پاکستانی سویلین اداروں میں فوجی افسران کی حکمرانی کیوں؟

ملک میں اس وقت کئی سویلین اداروں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسران کی اچھی خاصی تعداد کام کر رہی ہے،نیب، واپڈا، ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی، اینٹی نارکوٹکس اور سپارکو کے بعد اب ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کو نادرا کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ہے تاہم نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا کے چیئرمین کے عہدے پر حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کے تقرر پر تنقید کا ایک طوفان برپا ہے۔ تاہم حکومت اس تقرری کا بھرپور دفاع کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ چیئرمین نادرا کے عہدے پر ایک جرنیل کی تقرری کو اس لیے بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس عہدے کو انتہائی ٹیکنیکل سمجھا جاتا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ نادرا کے سربراہ کو ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن سے متعلق امور پر بہت مہارت حاصل ہو۔ ناقدین کے مطابق نادرا میں حاضر سروس لیفٹیننٹ کی تقرری پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم حامیوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لئے کی گئی ہے جبکہ کچھ اسے سویلین اداروں پر فوج کا کنڑول بڑھانے کے مترادف گردانتے ہیں۔اس طرح کی تقرری فوج کے پروفیشنلزم کو بھی متاثر کرتی ہے
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس تقرری پہ تبصرہ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا، ” کچھ باقی بچا ہے؟‘‘ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایکس پر لکھا، ”ایک حاضر سروس جنرل کی تعیناتی پر مختلف لوگوں کی طرف سے مختلف ردعمل آئے گا۔ بصد احترام کاش یہ سویلین عہدے، جیسے ڈی جی ملٹری لینڈ اور اب نادرا کی پوسٹ کے بجائے، سیاچن فتح کرتے۔‘‘
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ 50 سال سے وفاقی پارلیمانی اکائی ہے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے پانچ سال کے علاوہ ملک پر ہمیشہ بلا واسطہ یا بالواسطہ جرنیلوں کا کنٹرول رہا ہے۔ انہوں نے بتایا، ”اب پاکستان میں ہائبرڈ نظام ہے، جس میں جرنیل ریاست کے تمام اکائیوں پر مسلط ہیں، چاہے وہ معیشت ہو یا سیاست۔‘‘افراسیاب خٹک کے مطابق ان جرنیلوں کو افسر شاہی سرمایہ دار طبقے کا نام دیا جا سکتا ہے، ”یہ افسر شاہی سرمایہ دار طبقہ، قومی سرمایہ دار طبقے سے مقابلے میں ہے۔ جرنیلوں نے مقابلے کے امتحان کے بغیر ہی سویلین پوسٹوں پہ قبضہ کیا ہوا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ملک میں اس وقت کئی سویلین اداروں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسران کی اچھی خاصی تعداد کام کر رہی ہے، جیسے کہ نیب کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ، واپڈا کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ سجاد غنی، سربراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی جنرل انعام حیدر ملک اور سربراہ اینٹی نارکوٹکس میجر جنرل محمد انیق الرحمان ہیں۔ اس کے علاوہ نیب، این ڈی ایم اے اور نادرا میں کئی دوسرے عہدوں پر بھی فوجی افسران کام کر رہے ہیں۔
تاہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سویلین اداروں میں فوجی تعیناتیوں پر قانون کیا کہتا ہے؟
معروف قانون دان شیعب شاہین ایڈوکیٹ کے مطابق نادرا کے چیئرمین کے تقرر میں قانون کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”قانون کہتا ہے کہ پہلے اشتہار دیا جائے، امیدوار تمام شرائط پر پورا اتریں، پھر سلیکشن کمیٹی تین امیدواروں کے ناموں کی سفارش کرے اور پھر تقرر کیا جائے۔‘‘شیعب شاہین کا الزام ہے کہ اس تقرری میں سارے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
تاہم حکومت کی طرف سے اس تقرری کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مطابق نادرا کا تعلق قومی سلامتی سے ہے اور اس کے پاس بہت اہم ڈیٹا ہے۔ ”قومی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ تقرری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اسپیس کے حوالے سے نئے چیئرمین کا وسیع تجربہ بھی ہے اور وہ اس عہدے کے لیے اہل بھی ہیں۔‘‘
سرفراز بگٹی نے مزید کہا، ”میرے خیال میں ان کا آنا قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔ قومی سلامتی اور آئی ٹی میں ان کے تجربے سے نادرا میں بہتری آئے گی۔ کالی بھیڑوں کی نہ صرف شناخت ہو گی بلکہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں بھی کھڑا کیا جائے گا اور سزا بھی ہو گی۔‘‘
