ونڈر، تھنڈر اور دھریندر

تحریر: سہیل وڑائچ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ یہاں سے کوسوں دور ملک پیرا گوئے (P) میں تبدیلیوں کا دور چل رہا تھا۔ اصل میں وہاں کی کہانی دو کاروباری خاندانوں کے درمیان معاہدے سے شروع ہوتی ہے۔ مسٹر زوزی (Z) اور مسٹر نوزی (N) ویسے تو کاروباری حریف تھے لیکن انہیں اوپر نیچے اور دائیں بائیں سے یہ خطرہ رہتا تھا کہ کوئی دوسرا گروپ اور طاقت انکے کاروباری مفادات کو نقصان نہ پہنچا دے۔

اسکی موثر روک تھام کیلئے انہوں نے چارٹر آف ڈیلنگز (COD)پر دستخط کرلئے۔ اب مسٹرZ اور مسٹرN کے مفادات اکثر آپس میں بھی ٹکراتے تھے اسلئے سو فیصد تو CODپر عمل نہیں ہوتا تھا مگر دونوں کے مفاد کو کوئی تیسرا مجروح کرتا تو پھرCODپر عمل شروع ہو جاتا اور وہ اکٹھے ہوجاتے تھے۔ مسٹر زوزی(Z) اور مسٹر نوزی (N)کے چارٹر آف ڈیلنگز میں مسٹر اِمّی (IMMY)کودا تو دونوں نے اکھٹے ملکر اسکے کاروبار کو دیوالیہ کر دیا۔ چارٹر آف ڈیلنگز پر دستخط ہوئے 20سال گزر گئے اس دوران نئی نسل، نئے چہرے اور نئے چیلنجز سامنے آنا شروع ہوگئے۔

دراصل عمر، سیاست اور کاروبار ریت کی طرح ہوتے ہیں تاجر اور سیاستدان ریت کو اپنی مٹھی میں بند کرکے رکھتے ہیں مگر ریت تو ریت ہوتی ہے اس نے سرکنا ہی ہوتا ہے۔ عمر کی ریت سر کی تو مسٹر زوزی اور مسٹر نوزی کے پاس فیصلے کرنیکا اختیار تو رہا مگر میدان عمل اگلی نسل نے سنبھال لیا۔ مسٹر زوزی(Z) نے اپنا کاروبار گزشتہ 20برس سے اپنے منہ بولے بیٹے ونڈر بوائے کے حوالے کر رکھا تھا، ہر بڑا کاروباری فیصلہ اور ڈیل اسی کے ذریعے ہوتی تھی اسی دوران مسٹر (Z)کا حقیقی بیٹا تھنڈر بوائے بھی میدان عمل میں آگیا، ونڈر بوائے اور تھنڈر بوائے کی آپس میں کبھی نہیں بنی بلکہ شروع سے ہی انکی لگتی تھی۔

دوسری طرف مسٹر نوزی کی کاروباری وراثت دھریندر گرل کو مل گئی ان تینوں کے اصلی نام تو کچھ اور تھے مگر پیراگوئے کی کاروباری برادری انہیں ان کے صفاتی ناموں سے جانتی تھی۔ ونڈر بوائے چھلاوے کی طرح حیران کن کارنامے سر انجام دینے کی وجہ سے مشہور تھا جبکہ تھنڈر بوائے گونجدار آواز میں کڑکنے کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ پہلے مسٹر زیڈ کے فیصلوں پر ونڈر بوائے بھاری ہوتا تھا مگر وقت بدلنے کیساتھ ونڈر بوائے کی کاروباری ترجیحات بدل گئیں اور مسٹر زوزی سے کئی شبہات و تحفظات پیدا ہوگئے اور تھنڈر بوائے اور مسٹر زوزی کی رائے اور فیصلے ایک ہونے لگے۔ دھریندر گرل کا صفاتی نام اسلئے پڑا کہ اس سے مراد باکمال لڑکی تھا جو اپنے والد مسٹر نوزی (N)کی صحیح وارث ثابت ہو رہی تھی۔ جب تک بڑے کاروبار میں تھے وہ چارٹر کے مطابق باریاں لیتے رہے۔

