مدت ملازمت میں توسیع پر عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کی

وزیراعظم عمران خان نے عدلیہ پر اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اہم عہدوں پر تقرری حکومت کا اختیار ہے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق اعتماد میں لیا گیا جبکہ پارلیمانی پارٹی کو نیب ترمیمی آرڈیننس سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی نے سوالات بھی کیے، رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے سوال کیا کہ قانونی سازی کرنا تھی تو حکومت نے نظر ثانی اپیل کیوں کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے خیال میں عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیار میں مداخلت کی، اہم عہدوں پر تقرری حکومت کا اختیار ہے لہذا نظرثانی اپیل میں اختیارات کے تعین سے متعلق نکات اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کیا، حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی مکمل کی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سوچ سمجھ کر کی ہے، یہ معاملہ عدالت میں نہیں جانا چاہیے تھا لیکن ہم قانون سازی کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ اور اتحادیوں نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کردی ہے، ہم نے عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرنا بلکہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔
اجلاس کے شرکاء کو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نظرثانی اپیل میں اختیارات کے تعین سے متعلق نکات اٹھائے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل نے شرکاء کو نیب آرڈیننس کے خدوخال پر بھی بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بیوروکریٹ اور کاروباری طبقے کو نیب سے متعلق تحفظات تھے جس کی وجہ سے ملکی ترقی رک گئی تھی، ملکی مفاد میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 لانا پڑا، اپوزیشن کے ساتھ حکومتی کمیٹی نیب آرڈیننس پر مشاورت کر رہی ہے۔
