ٹک ٹاک پر پابندی، ٹک ٹاکرز پریشان، حکومت تذبذب کا شکار

پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی جانب سے غیر اخلاقی اور ممنوعہ مواد پھیلانے کے الزامات کے تحت فوری ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دینے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے پاکستان میں چائنیز سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے ٹک ٹاک سے وابستہ افراد کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹک ٹاک پر پابندی کے عدالتی حکم پر کہا ہے کہ یہ ’ایک اور ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کے عوام بڑی قیمت چکائیں گے۔‘
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے مقبول سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو ’ملک میں بے حیائی پھیلانے‘ کی وجہ قرار دیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا ہے کہ اسے فوراً بند کیا جائے۔بعد ازاں پی ٹی اے نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا کہ ٹک ٹاک تک رسائی کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔
ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ زیادہ تر ججز ٹیکنالوجی کے کام کرنے کے ماڈلز سے ناواقف ہیں، وہ چیف جسٹس پاکستان سے مداخلت کی درخواست کریں گے اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی عدلیہ کے ساتھ مل کر اس پر کام کرے گی۔
دوسری طرف ٹک ٹاک نے عدالت کے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُنھوں نے پاکستان میں مواد کی نگرانی کی صلاحیت کو 250 فیصد تک بڑھایا ہے اور وہ پاکستان کے مقامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ’نامناسب‘ مواد کو ہٹانے کے لیے پُرعزم ہیں۔مگر ٹک ٹاک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم پر اپنی پالیسیز کے مطابق صارفین کی جانب سے تخلیقی اظہار کے حق کو بھی یقینی بنائیں گے۔ویڈیو شیئرنگ ایپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وہ حکام کے ساتھ تعاون کر کے ایک ایسے حل تک پہنچ سکتے ہیں جس سے پاکستان کے ’لاکھوں صارفین‘ ٹک ٹاک سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
دوسری جانب اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بتایا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کا پاسداری کرتے ہوئے سروس پرووائیڈرز کو ٹک ٹاک ایپ تک رسائی فوراً بلاک کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ساتھ مل کر قابلِ اعتراض مواد کو ریگولیٹ کرنے میں تعاون کر رہی ہے۔
ویڈیوز شیئر کرنے کی مقبول ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے یہ درخواست 40 سے زیادہ شہریوں کی جانب سے نازش مظفر ایڈووکیٹ اور سارہ علی خان نے دائر کی تھی۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔انھوں نے سماعت کے دوران کہا کہ ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں وہ ہمارے معاشرے کو قبول نہیں۔

جمعرات کو عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے حکم کے مطابق رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ اس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اس رپورٹ کی تفصیل فراہم کی۔اٹارنی جنرل نے اس دوران کہا کہ اس پابندی سے اظہار رائے پر پابندی کا تاثر پایا جا سکتا ہے اس لیے پابندی ایک ہفتے کے لیے ہونی چاہیے، جس پر نازش مظفر نے کہا کہ آزادی اظہار کی آزادی آئین کے مطابق ہونا چاہیے اور دعویٰ کیا کہ یہ آزادی آئین اور مذہبی روایات کے خلاف ہے۔
اس سے پہلے اس پٹیشن کی سماعت 10 فروری کو ہوئی تھی جس میں پی ٹی اے، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام عدالت میں پیش ہوئے تھے جس میں حکام سے کہا گیا تھا کہ ایسی رپورٹ پیش کریں جس میں اس ایپلیکیشن کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار بتایا جائے۔اپنی رپورٹ میں حکام نے بتایا کہ اس وقت ٹاک ٹاک پر یومیہ بڑی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں جبکہ یہاں متعلقہ اداروں کے پاس محدود وسائل ہیں جس وجہ سے تمام ویڈیوز کو چیک کرنا اور ان کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا مشکل ہے۔نازش مظفر کا مؤقف یہ تھا کہ وہ اس پر مکمل پابندی نہیں چاہتے لیکن اُس مواد پر پابندی ہونی چاہیے جو اُن کے مطابق ’فحاشی اور عریانی کے زمرے میں آتا ہے‘۔
کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی اے کے حکام سے پوچھا کہ ٹک ٹاک ایپ بند کرنے سے کیا کمپنی کو نقصان ہوگا جس پر پی ٹی اے کے حکام نے اثبات میں جواب دیا، جس پر عدالت نے کہا کہ ان کو نقصان ہوتا ہے تو پھر اس کو بند کیا جائے, ’نقصان ہوگا تو وہ آپ کی درخواست پر عمل کریں گے۔‘
یاد رہے کہ پی ٹی اے نے اکتوبر 2020میں پاکستان کے اندر ٹک ٹاک کو بند کرتے ہوئے اس کی انتظامیہ کو بتایا تھا کہ وہ اس پر موجود غیر اخلاقی مواد ہٹائے۔تاہم پابندی لگانے کے 10 دن بعد ایپ کو دوبارہ کھول دیا گیا کیونکہ پی ٹی اے نے اس وقت بتایا تھا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ نے پاکستانی اتھارٹی کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک میں ٹک ٹاک صارفین کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے اور یہ فیس بک اور واٹس ایپ کے بعد سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی موبائل ایپلیکیشنز میں شامل ہے۔
دوسری طرف پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کے سربراہ اسد بیگ نے بتایا کہ بنیادی طور ٹک ٹاک میں دو مسئلے ہیں جنھیں دیکھنا ضروری ہے۔
پہلا مسئلہ، اسد کے مطابق، ٹک ٹاک پر تشدد کو کھلے عام زیادہ فروغ دیا جا رہا ہے اور پی ٹی اے سمیت ٹک ٹاک انتظامیہ کو سوچنا چاہیے کہ اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔اسد بیگ نے بتایا، ’کسی بھی پلیٹ فارم کو بند کرنے سے پاکستان کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔اسد نے بتایا کہ فحاشی اور بے حیائی کی ہر ایک کے ذہن میں الگ تعریف ہے اور اسی وجہ سے اگر ہم کسی پلیٹ فارم کو بند کریں گے تو بعد میں ہمیں پورا انٹرنیٹ بند کرنا پڑ جائے گا۔اسد نے بتایا کہ فیس بک پر بھی پیڈوفائل اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث بہت سے گروپس ہیں لیکن انہیں بنیاد بنا کر فیس بک بند کرنا مناسب نہیں بلکہ ایسے مواد کی نشاندہی اور اس کو فلٹر کرنے کے لیے طریقہ کار ہونا چاہیے۔
دوسری طرف پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ٹک ٹاک سےوابستہ افراد کو اپنی روزی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ ٹک ٹاکرز کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی سے انھیں لاکھوں روپے کا نقصان ہو گا کیونکہ پابندی لگنے سے قبل انہیں مختلف برانڈز اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کے لاکھوں روپے دیتے ہیں جس سے پابندی کے بعد وہ محروم ہو جائیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button