مگر چونکہ کاروبار کی بڑی کرسی ایک تھی اسلئے ونڈر، تھنڈر اور دھریندر تینوں ایک دوسرے کے مدمقابل بھی تھے اور تینوں کے مزاج میں ہم آہنگی بھی نہیں تھی، تینوں نسبتاً نوجوان اور ناتجربہ کار تھے اسلئے لڑائی اور اختلافات میں شورشرابہ بہت تھا۔ ونڈر بوائے ان میں بھاری تھا، ایک تو کاروبار کی موجودہ شکل بنانے میں اسکا اہم کردار تھا۔ اسکا مسٹر امّی (I) کو بزنس سے آؤٹ کرنے اور زوزی نوزی ایمپائر بنانے میں اہم ترین حصّہ تھا پھر اسے بزنس کے طاقتور حلقوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مگر اسے زوزی اور نوزی کے خاندانوں اور انکے قریبی لوگوں نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے اس پر شک ہی کرتے رہے تھے۔ دوسری طرف تھنڈر بوائے کی کبھی بزنس کے طاقتور حلقوں سے بنی نہیں بلکہ اکثر ٹھنی رہی۔ مسٹر زوزی مگر تھنڈر بوائے کی گونج اور کڑک کو نرم بناکر راستہ بنا دیتے تھے۔ دھریندر گرل کی نظر بھی بزنس کی بڑی کرسی پر تھی اسے بھی ونڈر بوائے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا اور ونڈر بوائے بھی دھریندر کے کمالات سے اتفاق نہ کرتا تھا، بس گزارا کرتا تھا۔

یہی وہ ملاکھڑا تھا جس سے پیراگوائے کو گزرنا پڑا۔ نچلے اور درمیانے درجے کے بزنس مین دم بخود تھے کہ بڑوں اور انکے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی لڑائی سے کیا نکلتا ہے۔ ونڈر بوائے کا خیال تھا کہ کاروبار کیلئے انتہائی نازک مرحلہ آگیا ہے اگر کاروبار کے چھوٹے انتظامی حصّے نہ بنائے گئے تو نہ صرف کاروبار بیٹھ جائیگا بلکہ بیرون ملک سے کمائی اچھی تجارتی ساکھ اور علاقائی تجارتی جنگوں میں فتح کے اثرات بھی جلد ختم ہو جائینگے۔ ونڈر بوائےکو چونکہ طاقت کا ساتھ میسر تھا چنانچہ وہ اصلاحات کیلئے یہ وقت بہت بہتر سمجھتا تھا۔ کیونکہ اب تاجرانہ سیاست کمزور اور طاقتور پالیسیاں مضبوط تھیں۔ ایسے میں تاجروں کو اصلاحاتی ایجنڈے پر منوانا آسان تھا۔ اُسکو اندازہ ہوگا کہ اگر پیراگوئے میں اصلاحات کے یہ 12ماہ گزر گئے تو پھر کوئی تبدیلی سرے سے آ نہیں سکے گی۔ تھنڈر بوائے کا مسئلہ یہ تھا کہ اسے اپنے خاندانی خون پر بہت ناز تھا۔

اسکے خاندان کے لوگ بڑی بڑی تاجرانہ لڑائیاں لڑتے اور جیتتے رہے تھے۔ دوسرا اسکا مسئلہ یہ بھی تھا کہ اگر ونڈر بوائے کا ایجنڈا پورا ہوتا تو تھنڈر بوائے کی تاجر سیاست میں جگہ نہ صرف کم ہوتی بلکہ بتدریج ختم ہو جاتی۔ مگر تھنڈر بوائے کو طاقت کے اصل مراکز اسکی تنک مزاجی کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے اور وہ یُوں بھی اپنے والد مسٹر زوزی سےکھل کر نہ صرف اختلاف کرتا تھا بلکہ کئی بار ضد پر اڑ جاتا تھا۔ مسٹر زوزی ناراض ہوکر اسے ’’کونے والا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ خاندانی گھروں میں اسکا گھر کونے والا تھا۔

