ٹیکسلا میں گندھارا آرٹ کی بلیک مارکیٹ

صوبہ پنجاب میں واقع ٹیکسلا شہر کی تنگ گلیوں سے گھومتے ہوئے بالآخر ہم اس مکان تک پہچنے جہاں افتخار احمد خفیہ طور پر گندھارا کے مجسمے بناتے ہیں۔ ٹیکسلا کے علاوہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقے خاص طور پر وادی سوات دنیا بھر میں دو ہزار سال پرانی تہذیب گندھارا کے مرکز مانے جاتے ہیں۔
اونچی دیواروں والے گھر میں سامنے ہی بڑا باغ تھا جہاں گھاس تو کم کم تھی لیکن کئی بڑے پودوں کی خالی شاخوں پر سبز رنگ کی کونپلیں نکل رہی تھیں۔ لان میں ایک طرف بڑے پتھروں کو جوڑ کر دو چھوٹی دیواریں بنائی گئی تھیں جن کی اوٹ میں بیٹھ کر افتخار مجسمے بناتے ہیں۔ افتخار ان دنوں دو مجسموں پر کام کررہے ہیں۔ یہ مجسمے پلاسٹک کی شیٹوں سے ڈھکے تھے۔ انہوں نے ایک پر سے پلاسٹک ہٹایا۔
افتخار نے فخر سے ایک تین فٹ کے مجسمے کی طرف اشارہ کیا۔ گرے پتھر سے بنے اس تین فٹ کے مجسمے کے نین نقش نیپالی تھے۔ اس مجسمے پر کام کافی حد تک مکمل ہوچکا تھا۔ بس تھوڑی نوک پلک سنوارنا باقی تھا۔ افتخار نے دوسرے مجسمے پر سے پلاسٹک شیٹ ہٹائی۔ جو ابھی پتھر کی بڑی سی سل کی مانند تھا۔ اس پر کافی کام ہونا باقی تھا۔ افتخار نے ہتھوڑی اٹھائی اور ایک کیل نما اوزار سے اس پر کام کرنے لگے، گندھارا کے مجسمے شیست پتھر سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ یہ 200 سال سے آزمودہ پتھر ہے جو بہت ہی نرم ہوتا ہے اور ہم جیسے چاہیں اسے تراش سکتے ہیں۔
لیکن افتخار اتنی محبت اور کئی کئی مہینوں کی محنت سے بننے والے ان مجسموں کو خود بیچ نہیں سکتے۔ کیوں کہ پاکستان میں گندھارا آرٹ کے مجسموں کی نقل بنانا، بیچنا یا انہیں برآمد کرنا قانوناً جرم ہے۔ اس پر قید اور جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔
یہ کام بسں خفیہ طور پر ہی ہو رہا ہے۔ ہم سے یہ مورتیاں ڈیلر خریدتے ہیں جو انہیں ملک سے باہر لے جا کر انٹرنیشنل بلیک مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں۔ اکثر اصل کے طور پر اس کام سے اصل پیسہ تو ڈیلر ہی کما رہے ہیں۔ انڈین یونانی اور ایرانی نقوش رکھنے والی گندھارا آرٹ سے بنے بدھا کے مجسموں کی مانگ دنیا بھر میں ہے۔ افتخار نے کچھ دیر کےلیے اوپر دیکھا اور پھر سر جھکا کر مجسمے پر کام کرنے لگے۔
افتخار کی ’خفیہ‘ ورکشاپ سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر مصروف خانپور روڈ کی ایک چھوٹی سی دکان میں الیاس خان ایک پیڑھی پر بیٹھے ایک مورتی پر کام کر رہے تھے۔ چھوٹی سی عینک ان کی ناک پر موجود تھی۔ اور ان کا سفید بالوں والا سر مسجمے پر مکمل جھکا ہوا ہے۔
’یہ ہندو شاہی آرٹ کا پیس ہے۔‘الیاس خان بولے۔
چند فٹ کے فاصلے پر ایک شیشے کا شوکیس رکھا تھا جس میں کچھ کتبے اور پتھر تھے۔ اسی شوکیس میں پیچھے کی طرف گندھارا کی کچھ مورتیاں اور دیوار کے ساتھ بدھا کا تقریباً چار فٹ بڑا مجسمہ پڑا تھا۔ اس علاقے میں میں ہی ہوں جو کھلے عام یہ کام کررہا ہوں۔
