب کے واقعات کیا تھے؟ یہ ایک دہشت گردی کا واقعہ تھا، اسے کچلنے کے لیے وقت ضائع کیے بغیر آگے بڑھنا ہو گا، وفاق کو ساتھ نہ دینے اور وسائل کی کمی کا طعنہ دیا گیا، اس طرح کی طعنہ زنی سے گریز کرنا ہو گا۔
