ٹرین ڈرائیورنے گھر تو بچا لیا لیکن نوکری چلی گئی


لاہور میں مسافروں سے بھری ٹرین روک کر دہی خریدنے جانے والے ڈرائیور نے بتایا ہے کہ اپنا گھر بچانے کے لیے دہی خریدنا ضروری تھا ورنہ اگر وہ خالی ہاتھ گھر جاتا تو اس کی بیوی اسے چھوڑ کر اپنے باپ کے گھر جا سکتی تھی۔ تاہم ڈرائیور کی بدقسمتی کہ اس نے اپنا گھر تو بچا لیا لیکن نوکری چلی گئی۔ یاد رہے کہ ڈرائیور کو ریلوے حکام نے معطل کر دیا ہے اور اسکے خلاف برطرفی کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ایک مسافروں سے بھری ہوئی ٹرین بیچ راستے میں اپنی منزل سے دور رُکی ہوئی ہے۔
ہاتھ میں دہی سے بھرا پلاسٹک بیگ پکڑے ایک شخص، جو بظاہر ریل گاڑی کا ڈرائیور ہے، اس میں داخل ہوتا ہے جس کے بعد یہ ٹرین اپنی منزل کی جانب واپس دوبارہ گامزن ہو جاتی ہے۔ لیکن اس دوران ڈرائیور کی بدقسمتی کہ ایک سوشل میڈیا صارفین نے اس کی ویڈیو بنا ڈالی اور ساتھ کمنٹری کرتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ ڈرائیور موصوف نے دہی خریدنے کے لئے ٹرین روکی تھی اور اب واپس ٹرین چلانے جا رہا ہے۔
یہ واقعہ لاہور کے علاقے کاہنہ کاچھا ریلوے سٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں ڈرائیور نے انجن نمبر 5217 کی ٹرین روک کر پٹری کے پار ایک بازار سے دہی خریدنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ موصوف نے یہ حرکت پہلی دفعہ نہیں کی لیکن اس بار اسکی بد قسمتی کہ کیمرے کی زد میں آگیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اس واقعے پر ایکشن لیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے متعلقہ ٹرین ڈرائیورز محمد شہزاد اور اسکے اسسٹنٹ افتخار حسین کو معطل کر دیا ہے اور ان کے خلاف برطرفی کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اعظم سواتی نے کہا ہے کہ ‘مستقبل میں ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قومی اثاثوں کو اپنے ذاتی فائدوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔’
دوسری جانب معطل ہونے والے ٹرین ڈرائیور نے بتایا ہے کہ اس کی بیوی نے اسے واپسی پر دہی لانے کے لیے کہا تھا اور اگر وہ ایک بار گھر پہنچ جاتا تو پھر دہی دھونڈنا مشکل تھا۔ تاہم وزارت ریلوے کے ترجمان سید اعجاز الحسن شاہ نے بتایا کہ ‘جب آپ پٹری کے بیچ و بیچ ٹرین روک دیں تو یہ ایک بڑا سیفٹی ایشو بن جاتا ہے۔ سیفٹی ہماری ترجیح ہے۔ ہمیں کوئی ایسی چیز قابل برداشت نہیں، جس سے تحفظ پر سمجھوتہ ہو۔’انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں اور اکثر ان کا جائزہ نہیں لیا جاتا ہے۔
اس واقعے کی خبر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور لوگ اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن ٹرین ڈرائیور اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اس کی ٹرین رک جانے اور نوکری چلی جانے کے باوجود اس کی طرف سے صفائیاں دینے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد آن لائن دستیاب ہے۔
کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر مزاحیہ ردعمل دیا ہے اور ٹرین ڈرائیور سے ہمدردی دکھائی ہے۔ جیسے مریم نامی صارف کی قیاس آرائی ہے کہ ‘بیچارہ! بیوی نے کال کی ہو گی کے دہی لیے بغیر گھر واپس نہ آنا۔’ ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ ‘بندے کی ترجیحات واضح ہیں۔ ٹرین کے مسافر تو خود ہی دل میں دو گالیاں دے کر ٹھنڈے ہو جائیں گے لیکن گھر جا کر بیوی کے طعنے کیسے سنے؟’
ایڈم نے لکھا کہ ‘پس ثابت ہوا۔ گھر بچانے کے لیے ٹرین روکنا کوئی اتنا ایشو نہیں۔’
اپنے ٹویٹ میں بنتِ فضل کریم نے یہ پیشگوئی کی کہ ڈرائیور کی ‘بیوی نے کہا ہوگا آتے ہوئے دہی لیتے آنا نہیں تو گھر نہ آنا۔’ مگر بعض لوگوں نے اس پر سنجیدہ تبصرے کیے اور اسے ایک ایسی مثال کے طور پر پیش کیا کہ ملک میں ریلوے کا نظام بحران کا شکار ہے۔ ایک صارف نے ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ غیر پیشہ ورانہ اور کرپٹ سرکاری ملازمین کو فارغ کیا جانا چاہیے۔ ‘سرکاری ملازمین کے لیے سرکار کے محکمے ایک مذاق ہیں۔’ مگر بعض صارفین نے ٹرین کے سفر پر اپنے ساتھ پیش آنے والے عجیب و غریب واقعات بھی شیئر کیے۔
مثلاً ایک صارف نے بتایا کہ ایک بار ریل کے سفر کے دوران ٹرین کے مینجیر نے ویران علاقے میں ٹرین روک دی تاکہ انٹرنیٹ ٹھیک سے کام کرے اور پاکستان کا کرکٹ میچ ان کے لیپ ٹاپ پر دیکھا جاسکے۔ مگر بہت سے لوگوں کے ذہن میں فہد علی کا سوال گردش کر رہا ہے کہ ‘یہ کیسا ڈرائیور تھا یار جو ٹرین روک کر دہی لینے چلا گیا؟’ اس کا جواب ایک اور صارف نے دیا ہے کہ ‘دہی کا بھی اپنا ہی خمار ہوتا ہے۔’

Back to top button