الیاس خان بولے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بار اس کام کو کرنے کےلیے لائسنس لینے کی کوشش کی تو انہیں بتایا گیا کہ لائسنس تو مل جائے گا لیکن پھر بھی وہ گندھارا کے مجسموں کی اصل کے مطابق نقل نہیں بنا سکیں گے۔ بلکہ انہیں ایسے پتھر اور رنگ استعمال کرنے ہوں گے جن میں اصل کی کوئی شباہت نہ ہو۔
یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے میں گاڑی چلانے کےلیے لائسنس لینے جاؤں۔ اور مجھے لائسنس دے دیا جائے اور کہا جائے کہ اس لائسنس کے باوجود بھی میں اصل گاڑی نہیں چلا سکتا۔ صرف کھلونا گاڑی ہی چلا سکتا ہوں۔ مجھے ایسا لائسنس لینے کا کیا فائدہ۔
الیاس خان کے مطابق پاکستان میں بہت کم لوگ ہی گندھارا آرٹ کی اہمیت سے واقف ہیں۔
یہ تو ایک مرتا ہوا فن ہے۔ میں جو یہ مجسمہ بنا رہا ہوں۔ ڈیلر یہ مجھ سے سستے داموں خریدے گا اور پھر اسے بیرون ملک سمگل کر کے مہنگے داموں بیچ دے گا۔ جس لمحے میں اسے فروخت کر دوں گا، میرا نام اس سے ہٹ جائے گا اور دنیا میں کبھی کسی کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ گندھارا کا یہ شاہکار میں نے بنایا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اپنے فن سے نہ تو شناخت ملتی ہے اور نہ ہی اس کی صیح قیمت۔‘ الیاس خان کے لہجے میں غصہ اور اضطراب نمایاں تھا۔ ایک بار ایک ڈیلر نے مجھ سے دو ہزار روپے میں ایک مورتی خریدی اور میرے سامنے ہی اسے دس ہزار ڈالر میں بیچ دیا۔
الیاس خان کہتے ہیں کہ گندھار کی نقل بنانے کی ممانعت ہونے کا فائدہ ایک مافیا اٹھا رہا ہے۔ یہ مافیا بہت طاقتور ہے اور اپنے مفادات کی تحفظ کےلیے آخری حد تک جا سکتا ہے۔ الیاس خان کو شکوہ میڈیا سے بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا اس معاملے کی درست عکاسی نہیں کرتا۔
ڈاکٹر ندیم عمر معروف اینتھروپالوجسٹ (ماہر بشریات) ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت گندھارا کے مجسموں کی نقل بنانے کو قانونی قرار دے تو ملک کو اس کے اصل ثقافتی خزانے سے محروم ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور سنگ تراشی کے مرتے ہوئے فن کو بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے قوانین میں اصل نقل اور جعلی سب ہی کو ایک کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اصل اثاثے کی اسمگلنگ کو روکنے کےلیے ہم نے ضرورت سے زیادہ احتیاط برتی ہے۔ لیکن پھر بھی اصل نوادرات کی اسمگلنگ کو روک نہیں پائے۔ ہمیں قوانین کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے صدیوں پرانے گندھارا سنگ تراشی کے فن کو بحال کرسکیں جو دنیا بھر میں ہماری پہچان ہے۔ کیوں ہمیں چاہیے کہ ہم ان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیں۔
ڈاکٹر ندیم عمر کا کہنا ہے کہ اصل گندھارا نوادرات کی سب سے زیادہ اسمگلنگ خیبرپختونخوا میں غیرقانونی کھدائی کے ذریعے ہورہی ہے۔ یہاں ہزاروں کے قریب تاریخی اہمیت کے حامل آثار قدیمہ کے مقامات ہیں جن میں سے چند ہی مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
