پارلیمانی کمیٹی دفاع نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا

پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے برّی فوج کے سربراہ سمیت تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بل بغیر کسی ترمیم کے منظور کر لیے ہیں. آرمی ایکٹ ترمیمی بلز4 جنوری کومنظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش ہوں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس 3 جنوری کو کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کی سربراہی میں ہوا جس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے حصہ لیا۔ اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی کی دعوت پر شریک ہوئے۔
قائمہ کمیٹی نے جس مسودۂ قانون کی منظوری دی اس کے تحت بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کو مدت ملازمت پوری کرنے پر صدرِ پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر تین برس کے لیے دوبارہ تعینات یا ان کی مدتِ ملازمت میں اس مدت کے لیے توسیع کر سکیں گے۔ مسودۂ قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ قانون کے مطابق یہ توسیع صرف ایک مرتبہ ہی دی جا سکے گی اور 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جنرل ریٹائر تصور ہو گا۔
قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے بعد وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اجلاس میں حزب مخالف کی طرف سے اس بل میں کوئی ترمیم تجویز نہیں کی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری میں کوئی جلدبازی نہیں کی گئی ہے۔ اُنھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ یہ بل کسی شخصیت کی وجہ سے لایا جا رہا ہے۔ وزیر قانون نے اس بل کو منظور کرنے پر حزب مخالف کی جماعتوں اور حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔
وفاقی وزیر دفاع اجلاس کے دوران اُٹھ کر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں گئے تو صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا بل کو منظور کرنے میں کوئی ابہام پیدا ہو گیا ہے جس پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مشترکہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نمائندے نے اختلاف کرتے ہوئے آرمی چیف کو توسیع نہ دینے کا مطالبہ کیا۔ جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر طلحہ محمود نے بھی آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے بارے میں کچھ سوالات اُٹھائے تاہم وزیر قانون اور وزیر دفاع نے ان سوالوں کے جواب دئیے۔
وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹی سے مجوزہ بل کی منظوری کے بعد اب اسے 4 جنوری کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس 4 جنوری کو صبح 11 بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی سے شق وار منظوری کے بعد اس بل کو منظوری کے لیے اسی روز سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
قبل ازیں 3 جنوری کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا تو پارلیمان کے قواعد کو معطل کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک کو پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) ایکٹ 2020 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) ایکٹ 2020 ایوان کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔
ابتدا میں حکومت کی کوشش تھی کہ یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجے بغیر آج ہی پارلیمان سے منظور کروا لیے جائیں تاہم حزب مخالف کی جماعتوں نے جمعے کی صبح قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومتی کمیٹی سے ہونے والی اجلاس میں اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور یہ موقف پیش کیا کہ اس معاملے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پیروی کی جائے۔
بل ایوان میں پیش ہونے سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے سپیکر اسد قیصر سے استدعا کی کہ زیر حراست ممبران قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ وہ ان بلوں پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ لے سکیں جس پر سپیکر اسد قیصر نے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button