وزیرآباد حملے کی JIT: وفاق کا نمائندہ شامل کرنے سے انکار

وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفتیش کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی یا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض کیے جانے کے باوجود پرویز الٰہی نے کمیٹی میں وفاقی حکومت کا کوئی نمائندہ شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وفاق نے پنجاب حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی کی سربراہی متنازعہ پولیس افسر غلام محمود ڈوگر کو دینے پر اعتراض عائد لگاتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، وفاق نے موقف اپنایا ہے کہ پولیس افسرغلام محمود ڈوگر نے حال ہی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات کی حکم عدولی کی تھی اس لیے وفاق انہیں جے آئی ٹی میں قبول نہیں کرے گی۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات یقینی بنانے کے لیے جے آئی ٹی میں خفیہ ادارے کا نمائندہ بھی شامل کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ جے آئی ٹی میں شامل پولیس افسر غلام محمود ڈوگر نے چند ہفتے پہلے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لیے وفاقی حکومت انہیں جے آئی ٹی میں قبول نہیں کرے گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ غلام محمد ڈوگر کے وفاق کیساتھ اسی تنازع کی وجہ سے انہیں عمران خان کی خواہش پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے تاکہ اپنی مرضی کی رپورٹ حاصل کی جا سکے۔
وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی میں کُل 5 ارکان ہیں اور سب کا تعلق پنجاب پولیس سے ہے، جے آئی ٹی میں کسی اور خفیہ ایجنسی اور ادارے کا نمائندہ شامل نہیں ہے جوانسداد دہشت کردی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کا سربراہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بنایا ہے جنہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے 5 نومبر 2022 کو معطل کر دیا تھا اور انہیں فیڈرل سروس ٹربیونل سے عارضی ریلیف لینا پڑا، وفاق کا موقف ہے کہ ایسے آفیسر کو جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں ہوں گی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی دراصل جے آئی ٹی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں خفیہ ادارے سمیت کسی اور تحقیقاتی ایجنسی کے نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا اور ایک متنازع پولیس افسر کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنایا دیا گیا ہے، اس پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی جاری ہے اور انہیں عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے، ایسے آفیسر کو سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں ہوں گی۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو تجویز دی تھی کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے شامل کیے جائیں۔دوسری جانب جے آئی ٹی کے سربراہ لاہورکے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے وفاقی حکومت کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلا اجلاس 16 نومبر کو بلایا تھا، سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں دیگر ارکان بھی شامل تھے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرآباد میں جائے وقوع کا دورہ کیا جائے گا اور گرفتار مشتبہ شخص کو تحویل میں لے کرعینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے پیچھے اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے دیگر نقطہ نظر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا تھا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے عمران خان سمیت دیگر افراد کی میڈیکل رپورٹس کا اگلے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔
