پاکستانی ائیر لائینز پر 5 سالہ پابندی سے 250 ارب روپے کا نقصان

برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز کے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر عائد پابندی ختم تو کر دی ہے لیکن پانچ سالہ پابندی کی وجہ قومی خزانے کو ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سو ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا جس کا ذمہ دار صرف ایک شخص یعنی سابق وفاقی وزیر برائے ہوازی غلام سرور خان تھا۔
خیال رہے کہ یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پابندی کے اطلاق سے قبل صرف پی آئی اے کی سالانہ آمدن میں یورپ اور امریکہ کا حصہ 37 فیصد بنتا تھا، یعنی پابندی عائد ہونے سے قبل پی آئی اے اپنی آمدن کا 37 فیصد حصہ یورپ اور برطانیہ کے فلائیٹ آپریشنز سے حاصل کر رہا تھا جو تقریباً 50 ارب روپے سالانہ ہے۔ اس میں 40 فیصد ریونیو برطانیہ سے حاصل ہو رہا تھا جبکہ باقی کمائی یورپ سے ہو رہی تھی۔
پی آئی اے کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ پابندی ہٹ جانے کے باوجود ہم ایک دم پابندی سے پہلے والے لیول پر آپریٹ نہیں کر سکتے، یہ عمل مرحلہ وار ہو گا، پہلے ہمیں مارکیٹ کو دیکھنا ہو گا، گراؤنڈ لیول پر انتظامات وغیرہ کا جائزہ لینا ہوگا اور پھر فلائٹ آپریشنز شروع کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا صرف برطانیہ میں تین فلائٹ آپریشنز کے آغاز سے ہی پی آئی اے کو تقریباً 12 ارب کا ریوینو ملے گا۔ پی آئی اے تین پروازوں سے آغاز کر رہا ہے جنہیں بتدریج بڑھایا جائے گا اور لندن اور برمنگھم کے روٹس بھی شامل کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ یومِ آزادی یعنی 14 اگست سے برطانیہ کے لیے پروازوں کا آغاز کیا جائے۔
ادھر پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نام برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے حذف کر دیا گیا اور اب پاکستانی ایئرلائنز برطانیہ میں فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے اپلائی کر سکتی ہے۔
یاد رہے برطانیہ اور یورپی ایوی ایشن حکام نے جولائی 2020 میں پاکستانی ایئرلائنز پر پابندی عائد کی تھی، تاہم لگ بھگ ساڑھے چار سال کی پابندی کے بعد 29 نومبر 2024 کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے سمیت نجی فضائی کمپنیوں پر یورپ میں فلائٹ آپریشن پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
برطانوی ہائی کمشن کی طرف سے کہا گیا کہ ’ایئر سیفٹی کے اقدامات میں بہتری کے بعد برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز پر سے عائد پابندی کو ہٹا دیا، تاہم اب بھی ہر ایئرلائن کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے برطانیہ میں آپریٹ کرنے کی اجازت طلب کرنا ہو گی۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا کہنا ہے کہ ’فلائٹس کی بحالی میں اب بھی کچھ وقت لگے گا لیکن میں برطانیہ میں اپنے خاندان اور دوستوں سے جا کر ملنے کے لیے پاکستانی ایئرلائن میں سفر کرنے کی منتظر ہوں۔‘ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’اللہ کے فضل سے پاکستان ایک بار پھر سرخرو ہوا اور ہماری قومی ایئرلائن کی برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی ہماری ساکھ کی بحالی کا ثبوت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ایک سابق وزیر کے غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد بیان نے پاکستان کو عالمی سطح پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو برسوں تک یورپ اور برطانیہ جیسے اہم بین الاقوامی روٹس سے محروم رہنا پڑا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں 16 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد بستے ہیں جبکہ ہزاروں برطانوی شہری پاکستان میں رہائش پذیر یا مقیم ہیں، اس لیے پروازوں کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان خاندانی روابط، سفری سہولت اور تجارت کے نئے مواقع لے کر آئے گی۔
ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نام برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکلنا ایک اہم سنگ میل ہے اور خوش اسلوبی سے پی آئی اے پر سے پابندیاں ہٹ گئیں ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا 2020 میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے جو کیا وہ ریاست کے خلاف ایک جرم تھا جس کی انھوں نے کوئی وضاحت نہیں دی۔ وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس پابندی کے نتیجے میں قومی شناخت مجروع ہوئی اور قومی ائیر لائن کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
یاد رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش ہونے والے حادثے کے بعد جون 2020 میں تب کے بونگے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں دعوی کر دیا تھا کہ کمرشل پائلٹس کی ایک بڑی تعداد نے ’مشکوک لائسنس‘ حاصل کر رکھے ہیں اور جن کے پاس اصلی لائسنس ہیں ان کی جگہ دوسرے لوگوں نے امتحان دیے تھے۔ اس بیان کے نتیجے میں جنم لینے والے تنازعے اور بحث و مباحثے کے بعد یکم جولائی 2020 کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو چھ ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا تھا، بعد ازاں اپریل 2021 میں یورپین یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر سفری پابندیوں میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی تھی۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والی تمام کمرشل اور چارٹرڈ پروازوں کو ٹی سی او کی اجازت حاصل کرنا لازمی ہوتی ہے۔
