ویکسین لگا کر کرونا؟ یا تو ویکسین فراڈ ہے یا عمران کا کرونا فراڈ ہے

پی ڈی ایم ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین لگا کر کورونا؟یاتو ویکسین فراڈ ہے یا کرونا فراڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادھر الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس میں 22مارچ کو طلب کیا ہے اور اُدھر ویکسین لگا کر انہیں کورونا ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیراعظم کو ویکسین لگوانے کے بعد کورونا کیسے ہو گیا۔ میڈیا نمائندے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے سوال کر دیا کہ وزیراعظم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے حوالے سے اعلان کرنے والے ڈاکٹر کا نام کیا ہے، جب انہیں بتایا گیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس حوالے سے اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ وزیراعظم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان ایک سرکاری ڈاکٹر ہیں، اگر کوئی دوسرا ڈاکٹر اِس بات کی تصدیق کرتا ہے، تو بات سمجھ میں آتی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا آج کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا تھا۔ تاہم سیاسی مخالفین نے وزیراعظم کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر غیر اخلاقی ٹرینڈ چلا نا شروع کر دئیے۔اس حوالے سے مختلف ٹویٹس بھی سمجھ آئے، جس میں یہ کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کو ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا ہو گیا، اس وجہ سے پاکستان میں لگائی جانے والی کورونا ویکسین ناقابلِ اعتبار ہے۔
تاہم بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ کورونا ویکسین لگوانے کے بعد جسم میں اینٹی باڈیز بننے میں وقت لگتا ہے، اس دوران اگرویکسین لگوانے والا شخص کورونا وائرس کا شکار ہو جائے تو ویکسین اس طرح سے اثر نہیں کرے گا، جس طرح عام طور پر کرتی ہے۔ایسی ٹویٹ کرنے میں پاکستان کے معروف صحافی بھی پیش پیش رہے، جس پر انہیں بتانا پڑا کہ ویکسین فوری اثر نہیں کرتی، اسکے لئے دو تین ہفتے درکار ہیں جو انٹی باڈیز بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
کچھ نے وزیراعظم عمران خان پر طنز کیا کہ کرونا ویکسین بھی لگوائی پھر بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا لیکن ان میں زیادہ تر افراد ایسے تھے جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر وزیراعظم عمران خان پر نہ صرف طنز کرنا شروع کردیا بلکہ انکی موت کی دعائیں کرنے لگے۔ایسے افراد میں سے زیادہ تر ن لیگی سپورٹر تھے جنہوں نے سوشل میڈیا پر مختلف ٹویٹس کی گولا باری شروع کر دی۔ مسلم لیگ ن کے اس قسم کے ٹویٹس پر مختلف صحافیوں ، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
