پاکستانی سیاست ڈیلوں کے ذریعے آگے کیوں بڑھتی ہے؟

سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ملکی سیاست ڈیلوں کے ارد گرد گھوم رہی ہے لہذا نہ تو پاکستان کے حالات بدل رہے ہیں اور نہ ہی عوام کے۔ انکا کہنا ہے کہ اسٹیبشلمنٹ اور سیاست دان بار بار کی غلطیوں کے باوجود ماضی سے سبق سیکھنے تیار نہیں۔ ڈیل کی پیشکش کرنے والے اور ڈیل کے طلبگار دونوں ہی صرف اپنا ذاتی مفاد دیکھ رہے ہیں۔ اس دوران انکی جانب سے کیے جانے والے بلندوبانگ دعوے اور نعرے سب زبانی جمع خرچ ہیں، حقیقت بہت تلخ ہے لہذا جب تک ڈیلیں آفر کرنے والے اور انہیں قبول کرنے والے موجود ییں، پاکستان اور اس کے عوام کے حالات سدھرنے کا کوئی امکان نہیں یے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ آج کل نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے شور مچا ہوا یے۔ ایک طرف ن لیگی رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا بیان ہے، دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کا اظہار حیرانی اور پریشانی ہے، پھر صحافیوں کی اس بارے اپنی اطلاعات ہیں، اس سب نے پاکستانی سیاست کو نواز شریف پر مرکوز کر دیا ہے۔ ہر کوئی یہی پوچھ رہا ہے کہ نواز شریف واپس آ رہے ہیں یا نہیں؟ بقول انصار عباسی، جب نواز شریف کی واپسی کی بات ہوتہی ہے تو پھر ڈیل کی بات لازم ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کی واپسی ممکن نہیں۔
اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ڈیل ہو چکی یا پھر ابھی اس میں کچھ رکاوٹیں باقی ہیں؟ انصار عباسی کہتے ہیں کہ یہ سارا شور ایاز صادق کے بیان سے پیدا ہوا جو حال ہی میں نواز شریف سے لندن میں ملاقات کے بعد واپس لوٹے اور آتے ہی میڈیا پر چھا گئے۔ ایاز کہتے ہیں کہ’’ جلد کچھ بڑا ہونے والا ہے اور جو ہو گا وہ دھماکہ ہو گا‘‘۔ ایاز صادق نے یہ بھی کہا کہ وہ میاں صاحب کو واپس لانے کے لیے دوبارہ لندن جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ نواز شریف اس سے پہلے ہی وطن واپس لوٹ آئیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں، اور وہ جلد واپس آئیں گے۔ میاں صاحب خود بھی اپنی ایک تقریر میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ بہت جلد پاکستان واپس پہنچ جائیں گے۔
اسی ماحول میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ترجمانوں کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف کی واپسی کی خبروں پر اظہار حیرانی کیا۔ لیکن ترجمانوں کے اجلاس کے حوالے سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی اس میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم ان افواہوں پر حیران تھے کہ کس طرح ایک سزا یافتہ شخص ملک واپس آکر پہلے عدالتوں سے اہل قرار پائے گا اور پھر چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بھی بن جائے گا۔ عمران خان نے اجلاس میں اپنے رفقا کو بتایا کہ نواز شریف کی نااہلی ختم کروانے کے رستے نکالے جا رہے ہیں، اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سزا یافتہ مجرموں کو اس طرح چھوڑنا ہے تو جیلوں کے دروازے کھول دیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نواز شریف کی نااہلی ختم کروانے کی سازش کس نے تیار کی ہے اور اگر عدالتیں ایسا کرنے جا رہی ہیں تو کیا اسے سازش کہا جاسکتا ہے۔
بعد ازاں کپتان حکومت کے مشیر احتساب شہزاد اکبر سے جیو ٹی وی کے پروگرام میں پوچھا گیا کہ وزیراعظم کو یہ اطلاع کہاں سے ملی کہ نواز شریف کی نااہلی ختم کروانے کی سازش تیار ہو رہی ہے، جواب میں شہزاد اکبر نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس طرح کی افواہیں سننے میں آ رہی ہیں کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نواز شریف کی تاحیات نااہل کو چیلنج کرنے جا رہی ہے۔
اس ماحول میں سینئر صحافی سلیم صافی کا ایک ٹویٹ بڑی اہمیت اختیار کر گیا جس میں وہ لکھتے ہیں: ’’ایک ضروری اعلان سنیے: میاں نواز شریف جنوری میں پاکستان آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ منصوبے کے مطابق واپسی پر جیل جائیں گے، پھر عدالتوں سے ریلیف اور سابقہ سزاؤں کے خاتمے کی اپیلیں ہوں گی۔ ڈی جی نیب لاہور کا تبادلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جبکہ نواز شریف اسکرپٹ سے مطمئن ہیں۔ اعلان ختم ہوا۔‘‘
انصار واپسی کہتے ہیں کہ ان حالات میں سوال پھر وہی یے کہ کیا ڈیل ہو چکی، یا ابھی ہو رہی ہے، اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سوالات پر بحث اور مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ ڈیل آفر کرنے والے کا نام وزیر اعظم نے بھی نہیں لیا، یہ بھی نہیں بتایا کہ کون لوگ نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہے ہیں، ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون سے غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں، سلیم صافی نے بھی نہیں بتایا کہ نیا سیاسی اسکرپٹ کس نے لکھا ہے جس سے نواز شریف بھی مطمئن ہیں۔
انصار عباسی یاد دلاتے ہیں کہ حال ہی میں آصف زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے دینے والے اُن کی مدد بھی لینے آئے تھے تاکہ ملک کو موجودہ بھنور سے نکالا جا سکے، اس پر اُنہوں نے فارمولے دینے والوں کو کہا کہ پہلے عمران کو نکالو پھر ہم سے بات کرنا۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔
سچ کیا ہے، کون سی ڈیل کس سے فائنل ہوتی ہے، عمران خان حکومت کا کیا بنتا ہے، آئندہ کون آگے آئے گا یا کسی کو غیبی مدد سے آگے لایا جائے گا، اس کا انتظار ہے۔ ہعنی تمام سیاسی جماعتیں ڈیل کے ہی انتظار میں ہیں۔ سیاستدان اب تبدیلی کے لیے عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ جو ڈیل کا مزہ لے چکے، وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں، چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اور اُن کے مخالفین کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہ دیں۔ لہذا پاکستانی سیاست ڈیل کے ہی ارد گرد گھوم رہی ہے کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا۔
