ٹکٹ فروش ثاقب نثار کو احتساب سے کون بچا رہا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جسٹس ستار کا موقف ہے کہ جس فون کال کی ریکارڈنگ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ثاقب نثار کے بیٹے نے پارٹی ٹکٹ ایک کروڑ روپے میں فروخت کیا، اب کہا جا رہا ہے کہ وہ فون کالز غیر قانونی طور پر ریکارڈ کی گئیں۔مزمل سہروردی کے بقول جسٹس ستار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف تحقیقات کو روک رہے ہیں۔ وہ انہیں بچا رہے ہیں۔ عدلیہ سابق ججوں کا احتساب بھی نہیں ہونے دے رہی۔جب جج ہی ایک دوسرے کا احتساب نہیں ہونے دیں گے تو پھر کون احتساب کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ججز سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران ذاتی طور پر ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ججز کے لیے ایک ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کو چاہیے کہ حکم امتناعی اٹھائیں اور سابق اعلیٰ جج کے احتساب کی اجازت دیں۔

مزمل سہروردی کا ایک سوا کے جواب میں مزید کہنا ہے کہ نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا 15 ستمبر کے فیصلے سے اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے جس میں فاضل جج نے لکھا کہ نیب قانون کے تحت ججز اور فوجی افسران کا احتساب ہو سکتا ہے۔ تاثرہےکہ فوجی افسران اورججز کی کرپشن کا کوئی احتساب نہیں ہو سکتا۔ نیب ترامیم کے تحت فوجی افسران اور ججزبھی قابل احتساب ہیں۔ مزمل سہروردی کا مزید کہنا ہے کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس سید مظاہر نقوی کے خلاف بدعنوانی کے مرتکب پائے جانے پر ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے نیب کو ہدایت کرے گی؟ جج صاحبان کے احتساب کا آغاز تو سپریم کورٹ کے اس اقدام سے ہو گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ عدلیہ اپنے ادارے کے اندر احتساب شروع کرے۔کیونکہ جج خود کو ‘مقدس گائے’ سمجھ رہے ہیں۔

نیا دور ٹی وی پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ نیب قانون میں کی گئی ترامیم خالصتاً ایگزیکٹو معاملہ ہے لہٰذا عدالت مداخلت نہیں کرسکتی۔ قانون سازی جانچنا پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔فاضل جج نے مزید لکھا کہ پارلیمان کے بنائے تمام قوانین بالآخرکسی نہ کسی انداز میں بنیادی حقوق تک پہنچتے ہیں۔ نیب قانون کے تحت سرکاری افسران کی طرح فوجی افسران اور ججزبھی قابل احتساب ہیں۔نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے اختلافی نوٹ پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی بینچ جسٹس شاہ کے موقف سے اتفاق کرے گا اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور ہم خیال بینچ کا فیصلہ اُڑا دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ  29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوزر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔پھر نجم ثاقب ان کو ثاقب نثار سے ملنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس بابا کو ملنے آجانا شکریہ ادا کرنے کے لیے، اور کچھ نہیں جس پر ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، کیسی بات کر رہے ہیں۔نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ 11 بجے تک واپس آجائیں گے، ان کو جھپی ڈالنے آجانا بس، انہوں نے بہت محنت کی ہے، بہت محنت کی ہے۔اس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ اچھا میں سوچ رہا تھا کہ پہلے انکل کے پاس آؤں یا شام کو ٹکٹ جمع کراؤں جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ مرضی ہے تیری، لیکن آج کے دن میں مل ضرور لینا بابا سے جس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، سیدھا ہی ان کے پاس آنا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب پر تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ابو ذر کو ٹکٹ دلانے کے عوض ایک کروڑ 20 لاکھ روپے لینے کا الزام بھی ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی آڈیو سامنے آنے کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ماضی میں لیگی قائد میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف کئی سنگین الزامات عائد کر چکی ہیں اور ان پر عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے سہولت کاری کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

Back to top button