خوش ہوتے تو ملکر سگریٹ بھی سلگالیتے تھے۔ دھریندر گرل وہ باکمال لڑکی تھی جو کبھی بھی مسٹر نوزی (N) کے قدامت پسند خاندان کی جانشین نہیں بن سکتی تھی مگر اس نے عقلمند ماں اور والد کی مسلسل خدمت، قربت اور وفاداری سے نوزی کے دل میں ایسی جگہ بنائی کہ اس نے اُسے نہ صرف اپنا جانشین بنایا بلکہ اپنے مستقبل کے خواب بھی اس میں دیکھنے لگا تھا ۔

مسٹر زوزی(Z)اور مسٹر نوزی(N)سمجھدار اور تجربہ کار بزنس مین تھے، وہ اور انکے طاقتور سرپرست اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ انکا اصل کاروباری حریف مسٹر اِمی(I)تھا۔ وہ دیوالیہ ہونے کے باوجود کسی بھی وقت بازی پلٹنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا تھا۔ جب ونڈر،تھنڈر اور دھریندر کی لڑائی باہر آگئی تو دیوالیہ مسٹر اِمی(I) دوبارہ سے اہمیت اختیار کرگیا ،اب اگر ونڈر بوائے کے پروگرام کو ہوبہو نہیں مانا جاتا تو زوزی اینڈ نوزی کی جگہ اِمی کے کاروبار کو دوبارہ ڈھیل دیدی جاتی، تھنڈر بوائے کیلئے پروگرام کو ہوبہو ماننا ممکن نہیںتھاکہ اسکی وارثت بھی جاتی اور بڑی کرسی پر بیٹھنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو پاتا ،دھریندر گرل کو مسٹر نوزی نے اس معاملے کو ٹھنڈا کرکے کھانے کا درس دے رکھا تھا، مسٹر نوزی(N) تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے فارمولے پر یقین رکھتے تھے، انکی حکمت عملی ہمیشہ سے یہی رہی تھی دیکھو انتظار کرو، ہوا کا رخ دیکھو وقت کی نبض کو پہچانو۔ وہ مہربلب،خاموش تماشائی بنکر سارا جائزہ لیتے اور ہر منفی و مثبت پہلو کا جائزہ لیکر کوئی فیصلہ کرتے تھے۔

اگر تو مسٹر نوزی(N) اور مس دھریندراس پروگرام کو ہوبہو نہ مانتے تو پھر اس پر عملدرآمد کرنا مشکل ہوجاتا۔ چاہے مسٹر اِمی(I)کا جتنا بھی ڈراوا دیا جاتا۔ وہ نازک وقت ایسا تھا کہ ٹرمپ کارڈ مسٹر نوزی کے پاس آگیا کیونکہ زوزی اور تھنڈر بوائے تو اپنے پتے دکھا چکے تھے اگر نوزی انکاری ہوتے تو سارا بزنس گروپ ہی دھڑام سے گرسکتا تھا، فیصلہ مسٹر نوزی کے ہاتھ میں تھا کہ زوزی کو فارغ کرکے اور تھنڈر بوائے کو دیس نکالا دیکر صرف دوفریق ونڈر بوائے اور دھریندر گرل تک ڈوئل کو محدود کرتے یا باکسنگ کے کھلے رنگ میں لڑائی ہونے دیتے مگر نوزی کو خدشہ تھا کہ اِمّی سے ساز باز کا نتیجہ کاروبار کے دیوالیے کی صورت میں نکل سکتا ہے نوزی، اِمّی کی نسبت زوزی کوبہتر حلیف سمجھتا تھا مگر وہ پیرا گوئے کے طاقتور حلقوں سے لڑ لڑ کرتھک چکاتھا مزید لڑائی کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا، وہ بس بڑے فیصلوں اور بڑی لڑائی کو ٹال سکتا تھا پس وہ ٹالتا رہا اور اندیشہ یہ ہے بقول فیضؔ صاحب پیرا گوئے ویسے کا ویسا نہ رہ جائے…!!

بشکریہ: جنگ
Check Also
Close
Back to top button