پاکستان میں گندھارا آرٹ کے اصل نوادرات اور اصل کے نام پر نقل بیچنے کا سارا کام خفیہ طور پر ہورہا ہے۔ بلیک مارکیٹ میں اس کی بڑی مانگ ہے جہاں یہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ اگر نقل کو اس شرط پر بیچنے کی اجازت دے دی جائے کہ اس پر یہ کھدا ہوا ہو کہ یہ نقلی مجسمہ ہے تو اس سے جعلسازی کا خدشہ دور ہوجائے گا اور نقل کے ساتھ اصلی نوادرات کی اسمگلنگ کا راستہ بھی بند ہو جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالصمد جیسے ماہر آثار قدیمہ اس سوچ سے متفق نہیں۔ عبدالصمد خبیرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھر کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ذرا اسمگلرز کی نظر سے معاملے کو دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ نئی مورتیوں کو زمین میں دبا کر اس پر کیمیکل استعمال کرکے اسے ہزاروں سال پرانا کرکے بیچ سکتے ہیں تو ان کےلیے کسی بھی مجسمے سے آثار قدیمہ کی مہر ہٹانا کتنا آسان ہوگا۔ ہم تو جب ریاستی سطح پر بھی دوسرے ملکوں کو تحفہ دینے کےلیے بدھا کے مجسمے بنواتے ہیں تو انہیں بھی تاریخی مجسموں کی طرح شیست پتھر سے نہیں بنوایا جاتا بلکہ چونے یا کسی اور پتھر سے بنوایا جاتا ہے تاکہ ان پر اصل کا گمان نہ ہو۔ ڈاکٹر عبدالصمد کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ غیر قانونی کھدایوں اور مجسمہ سازی پر پولیس سے رابطہ کرتا ہے اور پھر معاملہ عدالتوں میں جاتا ہے۔ اس وقت محکمے کی طرف سے 120 کسیز رجسٹر کروائے گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی کو سزا نہیں ہوسکی۔
ہم یہ چاہتے تھے کہ ہمیں مجسٹریٹ کی سطح کے اختیارات دیے جائیں۔ لیکن حکومت نے یہ بات نہیں مانی۔ ہمارے پاس ایک اینٹی کوئٹی ٹریڈ کنڑول فورس بھی ہے۔ لیکن اختیارات کے بغیر اسے استعمال کرنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آثار قدیمہ کی چھ ہزار سائٹس ہیں۔ اگر ایک سائٹ کی چوبیس گھنٹے حفاظت کرنا ہو تو اس کےلیے اٹھارہ ہزار افراد درکار ہیں۔ ان کی دیکھ بھال اور بحالی تو ایک طرف جب تک کمیونٹی خود اس کی ملکیت نہیں لے گی، ثقافتی خزانے کی لوٹ مار جاری رہے گی۔
لیکن افتخار احمد اور ان کے جیسے سنگ تراشوں کےلیے تو ان کا خاندانی ہنر داؤ پر لگا ہے۔ ایسا ہنر جس کی دنیا بھر میں مانگ بھی ہے اور جو پاکستان کی پہچان بھی ہے۔ اگر حکومت سیاحت کا فروغ چاہتی ہے تو اسے گندھارا کے شاہکاروں کی بالکل اصل جیسی نقل بنانے اور بیچنے کی اجازت دینا ہوگی۔ افتخار اور ان کے والد دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور عجائب گھروں میں اس فن کے حوالے سے پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔ اور امریکہ سمیت کئی ملکوں میں سنگ تراشی میں دلچسپی رکھنے والوں کو گندھارا کے فن پارے بنانے کی تربیت بھی دے چکے ہیں۔

میرے والد کو تو سرکار نے سنگ تراشی کے فن کو زندہ کرنے پر ستارہ امتیاز بھی دیا۔ ایک ایسے کام پر جسے کرنا غیرقانونی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مستقبل کافی تاریک دکھائی دے رہا ہے۔
’لگتا ایسا ہے کہ گندھارا آرٹ دوبارہ سے زمین میں دفن ہونے والا ہے۔‘
افتخار نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
