سعودی عرب کے بعد پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا؟

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ تعلقات استوار ہونےکے امکانات کو دیکھتے ہوئے سیاسی حلقوں میں یہ بحث زوروں سے جاری ہے کہ کیا سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بعد پاکستان بھی اسرائیل سے تعلقات استوار کر لے گا؟سعودی عرب کے اس عمل سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور اس کے مسئلہ کشمیر پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟اس کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا پاکستان بھی عرب ممالک کے ساتھ ہی اسرائیل سے اپنے تعلقات قائم کرسکتا ہے؟ کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر کسی قسم کا دباؤ آسکتا ہے؟ اگر اسلام آباد تل ابیب کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا اسے نقصانات اٹھانا پڑ سکتے ہیں؟
سفارتی و مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرکے کسی معاہدے کو قبول کرنا پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے لیے مشکل ہوگا۔ تاہم عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد پاکستان کے لیے اپنے مؤقف پر قائم رہنا ایک چیلنج ہوگا لیکن تاحال پاکستان کا اسرائیل کو قطعا تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
خارجہ امور کے صحافی کامران یوسف کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی معاہدے کے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم ممالک پر بہت سے اثرات مرتب ہوں گے۔وائس آف امریکہ سے گفتگومیں انہوں نے کہا کہ ریاض اسلامی ممالک کی قیادت کرتا رہا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم یعنی او آئی سی کی بنیاد ہی فلسطین کے معاملے پر رکھی گئی تھی۔ان کے بقول سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی پاکستان پر دباؤ کی خبریں چلتی رہیں کہ اسلام آباد تل ابیب سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔
کامران یوسف نے کہا کہ پاکستان اسلامی ممالک میں بڑا اور اہم ملک ہے اور اسرائیل سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسلام آباد کی شمولیت دیگر مسلم ممالک کی اس معاہدے میں شامل ہونے کی راہ ہموار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے بھی دیگر بڑے مسلم ممالک کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا آسان فیصلہ نہیں ہے کیونکہ اس فیصلے کا عوامی سطح پر ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔
سابق سفیر جاوید حفیظ کے بقول اگر سعودیی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کے حقوق کو مدنظر رکھ کر کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تو پاکستان کو بھی اس کا حصہ بننے میں مشکل نہیں ہو گی۔ تاہم فلسطینیوں کے حقوق کا خیال رکھے بغیر کیا گیا کوئی بھی معاہدہ نہ صرف پاکستان بلکہ سعودی عرب کے لیے بھی مشکل ہوگا کہ وہ اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرسکے۔
امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے بعد پاکستان کے لیے یہ مشکل ہوگا کہ وہ تل ابیب کو تسلیم نہ کرے۔ اس عمل کے نتیجے میں ضروری نہیں کہ اسلام آباد کے تل ابیب سے فوری تعلقات استوار ہوجائیں اور تجارت شروع ہوجائے لیکن کسی محدود سطح پر ہی سہی روابط قائم کرنے پڑ سکتے ہیں۔عادل نجم نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ سعودی عرب پاکستان سے کیا چاہتا ہے اور اس کی جانب سے کس قسم کا دباؤ آتا ہے۔ ان کے بقول خلیجی دوست ممالک پر انحصار کرتے ہوئے کمزور معاشی صور تِ حال میں پاکستان کے لیے فلسطین کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنا مشکل ہوگا۔
کامران یوسف سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد کے پالیسی ساز اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کیوں کہ معاشی طور پر کمزور پاکستان کو اس عمل سے یکسر دور رکھنا مشکل ہوگا۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب پاکستان سعودی عرب اور متحدہ امارات سے بڑی سرمایہ کاری کی توقع کررہا ہے۔
