پاکستانیوں نے کیش کو بائے بائے کیوں کہنا شروع کر دیا؟

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اب پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی کیش کی بجائے ڈیجیٹل ادائیگوں کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئی ہے، جس سے کیش کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ بینکاری کے علاوہ ای کامرس ٹرانزیکشن میں دُگنا سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ کاغذی لین دین میں ایک فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

مالی سال 2022 کے دوران موبائل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 84 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ بینکاری استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 23 لاکھ تک پہنچ گئی۔ مرکزی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2022 کے دوران کاغذی لین دین میں بلحاظ حجم 1.0 فیصد کمی آئی مگر بلحاظ مالیت 190 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا، جو تقریباً 25 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ موبائل فون بینکاری کی ٹرانزیکنشز میں 100 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ بڑھ کر 387 ملین تک پہنچ گئی ہیں جبکہ انٹرنیٹ بینکاری میں 51 فیصد اضافہ ہوا، موبائل فون بینکاری کے ذریعے 12 ٹریلین روپے کا لین دین ہوا جبکہ انٹرنیٹ کے ذریعے 10 ٹریلین روپے تک کا لین دین ہوا ہے۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے سٹیٹ بینک مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اسی میں ’راست‘ بینکنگ کا نظام شامل ہے جو گزشتہ مالی سال میں متعارف کرایا گیا۔راست بینکنگ کے ذریعے صارف کا فون نمبر ہی اس کا بینک اکاونٹ نمبر بن جاتا ہے اور رقم کی وصولی یا ترسیل کے لیے کسی کو کئی ہندسوں پر مشتمل بینک اکاؤنٹ نمبر دینا پڑتا ہے اور نہ ہی بینک اور برانچ کی تفصیلات فراہم کرنا پڑتی ہیں۔ اگر آپ موبائل ایپ یا انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے کسی کے فون نمبر پر ہی رقم بھیج دیں تو وہ اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائے گی۔ تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ اس نے اپنے اکاؤنٹ کے ساتھ اپنے نمبر کو راست سے منسلک کر لیا ہو۔ اس کا طریقہ تقریباً ہر بڑے بینک کی موبائل ایپلی کیشن میں دیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جون 2022 تک راست استعمال کنندگان کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تھی جنہوں نے 102 ارب روپے مالیت کی ٹرانزیکشنز انجام دیں۔ ای کامرس کی ٹرانزیکشنوں میں بھی ایسے ہی رجحانات دیکھے گئے اور ان کا حجم 107 فیصد اضافے کے ساتھ 45 ملین اور مالیت 74 فیصد اضافے کے ساتھ 106 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ مالی سال 2022 کے دوران مجموعی طور پر ملک میں 32 ہزار 958 پوائنٹ آف سیل مشینیں نصب کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں پی او ایس مشینوں کا نیٹ ورک 45 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ  4 ہزار 865 مشینوں تک پہنچ گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں اے ٹی ایم کا نیٹ ورک 5 فیصد اضافے سے ایک ہزار سات سو اے ٹی ایم تک پہنچ گیا ہے۔ اے ٹی ایم کے ذریعے کُل 692 ملین کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مالیت 20 ٹریلین روپے ہے جو گزشتہ مالی سال سے 19 فیصد زیادہ ہے۔

Back to top button