پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کا حکومتی دعویٰ جھوٹا نکلا


وفاقی وزیر ہوابازی کی جعلی ڈگری کی طرح ان کا پائلٹس کے جعلی لائسنس رکھنے کا مؤقف بھی جھوٹا نکلا ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنسز کو اصلی اور درست قرار دے دیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے اومان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ایک خط میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تمام لائسنس اصلی ہیں اور درست طریقہ سے جاری کیے گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے پائلٹس کے لائسنسوں کی تصدیق کے بعد وفاقی وزیر کے بیان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔’
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ڈی جی سول ایوی ایشن کی جانب سے لکھے گئے خط میں غیر ملکی ایئر لائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کی وضاحت کی گئی ہے اور کلیئرنس دی گئی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ‘ جب چند پائلٹس کے لائسنس کی درستگی کے حوالے سے خدشات سامنے آئے تو وفاقی حکومت نے ہوائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے لائسنس کی فرانزک تصدیق کا عمل شروع کیا۔ اس عمل کے دوران کمپیوٹر پر لینے والے امتحان جو کہ لائسنس جاری کرنے کا ایک مرحلہ ہے میں کچھ تضادات سامنے آئے، جس پر فوری طور پر ایسے پائلٹس کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے جہاز اڑانے سے روک دیا گیا۔ یہ تمام اقدامات دنیا بھر کے ائیر سیفٹی کے حوالے سے تحفظات پر اٹھائے گئے۔ خط میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ ‘ سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے تمام لائسنس درست اور صحیح طریقے سے جاری کیے گئے ہیں اور کوئی بھی لائسنس جعلی نہیں ہے اور یہ معاملہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر غلط انداز سے اٹھایا گیا۔’ تاہم ماہرین سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اس خط کو وزیر ہوا بازی کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے ازالے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے پہلے پاکستانی پائلٹس پر جعلی لائسنس رکھنے کا الزام عائد کیا اور بعد ازاں لائسنس مشتبہ ہونے کا بیان بھی دیا۔ تاہم تین ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات، پی آئی اے کی پروازوں پرامریکہ، پرطانیہ اور یورپی یونین سمیت مختلف ممالک میں عائد پابندیوں اور پاکستانی پائلٹس کو گراونڈ کرنے اور نوکریوں سے برخاست کرنے کے اقدامات کے باوجود لائسنس جاری کرنے والی ریگولیٹری اتھارٹی سول ایوی ایشن واضح موقف کے ساتھ سامنے نہیں آئی۔ تاہم ڈی جی سول ایوی ایشن کے اس خط کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ لیا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر غلام سرور خان کی جانب سے اس خط پر کوئی رد عمل تا حال سامنے نہیں آیا۔
موجودہ صورتحال میں ماہرین سول ایوی ایوی ایشن وفاقی وزیر کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں۔ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن ایئر وائس مارشل (ر) عابد راؤ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جس کا خمیازہ سول ایوی ایشن، پی آئی اے، بیرون ملک کام کرنے والے پائلٹس بھگت رہے ہیں اور ملک کی بدنامی الگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ‘پائلٹس کی جعلی ڈگریوں والا معاملہ ضرور تھا لیکن اس کا جعلی لائسنس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو پائلٹس جہاز اڑا رہے ہیں وہ جہاز اڑانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پی آئی اے میں جب گریجویشن کی شرط لازم کر دی گئی تو چند لوگوں نے گریجویشن کی جعلی ڈگریاں جمع کروائیں جس کی تحقیقات خود پی آئی اے بھی کر رہا تھا، ڈگری جعلی ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پائلٹ کا لائسنس جعلی تھا۔ عابد راؤ کے مطابق ‘اب سول ایوی ایشن اتھارٹی پائلٹس کے لائسنس کو کلیئر قرار دے رہی ہے اور وزیر ہوا بازی کے بیان سے جو نقصان ہوا ہے اس کے ازالے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’
ماہر ہوابازی اعتزاز پاشا نے پائلٹس کو لائسنس جاری کرنے کے بارے میں کہنا ہے کہ ‘سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیا گیا لائسنس جعلی نہیں ہو سکتا یا تو لائسنس درست ہوتا ہے یا پھر منسوخ شدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل مینجر لائسنسگ، ڈائریکٹر جنرل ریگولیٹری اور ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل، لائسنس جاری کرنے اور ریکارڈ رکھنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ ‘کوئی بھی پائلٹ بغیر سیمولیٹر ٹیسٹ، میڈیکل اور پائلٹ پروفیشنسی ٹیسٹ کے لائسنس حاصل نہیں کر سکتا جو کہ سول ایوی ایشن انسپکٹر ہر چھ ماہ بعد لیتے ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کی جانب سے لکھا گیا خط اس صورتحال میں ریگولیٹری ادارے کی جانب سے پہلا ردعمل ہے، جس کے ذریعے بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کے روزگار بچانے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن اس ساری صورتحال نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کی ساکھ کو شدید متاثر کیاہے۔
دوسری طرف پاکستانی پائلٹس کی تنظیم پالپا کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پائلٹس کے لائسنسوں کو کلیئر قرار دینا ہمارے مؤقف کی جیت ہے۔ پالپا کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی وزیر کی جانب سے پائلٹس کے لائسنس کو مشکوک قرار دینے سے پی آئی اے کی ساکھ متاثر ہوئی اور پوری دنیا میں اسکے آپریشن بھی معطل ہو گے ہیں جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ اب ڈی جی سی اے اے نے خود تسلیم کرلیا کہ سی اے اے نے درست لائسنس جاری کیے، یوں ثابت یوا کہ پائلٹس کے لائسنس کے معاملے کو غلط انداز میں میڈیا اورسوشل میڈیا پر پیش کیا گیا۔ وزیر ہوا بازی اور پی آئی اے انتظامیہ نے قومی ائیر لائن اور دیگر ملکوں میں کام کرنے والے پائلٹس کو نقصان پہنچایا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے قومی ائیرلائن کے 200 سے زائد پائلٹس کے لائسنس کو جعلی قرار دیا تھا۔وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے بیان کے بعد امریکا اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے پی آئی اے کے پائلٹس کوطیارے اڑانے سے روک دیا تھا اور پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button