پاکستانی عوام راتوں کو کس کے انتظار میں جاگنے لگے؟

’ایک گھنٹے آتی ہے، ایک گھنٹے جاتی ہے‘

’آپ خوش نصیب ہیں، ہمارے ہاں تو رات تقریباً پانچ گھنٹے غائب رہی‘

’رات بھر تیری یاد نہیں بار بار جانے والی لائٹ جگاتی ہے‘

یہ وہ چند جملے ہیں جو پاکستان کے مختلف حصوں میں ہونے والی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنی ٹویٹس میں لکھے ہیں۔ان دنوں پاکستان کا طول و عرض شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ کہیں دن بھر سورج آگ برساتا ہے تو کہیں رات کو شدید حبس کے باعث لوگ پسینے میں شرابور ہیں۔ ایسے میں ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی آنکھ مچولی نے گرمی کے ستائے عوام کے صبر کا پیمانے بھی لبریز کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر لوگ موسم گرما میں غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کی دہائیاں دے رہے ہیں۔

وزارت توانائی کے حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی کا شارٹ فال چھ ہزار 765 میگاواٹ ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار 20 ہزار 235 میگاواٹ ہے جبکہ ملک بھر میں بجلی کی طلب 27 ہزار میگا واٹ ہے۔بجلی کی طلب و رسد میں اس قدر فرق کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں بسنے والوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

مگر ایسا پہلی بار نہیں کہ گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان میں بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہو جائے لیکن اس بار پاکستان میں جون کے آخری عشرے میں پڑنے والی شدید گرمی کی شدت غیر معمولی ہے اور پاکستان کے بیشتر علاقوں میں ہیٹ ویو کے دوران درجہ حرارت معمول سے چار سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ بڑھا ہوا ہے۔ایسے میں شہری علاقوں میں اگر کم از کم دو گھنٹے بجلی جا رہی ہے تو دیہی علاقوں میں یہی دورانیہ آٹھ سے دس گھنٹے پر پہنچ گیا ہے جبکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سوشل میڈیا صارفین کے مطابق بجلی آتی کم اور جاتی زیادہ ہے۔

آخر مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مختلف کیوں ہے۔ اس پر بات آگے چل کر۔ پہلے جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر گرم موسم کے دوران بجلی کی بندش پر کیا بحث جاری ہے۔ایک صارف نے ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’علامہ اقبال کے بعد اگر کسی نے اس قوم کو جگایا ہے تو وہ واپڈا ہے۔‘

رانا آصف شہزاد نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے بجلی بار بار جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب 1931 میں بجلی کے موجد تھامس ایڈیسن کا انتقال ہوا تو دنیا کی بجلی ان کی یاد میں ایک منٹ کے لئے بند کر دی گئی ، لیکن پاکستان میں آج بھی ان کی یاد میں ہر دو گھنٹے بعد بجلی ایک یا دو گھنٹے کے لیے بند کی جاتی ہے۔ محبت اور احترام کا یہ رشتہ کافی عرصہ سے قائم ہے۔‘

ہادیہ نامی صارف نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پرعضے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ رات کو تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے بجلی بند کرنے کا کیا کام ہے؟ مطلب بالکل ہی ٹھان لی ہے کہ عوام کسی طرح سکون نا لے پائے۔ پہلے آدھی رات کو بجلی بھیج رہے تھے اب فجر کے وقت بھی یہ تماشا شروع ہو گیا ہے۔۔۔ ان کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں جو مرضی کرتے رہیں۔‘کئی صارفین نے جہاں طویل لوڈ شیڈنگ کا رونا رویا وہیں یہ بھی بتایا کہ کم وولٹیج کے سبب بجلی کا آنا نہ آنا برابر ہے تو کئی صارفین کا کہنا تھا کہ بجلی کا بل ادا کرنے کے باوجود طویل لوڈ شیڈنگ سے دن و رات کا سکون برباد ہو چلا ہے۔

بجلی کی بندش پر جہاں صارفین کی بڑی تعداد بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ اپنی ناراضگی اور غصے کا اظہار کر رہی ہے وہیں کئی بجلی کی بندش کا شکوہ مختلف میمز اور ہلکے پھلکے انداز سے کر کے گویا اپنا غم غلط کرنے کی کوشش میں ہیں۔کراچی سے یاسمین ناز نامی صارف نے لکھا ’رات بھر تیری یاد نہیں بار بار جانے والی لائٹ جگاتی ہے۔ کراچی الیکٹرک رحم ظل الٰہی ہم بھی انسان ہیں بدقسمتی سے کراچی کے مکین ہیں‘

خیال رہے کہ پاکستان میں موسم گرما کے شروع ہوتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو جاتی ہے اس کا آسان جواب یہی ہے کہ اس دوران بجلی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ایندھن پرمہنگی بجلی بنائے جانے کے باعث طلب اور رسد کا فرق لوڈ شیڈنگ کی وجہ بنتا ہے۔پاکستان میں بجلی کی ترسیل کے ذمہ دار ادارے نیشنل سپلائی اور ڈسٹربیوشن کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ایک اہلکار نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرمی میں ایئر کنڈیشنز زیادہ تعداد میں چلانے کے باعث بجلی کی طلب میں یکدم اضافہ ہوتا ہے۔’ایئرکنڈیشن کے زیادہ استعمال کے باعث سسٹم پر لوڈ پڑتا ہے اور اس کی مینیجمنٹ کے لیے لوڈ شیڈنگ کا شیڈول مرتب کیا جاتا ہے اور بجلی کی بندش کا یہ شیڈول ڈسکوز( بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں) طے کرتی ہیں کہ ان کے گرڈ پر طلب اور رسد میں فرق کے باعث کتنی لوڈ شیڈنگ ہونا ہے۔‘

Back to top button