کیا پاکستان میں ججوں اور جرنیلوں کا احتساب ممکن ہے؟

نواز شریف کی طرف سے 2017 میں اپنی حکومت کے خلاف مبینہ سازش میں ملوث سابق جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد مسلسل یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیا کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر کے ملکی سیاست میں متحرک رہ سکتی ہے۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ نواز شریف اپنے اس بیانیے پر اصرار نہیں کریں گے اور مسلم لیگ (ن) انتقام کے بارے میں سوچنے کی بجائے عوامی بہبود اور ملکی مسائل پر کام کو اپنا شعار بنائے گی۔
ہم سب کی ایک رپورٹ کے مطابق عام طور سے قیاس کیا جاتا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کی مرضی و منشا کے بغیر سیاست نہیں کر سکتی۔ اس طرح احتساب کا معاملہ ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کا احتساب کرنے کے لئے محض سیاسی نعرے بازی یا انتخابی سلوگن اختیار کر کے معاملات درست نہیں کیے جا سکتے۔ ملک میں احتساب کو موثر بنانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے اور سیاسی پارٹیوں اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان مختلف سطح پر جاری غیر رسمی اور غیر قانونی گٹھ جوڑ ختم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر عدلیہ مضبوط ہو اور جج حضرات اپنے ان ساتھیوں کی گرفت کرنے پر آمادہ ہوں جو کسی بیرونی اثر و رسوخ کی وجہ سے حکم جاری کرتے ہیں یا عدالتی فیصلے لکھتے ہیں۔ یہ سب اقدامات ایک ہی ہلے میں نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کوئی انتخابی مہم جوئی اس مقصد کے لیے میدان ہموار کر سکتی ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے بدعنوانی کے بارے میں ایک واضح نظریہ پر اتفاق ضروری ہو گا۔ اس کے بعد ملک کے آئینی، سیاسی و انتظامی ادارے اس اصول کو نافذ کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کریں۔ تب ہی دھیرے دھیرے یہ مزاج استوار ہو سکے گا کہ کسی شخص کو اپنے عہدے کی بنیاد پر ملکی سیاست میں غیر قانونی مداخلت کرنے کا حوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ کام البتہ محتاط منصوبہ بندی اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ عسکری و عدالتی قیادت میں افہام و تفہیم کے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نواز شریف اگر اپنی خواہش کے مطابق بعض سابقہ جرنیلوں یا ججوں کے خلاف کارروائی کروانے میں کامیاب ہو بھی ہوجائیں تو اس سے یہ اصول طے نہیں ہو سکے گا کہ ملکی معاملات کیسے اور کہاں طے کیے جائیں۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ ایک وقت میں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو کرپشن کے الزامات عائد کر کے سیاست سے باہر کرنے اور جیل میں بند کر نے کا اہتمام کیا گیا اور اب چند سابقہ جرنیلوں اور ججوں کو سزا دلوا کر ایک فرد کی مجروح انا کی تسکین کا اہتمام کر لیا جائے۔ اس طرح نظام میں خرابی تو اسی طرح موجود رہے گی لیکن انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ دراز ہو جائے گا۔ اور جن ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد سازی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، ان کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کو اس وقت ایسے تصادم سے گریز اور اس سے باہر نکلنے کی شدید ضرورت ہے۔
دیکھا جائے تو سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کے لیے فوج کو استعمال کرتی ہیں۔ اس میں کامیاب ہو کر فوج کی تحسین کی جاتی ہے اور اگر کوئی فوجی لیڈر کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرے تو پھر وقت آنے پر اس کے خلاف مہم جوئی کی جاتی ہے۔ یہی احتساب کو سیاسی نعرے بازی کا ذریعہ بنانے کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ اصولی طور سے اس خرابی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ یعنی اس بنیاد کو ختم کیا جائے جس کی وجہ سے ملکی فوج سیاسی امور میں دخل اندازی کرتی ہے۔ اگر تمام سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کے لیے فوج کو اپنے ساتھ ملانے کا طریقہ ترک کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو فوج کو بھی سیاست دانوں کو مشورہ دینے اور جوڑ توڑ میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔
